Sun, Feb 28, 2021

‘‘ حق تلفی ایک سنگین جرم’’  
جینا ہے خوب تو اوروں کے خاطر جیا کرو
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

اسلام ایک کامل ومکمل ضابطہ حیات کا نام ہے ، اس کے پاس انسانوں کے لئے مکمل زندگی گزارنے کا نظام موجود ہے ، اس کے پاس ایک ایسا نظام حیات موجود ہے جس کی رہنمائی میں انسان کبھی بھی دھوکہ نہیں کھا سکتا ،اس کے پاس ایک ایسا مضبوط ومستحکم نظام ہے جسے مضبوطی سے پکڑ لینے کے بعد انسان موت کی آغوش میں جانے تک کبھی بھی شاہراہ زندگی سے بھٹک نہیں سکتا ،اسلامی نظام کا کمال ، اس کا حسن اور اس کی جادوئی تاثیر یہ ہے کہ وہ انسانوں کو صفات انسانی سے مالا مال کر دیتا ہے ،اس کے اخلاقی حسن میں چار چاند لگا دیتا ہے اور اس سے فطری لگاؤ رکھنے والے کو اپنا اسیر بنالیتا ہے ، وہ دنیا کا سب سے زیادہ صحیح اور سب کے لئے یکساں نظام ہے ،اس کی حیات قیامت تک کے لئے ہے ،وہ اپنے اندر بلا کی تاثیر رکھتا ہے ، وہ بگڑے ہوئے انسانوں کو سدھار تا ہے ،بکھرے ہوئے لوگوں کو ملاتا ہے ،اجڑ ے ہوئے گھروں کو بساتا ہے اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ کر ان میں پیار،محبت ،ہمدردی اور ملنساری کے دئے جلاتا ہے ،وہ مظلوم کو انصاف دلاتا ہے،ظالم کو کیفر کردار تک پہنچاتا ہے،عدل کے ترازو کو کسی ایک جانب جھکنے نہیں دیتا ، امیر کو مغرور ہونے نہیں دیتا اور فقیر کو تنہا ہونے نہیں دیتا ،وہ حق دار کو ان کا حق دلاتا ہے اور حق تلفی کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچاتا ہے ۔
انسانوں کو دنیا میں زندگی گزار نے کے لئے ذریعہ معاش لازمی ہے ، ضروریات کی تکمیل کے لئے مختلف معاشی ذرائع کا اختیار کرنا انسانی زندگی کے لئے لازمی امر ہے ، دنیا اسباب کا گھر ہے اس لئے یہاں سب کو اسباب ہی کے ذریعہ دیا جاتا ہے ،یہاں بغیر اسباب کے ضرورتوں کی تکمیل محال ہے، دنیا میں جب سے انسان آباد ہوا ہے تب سے وہ اسباب کے ساتھ جڑا ہوا ہے ، انسانی آبادیوں میں اضافے کے ساتھ انسان معاشی کوششوں کے تحت پیمائش کر تے ہوئے زمین کے چکر لگاتا گیا ،اس وقت پوری دنیا معاشی سرگرمیوں میں گھری ہوئی ہے اور نئی نئی ایجادات کے ذریعہ معاشی ترقیوں کی جانب سفر کرنے لگی ہے ، اسلام نے انسانوں کو معاشی جدجہد کی تعلیم وترغیب دی ہے بلکہ اسلامی اصول وضوابط کی روشنی میں معاشی ترقی کرتے ہوئے نہ صرف خوف مکتفی بن جانے کو پسند کیا ہے بلکہ دوسروں کی کفالت کرنے اور ان کی ضروریات کی تکمیل میں مدد کرنے کے قابلیت پیدا کرنے کی بھی ترغیب دی ہے ،چنانچہ پیغمبرؐ نے اوپر والے ہاتھ ( یعنی دینے والے کو) نیچے والے ہاتھ ( یعنی لینے والے) سے بہتر قرار دیا ہے، اسلام نے جہاں معاشی اصولوں کے ساتھ معاشی سرگرمیوں کے ذریعہ مال ودولت کے حاصل کرنے کی اجازت دی ہے وہیں حاصل ہونے والی آمدنی میں دوسروں کا حصہ شامل کرکے اسے نیکیوں سے مالامال ہونے کا بھر پور موقع عطا کیا ہے ،یہ ایسا خوبصورت اور تواز ن سے بھر پور نظام ہے جس کے ذریعہ ایک طرف معاشی تواز ن برقرار رہتا ہے تو دوسری طرف معاشی تنگی کے شکار انسانوں کو راحت ملتی ہے ۔
