Sun, Feb 28, 2021

رمضان کا مقصد مومن کی عملی تربیت
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

بلا شبہ رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے شمار نیکیوں کے حصول کا نہایت زرین موقع اور بندہ مومن کی عملی تربیت ربانی نسخہ ہے ،ماہ رمضان میں مخصوص عبادات کی عملی تربیت کے ذریعہ مومن کے مزاج کو شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی عملی مشق کروائی جاتی ہے تاکہ اس تربیت کا اثر پورے سال اس کی زندگی پر چھایا رہے اور رمضان کی طرح غیر رمضان میں بھی شریعت اور اس کے احکام کی پابندی کے ساتھ گزارنا اس کے لئے سہل ہو جائے، جو لوگ نفسانی خواہشات ،شیطانی چالوں اور دنیوی چمک دمک کے فریبی جال میں پھنس کر شاہراہ شریعت اور اس کے اصولوں سے ہٹ کر زندگی گزارنے لگتے ہیں رمضان انہیں عملی تربیت کے ذریعہ شریعت کے راستہ پر دوبارہ لانے اور اس کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا انہیں پابند بناتا ہے ،جس طرح لوگ اپنی صلاحیتوں کو جلا بخشنے اور ہنر میں پختگی لانے کے لئے مخصوص اوقات یا پھر سالانہ تربیتی کیمپ منعقد کرتے ہیں اسی طرح شریعت کی جانب سے بھی اہل ایمان کے لئے ایمان میں تازگی پیدا کرنے ،تقویٰ پر قائم رہنے اور شرعی اصولوںکے مطابق زندگی گزرنے کے لئے رمضان المبارک میں سالانہ روحانی تربیتی نظام مقرر کیاجاتا ہے ،یقینا جو شخص اس ماہ کی تربیت سے مکمل استفادہ کرتا ہے اسے روحانی عروج عطا ہوتا ہے اور اس کے لئے شیطانی ونفسانی پُر خطر راہوں میں بھی شریعت کا راستہ طے کرنا آسان ہو جاتا ہے، رمضان المبارک ایک مسلمان و مومن کے لئے عبادات میں پختگی پیداکرنے ،اخلاص وللہیت کے زینے طے کرنے اور راحانی ترقی کے حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ، اس ماہ میں بندہ کے مزاج ومذاق کو شرعی حکم پر ڈھالنے کی نہایت موثر انداز میں مشق کروائی گئی تھی ،رمضان المبارک کے بعداگر وہ اس پر بدستور گامزن رہتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس نے صحیح انداز پر تربیت کی ہے اور صحیح معنیٰ میں اس نے تربیت کا اثر بھی قبول کیا کیونکہ رمضان المبارک کا مقصد ہی مومن کی اصلاح وتربیت ہے اور حقیقی طور پر اسے فرماں برداربنانا اور اس تربیت کے ذریعہ بقیہ زندگی کو راہ شریعت پر گامزن کرانا ہے۔
رمضان المبارک کی عبادات وریاضات اور اس کے خصوصی اعمال پر نظر ڈالنے اور اس کا گہرائی سے جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ان عبادات وریاضات کا ایک اہم مقصد اور ایک خاص منشا ہے جس کے لئے بندوں کا اس کا پابند بنایا گیا ہے ، در اصل یہ عبادات کے ساتھ الگ الگ انداز میں مجاہدے بھی ہیں ، ایک طرف جہاں ان عبادات سے خدا کی خوشنودی اور اجر وثواب عطا ہوتا ہے وہیں عبادات و مجاہدات کے ذریعہ شریعت کے تقاضوں پر چلنے کی تربیت دی جاتی ہے، مجاہدہ کا مقصد ہواء نفس کی مخالفت اور شریعت کی مطابعت ہے،ان عبادات کے ذریعہ مجاہدات اور نفس کی تربیت سے جب وہ نکھر کر کندن بن جاتا ہے تو پھر دیگر مہینوں میں اس کے لئے شریعت کی اتباع آسان وسہل ہوجاتی ہے بلکہ مجاہدہ کے اثر سے اس کا نفس مغلوب ہو جاتا ہے اور حکم شرعی کے تابع ہوکر اس کا مطیع وفرمابردار ہوجاتا ہے۔
٭ ’’ روزہ‘‘یہ دین کا نہ صرف بنیادی فریضہ ہے بلکہ اس کا رکن رکین ہے ،جس کا منکر کافر اور بلاعذر شرعی تارک سخت گنہگار ہے ،روزہ عبادت کے ساتھ نفس اور خواہشات نفس کو قابو میں کرنے کا ایک بہترین نسخہ اور کامیاب ذریعہ بھی ہے ،روزہ نفس اور خوہشات نفس کو دبانے اور اُسے کمزور کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ان نوجوانوں کو روزہ رکھنے کی صلاح دی جو نکاح کے بعد کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے اور آگے اس کا فائدہ بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ روزہ شہوت کو توڑنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے،روزہ کے ذریعہ بندہ کو ایک مقررہ وقت تک بحکم خداوندی حلال چیزوں سے بچنے کا پابند بنایا جاتا ہے جب وہ بحکم شرعی حلال چیزوں سے بچنے کا خود کو پابند بنالیتاہے تو پھر حرام چیزوں سے بچنا اس کے لئے آسان اور سہل ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں پوری زندگی حرام اور مشتبہ چیزوں سے وہ ایسے ہی بچتا رہتا ہے جس طرح رمضان میں حالت روزہ میں حلال چیزوں سے بچاکرتا تھا اور روزہ کا حقیقی مقصد بھی یہی ہے کہ بندہ پوری زندگی حکم ربی کا پابند بن کر گزارے ، ر روزہ کی تربیت کا دوسرا فائدہ غربا ومساکین سے ہمدری اور ان کی خیر خواہی ہے ،روزہ کے ذریعہ روزہ دار کے اندر غربا ومساکین کی بھوک پیاس کا احساس جگایا جاتا ہے تاکہ اس احساس کے پیدا ہونے کے بعد وہ غریبوں ،مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کے لئے ہمہ وقت اپنا دست تعاون دراز کرسکے اور ان سے ہمدردی وخیر خواہی کرتا رہے ،یقینا غربا ومساکین کے ساتھ ہمدری کا جذبہ رکھنے اور ان پر مال ودولت کو خرچ کرنے سے انسانیت سے محبت اور ان کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے تو وہیں یہ عمل خدا کے تقرب ،نعمتوں کے حصول اور دخول جنت کا بھی ذریعہ ہے۔
٭’’ نماز تراویح‘‘ اس اہم ترین عبادت کے لزوم کے ذریعہ نمازوں کی طرف رغبت ،تلاوت قرآن ،سماعت قرآن سے شغف ،سجود وقعود کی حلاوت اور بارگاہ خداوندی میں بار بار اور طویل تر حاضری کا شوق پیدا کیا جاتا ہے ،نماز مہتم بالشان عبادت بلکہ خدا کے تقرب کی علامت ہے ، تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ آٹھاکر بندہ دنیا کی تمام چیزوں سے بیزارگی اور رب کے حضور حاضری کا اظہار کرتا ہے، حالت قیام میں وہ خدا کے سامنے ہوتا ہے تو رکوع میں سر جھاکر اپنی غلامی کا اظہار کرتا ہے ،سجدہ میں اپنی جبین اس کے جناب میں رکھ کر اس کے رب ہونے اور اپنے مربوب ہونے کا اقرار کرتا ہے،اہل علم اور اصحاب تقویٰ فرماتے ہیں نوافل کی پابندی آدمی کو سنتوں کی پابند بنادیتی ہے،سنتوں کی پابندی آدمی کو فرائض کی پابند بنادیتی ہے اور فرائض کا پابند خدا اور رسول خدا ؐ کے حکموں کا پابند اور شریعت مطہرہ کا اسیر بن جاتا ہے ،نماز تراویح بھی بندہ کو خالق سے جوڑ نے کا کام کرتی ہے ، اسے قرآن سے جوڑ تی ہے اور دربار الٰہی میں حاضری کا پابند بناتی ہے،نماز تراویح کی پابندی کرنے والے پر اس تربیت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف پنجوقتہ نمازوں کو پابندی سے ادا کرتا ہے بلکہ راتوں میں اُٹھ کر نماز تہجد پڑھنا اس کے لئے سہل ہوجاتا ہے۔
٭’’ اعتکاف‘‘ معتکف رمضان المبارک کے اخیر عشرہ میں گھر بار سے الگ ،رشتے دار ،دوست احباب سے دور اور کاروبار سے منہ موڑ کر مسجد میں دس دن اعتکاف کے ذریعہ خود کو مقید کرواکر اپنے عمل سے یہ بتا تا ہے کہ خدا وند قدوس کی محبت حقیقی ،اس کا رشتہ دائمی اور باقی سب رشتے عارضی اور وقتی ہیں ، خدا کے علاوہ باقی سب سے تعلق صرف سانس تک ہے ،ان کی خوشی فانی ہے اور ان کی نسبت کامیابی کی ضمانت نہیں ہے ،معتکف دربار عالی میں مقید ہوکر ،خدا سے نسبت جوڑ کر ،محبت الٰہی میں گم ہوکر اور دنیا سے بے رغبت ہوکر یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ آخری سانس تک اس در سے وابستہ رہے گا ، اس کی خاطر گھر بار،دوست احباب ،رشتے ناطے اور مال ودولت سب کچھ قربان کرتا رہے گا اور اس کی محبت ومعرفت ،خوشی و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ رب راضی تو سب راضی۔
