Fri, Feb 26, 2021

تلاشِ شب قدر میں طاق راتیں کیسے گزاریں ؟
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہم کو رمضان المبارک کے تیسرے عشرہ میں محض اپنے کرم سے داخل فرما دیا ہے ،یہ وہی مبارک عشرہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہزار مہینوں سے افضل رات رکھی ہے یعنی اس ایک رات میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر دیا جاتا ہے ،اس مبارک رات کو ’’ قدر‘‘ کہا جاتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس عظیم اور نیکیوں سے بھر پور رات کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں مخفی رکھا ہے ، چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ: تحروالیلۃ القدر فی الوتر من العشر الا واخر من رمضان (بخاری ۲ ؍ ۷۱۰)’’ شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلا ش کرو‘‘ یعنی اکیسویں(۲۱) ،تیٔسویں(۲۳) ،پچیسویں(۲۵)،ستائیسویں(۲۷) اور اُنتیسویں(۲۹) رات میں ، مذکورہ ہر طاق رات میں اس جذبہ ویقین سے عبادت کرو کہ یہ شب قدر ہے ،تلاش شب قدر کے لئے جو لوگ ان راتوں میں کوششیں کرتے ہیں ،عبادات ،نوافل ،ذکر وتلاوت اور دعا واستغفار کے ذریعہ رات گزار تے ہیں تو انہیں ضرور شب قدر کا تحفہ عنایت ہوتا ہے اور وہ دربار الٰہی سے محروم نہیں بلکہ مالامال کئے جاتے ہیں ،خود رسول اللہ ؐ کا معمول بھی یہی تھا کہ آپ ؐ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش شب قدر کا خصوصی اہتمام فرمایا کرتے تھے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ : اذا دخل العشر شد میز رہ واحیا لیلہ وایقظ اھلہ( بخاری:۲۰۲۴)’’ جب رمضان کا اخیر عشرہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ؐ ( شب قدر کی تلاش میں پوری طرح ) کمر کس لیتے تھے اور اپنے افراد خانہ (ازواج مطہرات ودیگر متعلقین ) کو بھی اس جانب توجہ دلاتے تھے( تاکہ انہیں بھی شب قدر حاصل ہو جائے اور ان کے نامہ اعمال میں ایک ہزار مہینوں کی عبادت کا ثواب لکھا جائے )‘‘، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپؐ کے آخری عشر ہ کے معمولات بتلاتے ہوئے فرماتی ہیں کہ : کان رسول اللہ ﷺ یجتھد فی العشرالا واخر ما لا یجتھد فی غیرہ ( مسلم: ۱۷۵ )’’ آپ ؐ رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وغیرہ میں وہ مشقت فرماتے جو دوسرے دنوں میں نہیں فرماتے تھے‘‘ ،شب قدر پانے والوں کو خزانہ ٔ خداوندی سے نہ صرف ایک ہزار مہینوں یعنی تیراسی برس چار مہینوں کا ثواب ملتا ہے بلکہ ان کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئے جانے کا بھی اعلان کیا جاتا ہے ،چنانچہ آپ ؐ کا ارشاد ہے : من قام لیلۃ القدر ایمانا واحتسا با غفرلہ ما تقدم من ذنبہ( بخاری ۲؍ ۶۷۲) ’’جو شخص شب قدر میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ عبادت کیلئے کھڑا ہو گا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جائیں گے‘‘، اس حدیث شریف میں امت کو کس قدر عظیم خوشخبری سنائی گئی ہے کہ صرف اس ایک رات عبادت پر عبادت گزاروں کے پچھلے سارے گناہ معاف کردئے جائیں گے ،گویا شب قدر سابقہ گناہوں کی معافی کا بہترین ذریعہ ہے ،خوش نصیب ہیں وہ لوگ جواس ماہ مبارک اور اسکے ساتھ آخری عشرہ میں عبادتوں کا خوب اہتمام کرتے ہیں اور رحمت الٰہی سے پروانہ ٔ مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
ہر زمانے کے علماء امت ،بزرگان دین اور اولیاء کاملین کا یہ معمول چلا آرہا ہے کہ وہ رمضان المبارک کی آمد سے ایک ماہ قبل ہی تمام مصروفیات سے خود کو فارغ کر لیا کرتے ہیں اور جونہی ماہ مبارک آتا ہے تو باضابطہ رمضان المبارک کے معمولات بناکر اس کے مطابق اوقات رمضان گزارتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے ہوئے اس میں شب قدر پانے کی کوشش کرتے ہیں ،اکثر اکابرین امت کا طاق راتوں میں یہ معمول ہوتا ہے کہ وہ طاق راتوں کو تین حصوں تقسیم کرتے ہیں ،(۱)ایک حصہ نوافل کے لئے ،(۲)دوسرا حصہ تلاوت قرآن کے لئے اور(۳) تیسرا حصہ درود و استغفار اورذکر و دعا کے لئے مختص کرتے ہیں ، ان حضرات کے پیش نظر قران مجید کی یہ آیت ہو تی ہے جس میں تلاوت،نماز اور ذکر کی تلقین کی گئی ہے ، ارشاد ہے : اتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِنَ الْکِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاۃَ إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ وَلَذِکْرُ اللّٰہِ أَکْبَرُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ (العنکبوت ۴۵) ’’جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ،آپ اس کو پڑھا کیجئے ،نماز کی پابندی رکھئیے ،بے شک نماز بے حیائی اور برے کا موں سے روکتی ہے اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے (لہذا خوب ذکر کیجئے)‘‘، چونکہ اس آیت مبارکہ نماز،تلاوت اور ذکر تینوں چیزوں کو جمع کیا گیا ہے اس لئے ان حضرات کا کہنا ہے کہ طاق راتوں میں بطور خاص ان تین چیزوں کا اہتمام زیادہ مفیدہے۔