اسلام نے معاشی طور پر بدحال اور محتاج افراد کے لئے دو طرح کے معاشی پیکج کا نظم کیا ہے اور مالداروں اور صاحب ثروت لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کی اس پیکج کے ذریعہ مدد کریں ،ایک صدقات وجبہ اور دوسرے صدقات نافلہ ، مالی لحاظ سے خاص قسم کے لوگوں پر صدقات واجبہ کا لزوم ہوتا ہے ،وہ اپنے مال ودولت میں سے مال کا مقررہ حصہ متعینہ لوگوں تک پہنچانا لاازمی ہوتا ہے ،جسے زکوٰۃ کہتے ہیں،دوسرے وہ لوگ جنہیں مالی اعتبار سے فراخی حاصل ہے یا صاحب نصاب حضرات مال زکوٰۃ کے علاوہ اپنے مال سے جتنا چاہے اور کس قدر چائے ضرورمندوں کو دے کر ان کی مدد کریں ،اس کے لئے نہ ہی کوئی خاص مقدار متعین ہے اور دینے کے لئے لوگوں کی تخصیص کی گئی ہے بلکہ ہر وہ شخص جو مالی مشکلات سے دوچار ہے اور معاشی تنگی کی وجہ سے اپنی اور اپنے اہل وعیال کی اہم ضروریات بھی پورا کرنے سے قاصر ہے ،قرضوں میں جکڑا ہوا ہے ، قرضوں کے حصول کے باوجود کئی اہم ضروریات اس کے آنگن میں قطار لگائے کھڑی ہیں اور وہ بے بسی کی مورت بن کر کھڑا ہوا ہے،ایسے افراد کا تعاون کرتے ہوئے ان کی مدد کی جا سکتی ہے ، اسے صدقات نافلہ کہا جاتا ہے ،اس کی بھی ترغیب دی گئی ہے اور اس پر اجر وثواب کی خوش خبری سنائی گئی ہے ،مالداروں اور صاحب حیثیت لوگوں کے لئے مال ودولت کے خرچ پر جہاںمال کا تحفظ ،مال میںبرکت واضافہ اور آخرت میں بلا حساب اجر وثواب ملنے کی خوشخبری دی گئی ہے وہیں انفاق سے گریز کرنے ،ضرورت مندوں کو نہ دینے ،مال پر مال جمع کرنے ،حق تلفی اور اس کے بیجا استعمال پر دنیا واخرت میں سخت ترین پکڑ اور دردناک سزا کی وعید بھی سنائی گئی ہے ۔
ایک طرف مالداروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ حق دار کے حق میں کمی بیشی نہ کریں اور دوسری جانب مستحقین سے بھی کہا گیا ہے کہ اپنے حق سے زائد نہ لیں ،جتنی ضرورت ہے اتنا ہی وصول کریں ،اس کے علاوہ غیر حق دار سے کہا گیا ہے کہ خود کو حق دار بتاکر مال حاصل کرنا مستحقین کی حق تلفی کرنا ہے ،اس طرح مال کا حاصل کرنا دھوکہ ہے جو کہ ناجائز اور ایک قسم کا سنگین جرم ہے، باطل ، ناجائز اور دھوکہ سے دوسروں کا مال کھانے کی قرآن کریم میں سخت ممانعت بیان کی گئی ہے ،ارشاد ہے : یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاَ تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ وَلاَ تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا(النساء: ۲۹)’’ اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال آپس میں ناحق طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ تمہاری باہمی رضامندی سے کوئی تجارت ہو اور جانوں کو مت ہلاک کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے‘‘ ، اس آیت مبارکہ کی روشنی میں علماء کرام نے باطل طریقے سے مال کھانے کی کئی صورتیں بیان کی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں (۱) امانت میں خیانت کرنا(۲) اُدھار لے کر واپس نہ کرنا(۳) سودی