٭’’انفاق فی سبیل اللہ ‘‘ یہ ایک اہم ترین عبادت اور رضائے الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے ،یہ خدا کی خوشنودی اور اس کی محبت کو پانے کا بہترین وسیلہ ہے ، رسول اللہ ؐ عام دنوں کے مقابلہ میں رمضان المبارک میں زیادہ خیر خیرات کیا کرتے تھے ،احادیث میں ہے کہ آپ ؐ رمضان المبارک میں تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخاوت فرمایا کرتے تھے،،قرآن مجید خیر خیرات کو قرض حسنہ سے تعبیر کیا گیا ہے ،اس کے ذریعہ خرچ کرنے والے کو اطمینان دلایا گیا کہ جس طرح قرض کی واپسی لازمی ہوا کرتی ہے اور اس کی ادائیگی مقر وض پر ضروری ہوتی ہے ایسے ہی راہ للہ خرچ کئے گئے مال ودولت کی واپسی خدا نے اپنے ذمہ لازم کر رکھی ہے ، مال ودولت کو راہ خدا میں خرچ کرکے یہ احساس پیدا کر انا مقصود ہے کہ دولت تو حقیقت میں اسی خالق ومالک کی ملکیت ہے جو سارے جہان کا خالق ومالک ہے بندہ تو بس اس کا نگران اور امین ہے ، اس احساس کے پیدا ہو نے کے بعد حکم ربی پر مال ودولت خرچ کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔
٭ ’’صدقہ ٔ فطر ‘‘ ،یہ بھی ماہ مقدس کی ایک اہم عبادت اور غربا ء ومساکین کے ساتھ ہمدردی وخیر خواہی کا ایک حصہ ہے ،اس کے وجوب کا مقصد یہ ہے کہ خوشی کے موقع پر غریب ومسکین محروم نہ رہے بلکہ وہ بھی سب کے ساتھ خوشیوں میں شریک رہے ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی مدد ونصرت کرتا ہے اور اسے اپنی خوشیوں میں شریک کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنے دینی بھائی سے محبت وہمدردی کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس عمل کے ذریعہ رب کا محبوب بن جاتا ہے ، جب اس کی عادت خیر خیرات کی بن جاتی ہے تو پھر وہ غیر رمضان میں بھی بلکہ ہر ضرورت پر اپنے بھائیوں کے لئے اپنے ہاتھوں کو دراز کرتا رہتا ہے اور اس کے ذریعہ خدا کی خوشنودی پانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ،اس کا یہ عمل بار گاہ صمدی میں مقام قبولیت پالیتا ہے اور اس کی شان وعظمت میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے ،مومن کی پہنچان ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے خوشی وغم میں اسے تنہا نہیں چھوڑ تا بلکہ ہر موقع پر اس کے ساتھ رہتا ہے ،یقینا رمضان المبارک عبادات مجاہدات کے ذریعہ اپنی زندگی کو سنوار کر استقامت کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے زندگی کو بندگی بنانے اور دنیا وآخرت کی کامیابیوں کو پانے کا زرین موقع تھا اور یہ نزول رمضان کا حقیقی مقصد ومنشا بھی ہے ، رمضان المبارک آیا بھی اور رخصت بھی ہوگیا ، اب یہاں سے بندہ ٔ مومن کا اصل امتحان ہے کہ رمضان المبارک کی تربیت کے بعد اس کی زندگی میں کتنا انقلاب آتا ہے اور اعمال صالحہ کی طرف کس قدر اس کی رغبت میں اضافہ ہوتا ہے ،رمضان کے بعد اعمال صالحہ میں اضافہ ،احکامات پر عمل ، منہیات سے دوری کامیاب تربیت کی پہنچان اور علامت ہے ، اس سے پتہ چلے گا کہ ماہ مقدس کی عبادات وریاضات کا رنگ اس پر چڑھ چکا ہے اور حقیقتاً اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہوا ہے ، یہ اس کے لئے بڑی خوشی ومسرت کی بات ، اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوسکا ،اس پر رمضان کی تربیت کا کچھ اثر نہ ہوا بلکہ جیسے رمضان سے پہلے تھا اب بھی ویسا ہی ہے تو سمجھ لیجئے کہ رمضان اور اس کے اعمال کو اس نے صرف بطور رسم انجام دیا ہے ،اس کے لئے ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے او جد جہد اور مسلسل کوشش کر تے رہنے کی ضرورت ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی بے توجہی اور دین سے بے رغبتی اسے نقصان نہ پہنچائے اور ناقدری کے نتیجہ میں آگے چل کر اس کے لئے دین سے دوری ، دنیوی سکون سے محرومی اور اخروی نعمتوں سے محرومی کا سبب نہ بن جائے ،کیونکہ دین سے دوری ،احکامات الٰہی سے لاپرواہی موجب سزا اور باعث عتاب ہے اس کے مقابلہ میں صراط مستقیم پر بڑی کامیابی اور خدا کی رضا اور اس کی خوشنودی کا بہترین ذریعہ ہے اور یہی مومن کی زندگی کا حاصل اور قیام دنیا کا مقصد بھی ہے ۔