طاق راتوں میں عبادات کے سلسلہ میں اکا برین امت کے الگ الگ معمولات ہیں ،بعض علماء وبزرگان دین نماز تراویح سے لے کر نماز فجر تک کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور ان میں نوافل ،تلاوت اور ذکر ودعا کا خوب اہتمام کرتے ہیں ،بعض علماء نماز تراویح سے لے کر نماز فجر تک کے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے نماز تراویح اور نماز تہجد ہی میں کثرت سے تلاوت کرتے ہیں اور نمازوں سے فارغ ہو کر ذکر ودعا میں مشغول ہوجاتے ہیں اور بعض علماء نماز تراویح کے بعد سے نماز تہجد سے پہلے تک کے اوقات میں نفل نمازوں کی رکعتوں کو طویل کرتے ہوئے ان میں خوب تلاوت کرتے ہیں اور ان نوافل کے رکوع وسجود میں دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں ،مذکورہ معمولات میں سے جس میں سہولت ہو اس سے استفادہ کرتے ہوئے طاق راتوں میں عبادتوں کا اہتمام کرنا چاہئے ،اہل علم فرماتے ہیں کہ عبادات کے موقع پر بشاشت ، دلجمعی اور حضور قلبی حاصل ر ہنی چاہئے ،دوران عبادت جس وقت بشاشت میں کمی محسوس ہونے لگے تو کچھ دیر کے لئے عبادت موقوف کر لینا چاہئے ،کیونکہ دلجمعی نہ ہونے کے باوجود عبادات جاری رکھنا ایک طرح کی بے ادبی ہے ، اللہ سے محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ جس طرح رحمت الٰہی بندوں کی طرف متوجہ رہتی ہے بندوں کو بھی چاہئے کہ اس وقت دنیا سے دور ہو کر ذات الٰہی کی طرف مکمل متوجہ ہو کر عبادت میں مشغول رہنا چاہئے ، اہل علم فرماتے ہیں کہ ذات الٰہی میں گم ہو کر دورکعت نفل پڑھنا حضور قلبی کے بغیر ساری رات عبادت سے افضل ہے ، اہل علم یہ بھی فرماتے ہیں طاق راتوں کے آخیر حصے میں دیگر دعاؤں کے ساتھ خصوصیت سے اس دعا کا ورد کرنا چاہئے جسے آپؐ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو سکھلایا تھا ،ایک موقع پر انہوں نے پوچھا تھا کہ اے اللہ کے رسول ؐ ؐ! شب قدر کا پتہ چل جائے تو کیا دعا مانگوں ؟ تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : ( اے عایشہ اگر تمہیں شب قدر مل جائے تو اس میں یہ دعا مانگنا) : اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی(ترمذی ۳۵۲۸)’’ اے اللہ ! آپ تو معاف کرنے والے ہیں اور معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے بھی معاف فرمادیجئے‘‘ ۔
یقینا امت پر ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بڑا احسان ہے کہ ان کے پوچھنے پر رسول اللہ ؐ نے یہ نہایت جامع دعا بتلائی تھی اگر اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے ہماری خطا ئیں معاف فرمادیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے ،شب قدر میں نوافل ،تلاوت قرآن ،ذکر واذکار ،تسبیح وتہلیل کے علاوہ دعائیں مانگنے کا خاص اہتمام کرنا چا ہیے کیا بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو اپنے فضل سے قبول فرماکر ایک ہزار سے زائد مہینوں کا ثواب عنایت فرمادیں اور عاجزانہ دعاؤں کو شرف قبولیت عطا کردے ،دنیا میں لوگ معمولی چیز وں کے حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی کو ششیں ، محنت اور لگن کا مظاہرہ کرتے ہیں ، آدمی چند رو پیوں کی خاطر موسمِ گرما کی سختیوں کا مقابلہ کرتا ہے ، سردی کی مشقتوں کو جھیلتا ہے ،رات بھر جاگ کر میٹھی نیند کی قربانی دیتا ہے ،لیکن افسوس کہ بہت سے مسلمان شب قدر کی قدر وقیمت جاننے کے باوجود بھی اسے لہو ولعب ،کھانے پینے اور لایعنی کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں اور اپنی لاپرواہی سے خزانہ آخرت (نیکیوں ) سے محروم ہو جا تے ہیں ،ا تعالیٰ تمام مسلمانوں کو شب قدر کی قدردانی نصیب کرے،ان طاق راتوں کی قدر دانی کرتے ہوئے انہیں عبادات کے ساتھ گزارنے کی توفیق بخشے اور اس کی برکتوں و رحمتوں سے ہم کو اور تمام امت مسلمہ کو مالا مال فرمائیں ،آمین ۔
٭٭٭٭