لین دین اور ہر قسم کے جوّے سے حاصل شدہ مال(۴) خرید وفروخت میں دھوکہ اور ملاوٹ(۵) مزدوروں سے کام لے کر اجرت نہ دینا یا مقررہ اجرت سے کم دینا( ۶)مزدوروں کا متعینہ کام پورا نہ کرکے اجرت پوری لینا(۷) لوگوں کے زکوٰۃ ،صدقات اور وصیتوں کے مال کھاجانا(۸) مستحق کے نام سے مال لے کر اس تک نہ پہنچانا( ۹) مستحق نہ ہونے کے باوجود خود کو مستحق بتاکر مال حاصل کرنا( ۱۰) مستحق کا حق سے زیادہ مال وصول کرنا،مال کھانے کی مذکورہ بالا اور ان جیسی دیگر تمام اقسام باطل طریقے سے مال کھانے کے زمرے میں داخل ہیں ،جس کا کھانا کسی بھی طرح سے جائز نہیں ہے ، حقوق کی ادائیگی میں لاپرواہی برتنا اور حق دار کے حق میں کمی کرنا انتہائی گھناونا جرم ہے ، جسے قرآنی اصطلاح میں تطفیف کہا گیا ہے،ایسے شخص کو قیامت کے دن سخت ترین سزا دی جائے گی ، قرآن کریم کی سورہ’’ المطففین‘‘ میں اس کا ذکر موجود ہے : وَیْْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ o الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُوْا عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَo وَإِذَا کَالُوہُمْ أَوْ وَّزَنُوْہُمْ یُخْسِرُوْنَ o (المطففین: ۱تا۴) ’’ بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی ،جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگوں سے خود کوئی چیز ناپ کر لیتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں اور جب وہ کسی کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں ‘‘،اس آیت مبارکہ میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کا ذکر ہے ،چونکہ اس زمانے میں عموماً ناپ تول میں کمی کے ذریعہ حق دار کو اس کے حق سے محروم کیا جاتا تھا اس لئے اس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن یہاں تطفیف سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق دار کے کسی بھی حق کو ادا کرنے میں کمی کوتا ہی سے کام لیتے ہیں ،حقوق کی ادائیگی کا معاملہ انتہائی اہم اور نہایت حساس ہے،اسلامی تعلیمات میں اس جانب خاص طور پر توجہ دلائی گئی ہے ،حقوق کی ادائیگی میں کوتا ہی ،لاپرواہی اور کمی کرنے والے کو مجرم قرار دیا گیاہے اور اس کے لئے آخرت میں سخت سزا کی وعید سنائی گئی ہے، بلا شبہ معاشرہ میں امن ومان اور انسانی زندگیوں میں سکون وچین حقوق کی ادائیگی سے ہی ممکن ہے ، جہاں حقوق پامال کئے جاتے ہیں ،حق تلفی سے کام لیا جاتا ہے اور حق دار اپنے حق کو ترستا ہے اور غیر حق دار مستحق کے حصے سے اپنا پیٹ بھر تا ہے تو معاشرہ تباہی وبربادی کی طرف نکل پڑتا ہے ، ہر سمت بد امنی کی کالی گھٹا پھیل جاتی ہے ، معاشرہ سے سکون واطمینان رخصت ہوجاتا ہے اور وہ قوم فلاح وبہبود حاصل کر نے سے محروم کردی جاتی ہے ۔
اس وقت ہمارامعاشرہ کئی خرابیوں کی زد میں ہے اور بہت سے لوگ جانے انجانے میں کئی ایک جرائم میں مبتلا ہیں ، خاص کر حقوق کی ادائیگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے ، دنیا کی محبت اور مادیت پرستی میں گم ہو کر بہت سے لوگ بے لگام ہو چکے ہیں ، حلال وحرام میں فرق کئے بغیر مال ودولت کے حصول میں سرگرداں نظر آرہے ہیں ،ان کے انداز سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خواہشات کے آگے گھٹنے ٹیک دئے ہیں ،خود کو بتاتے کچھ اور ہیں مگر اندر سے کچھ اور دکھائی دیتے ہیں ، یہ حرص وہوس کا شکار ہو کر جائز وناجائز ،حلال وحرام کی تمیز کھو چکے ہیں ، عوام کے علاوہ بعض بظاہر دیندار نظر آنے والے بھی مال دولت کے حرص میں دیوانے ہو کر حقوق کی پامالی کرتے نظر آرہے ہیں ، انہیں کون سمجھائے کہ حق دار کا حق چھین لینا ایک سنگین جرم ہے اور خود کو حقدار بتاکر دوسروں کا حق حاصل کرنا گھناونا عمل ہے ،رسول اللہ ؐ نے ایسے لوگوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مرنے سے قبل اپنے معاملہ کو رفع دفع کرلیں کیونکہ آخرت کا معاملہ بڑا ہی سخت ہے جہاں حق تلفی کرنے والوں سے ان کے نیکیاں لے کر ان اشخاص کو دی جائیں گی جن کے حقوق دنیا میںسلب کئے گئے تھے ، ایک موقع پر آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے اپنے کسی بھائی کے ساتھ ظلم وزیادتی کی ہو،اس کی آبروریزی کی ہو یا کسی دوسرے معاملے میں حق تلفی کی ہو ،اس کو چاہئے کہ آج ہی اس زندگی میں اس سے معاملہ صاف کرالے ،آخرت کے دن آنے سے پہلے کہ جب اس کے پاس ادا کرنے کے لئے دینار ودہم کچھ بھی نہیں ہوگا ،اگر اس کے پاس نیک اعمال ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر وہ مظلوم کو دے دئیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیک اعمال نہیں ہوں گے تو مظلوم کے کچھ گناہ اس کے اوپر ڈال دئیے جائیں گے ( بخاری) ۔
یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ لاک ڈاؤن کے پیش نظر اس وقت پورا ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو چکا ہے ،خصوصاً غریب ومتوسط طبقہ جن کے گھروں کا خرچ روزانہ کی آمدنی یا پھر محدود آمدنی پر منحصر تھا انہیں شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑرہا ہے ، اس وقت عجیب صورت حال کا سامنا ہے، باہر نکلتے ہیں تو پولیس مارتی ہے اور گھروں میں رہتے ہیں بھوک کے مار دینے کا ڈر ہے ، ڈیڑھ مہینے سے زیادہ ہو چکا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں مقید ہیں،جیب خالی ،باورچی خانے صاف اور چہروں پر مایوسی چھائی ہوئی ہے ، صاحب خانہ اور گھر کا کفیل بے بسی اور لاچاری کی مورت بنا بیٹھا ہے، خودداری کے ساتھ معاشرہ میں عزت کی زندگی گزارنے والوں کے لئے بڑی آزمائش کی گھڑی ہے ، عزت نفس کی خاطر وہ متمول حضرات سے سوال کرنا نہیں چاہتے اور ادھر متمول حضرات ان کے احوال سے لا علمی کی وجہ سے ان تک امداد پہنچانے سے قاصر ہیں ،بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایسے نازک ترین حالات میں جہاں بہت سے دینی ،رفاہی اور فلاحی تنظیمیں بلا لحاظ مذہب وملت ضرورت مندوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں ،وہ اپنے تئیں اس کو کشش وجستجو میں ہیں کہ کسی بھی طرح سے ضرورت مندوں کی اعانت ہو جائے اور اس دکھ کی گھڑی میں ان کا کسی بھی طرح سے سہارا بن سکے ،ان حالات میں متمول حضرات اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضرورت مندوں کو تلاش کرکے ان کی مالی اعانت کریں ، حتی المقدور مستحق تک اس کا حق پہنچانے کی کوشش کریں ، غیر مستحق کو محض تعلقات کی بنیاد پر نہ دیں ،یاد رکھیں کہ غیر مستحق کو دینا درحقیقت مستحق کے ساتھ حق تلفی کرنا ہے ،اس سلسلہ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے ، بعض جگہوں سے کچھ ایسی اطلاعات مل رہی ہیں کہ جسے سن کر بڑی شرمندگی ہو رہی ہے ،غیر مستحق افراد خود کو مستحق بتاکر ضرورت مندوں کے حق ہڑپ رہے ہیں ،یہ انتہائی غیر اخلاقی اور مذموم حرکت ہے ، مالی اعتبار سے مستحکم ہونے کے باوجود خود کو مستحق بتاکر حقیقی مستحقوں کا حق مارنا جرم عظیم ہے ، جاننے کے باوجود غیر مستحق کو دینا اور حق نہ رکھنے کے باوجود لینا دونوں ہی جرم اور گھناؤنا عمل ہے ، ہو سکتا ہے کہ اعانت کرنے والے ان کے احوال سے واقف نہ ہوں لیکن لینے والے خود تو اپنے احوال سے باخبر ہیں ،ایسے لوگ قیامت میں مجرم بن کے پیش ہوں گے اور مذکورہ حدیث شریف میں ایسے لوگوں کو ظالموں میں شمار کیا گیا ہے او ر سزا کے طور پر ان کے نیک اعمال لے کر مظلوموں کو دئے جانے کی بات بتائی گئی ہے ،بڑی شرم کی بات ہے کہ بعض خود مکتفی حضرات موقع کا فائدہ اٹھا کر خود کو مستحق بتاتے ہوئے مستحق افراد کے حقوق چھین رہے ہیں ،انہیں خدا کا خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے ،دینے والوں کو تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے مگر غیب کے احوال سے باخبر خدا کو دھوکہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ لوگ دوسروں کے حق سے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں،اس سلسلہ میں ترکی اور دیگر ممالک کے باشندگان ہمارے لئے ایک زبردست مثال ہیں ،جہاں شاہراوں پر کھلے عام ضروریات زندگی کا سامان اور اشیائے خورد نوش رکھے ہوئے ہوتے ہیں مگر کمال یہ ہے کہ انہیں مستحق کے سوا کوئی ہاتھ تک نہیں لگاتا،اگر ایسا ہمارے یہاں ہوتا تو معلوم نہیں کیا ہوتا ،ان حالات میں ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ،خود پر دوسروں کو ترجیح دینا ہے نہ کہ دوسروں پر خود کو ،لالچ اور خود غرضی سے خود کو بچانا ہوگا ، بلکہ خودد سے ایسی کوششیں کر نی چاہئے کہ جس سے دوسروں کے گھروں میں چولہے جل سکے ، مصیبت میں ان کا سہارا بن سکے ،اگر یہ مزاج پیدا نہیں ہوا تو سمجھ لی جئے کہ ہم کو انسان کہنے کا کوئی حق نہیں ہے بلکہ ہم سے وہ درندے اور پرندے اچھے ہیں جو اپنی ذات سے کسی کو نفع نہ سہی نقصان بھی نہیں پہنچاتے، یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ ان حالات میں جو کچھ مدد کی جارہی ہے وہ ضرورت مندوں ہی کے لئے ہے نہ کہ غیر ضرورت مندوں کے لئے،غیر مستحق ہو کر اسے حاصل کرنا یا خود کو مستحق بتاکر لینا یا پھر حریص بن کر حرص کا مظاہرہ کرنا بدترین قسم کی بد اخلاقی ، نہایت سنگین جرم اور بہت بڑا گناہ ہے ۔
٭٭٭