Fri, Feb 26, 2021

نیوز چینل پر مباحثہ منظم سازش کا حصہ
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

انسان پیدائشی اور فطری طور پر ایسے کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے جن کا تصور دوسری مخلوقات میں محال ہے ، زمین پر اس کی خلافت اور اشیاء دنیا کے استعمال میں اس کی مہارت اس کی برتری کو ثابت کرنے کے لئے کافی اوروافی ہے،انسان کو حیوان ناطق ،اس کی سوچ کو عقل سلیم اور اس کے کام کے طریقہ کو قابل قدر گردانہ جاتا ہے ،انسان قوت ارادی کے جوہر سے مالا مال ہے، وہ اپنی قوت ارادی سے منفی اور مثبت دونوں پہلؤں کو اختیار کر سکتا ہے ، جب اس پر مثبت سوچ کا غلبہ ہوتا ہے تو اس وقت عمدہ ، نفع بخش اور انسانوں کے لئے فوائد سے بھر پور کام اس کی ذات سے چشمہ ٔ آب بن کر جاری ہوتے ہیں اور اس سے اس کی ذات کے علاوہ پورا جگ نفع اٹھاتا ہے اور جس وقت منفی سوچ اس پر غالب آتی ہے تو اس کے اثر سے وہ متاثر ہوتا ہے ، اس وقت اس کی ذات سے ایسا دھماکو مادہ نکلتا ہے جو نہ صرف اسے نقصان پہنچاتا ہے بلکہ دوسرے انسانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ،اس کے نقصانات بالکل اس آگ کی طرح ہوتی ہیں جو خود کے ساتھ دوسروں کے وجود کو بھی خاکستر کر کے رکھ دیتی ہیں ، معاشرہ ظلم وجور کی سمت بڑھتا جاتا ہے،بد گمانی کے دلدل میں پھنستا جاتا ہے ،انسانیت کی قدریں پامال ہوتی چلی جاتی ہیں ،ہر لمحہ اس پر درندگی غالب ہوتی جاتی ہے اور پھر درندگی وحیوانیت اس سے وہ کام کرواتی ہے جسے دیکھ کر درندے بھی کچھ دیر کے لئے اپنی درندگی بھول جاتے ہیں ، ظلم وستم ،حیوانیت ودرندگی اور انسانی اقدار کی پامالی سے بَر وبحر میں فساد برپا ہوتا ہے اور اس کا ذمہ دار خود انسان ہوتا ہے ۔
دنیا میں ایک تعداد ان لوگوں کی ہے جو اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھتے ہیں اور ان لوگوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے جو منفی سوچ کے حامل ہوتے ہیں اور اس کے ذریعہ معاشرہ میں وقفہ وقفہ سے ایک وبال اور ہنگامہ مچاتے رہتے ہیں،زبان کو آلہ ٔ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جھوٹ،نفرت ،عداوت،نسلی تفاوت اور مذہبی منافرت کا سہارا لے کر زہر افشانی کے ذریعہ معاشرہ میں دھیرے دھیرے نفرت وعداوت کا زہر پھیلاتے رہتے ہیں ،ان کی زہر افشانی بچھو کے ڈنک کی طرح ہوتی ہے جس کا بر وقت علاج نہ کیا گیا تو وقت کے گزرنے کے ساتھ پورے وجود کو ہلاکت وتباہی کی طرف ڈھکیل دیتا ہے ، اس وقت ملکی سطح پر چند ایک کو چھوڑ کر نیوز چینل اور ان میں اینکر نگ کرنے والے اپنی جھوٹی ،لفاظی اور زہریلی زبان کے ذریعہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب میں نفرت کا وائرس اور آپسی پیار ومحبت کے شیریں شربت میں عداوت کا زہر گھولنے میں مشغول ہیں ،یقینا کانوں میں منافرت کا جو زہر گھولاجاتا ہے وہ زہریلے مادہ سے بھی زیادہ زہر آلود ہوتا ہے ،اسی وجہ سے کہنے والوں نے سچ کہا ہے کہ مادی زہر انسانی وجود کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا کہ لسانی زہر معاشرہ کو نقصان پہنچاتا ہے اور بنائے گئے زہر کا تریاق ممکن بھی ہے مگر بولے گئے زہر کا تریاق ناممکن ہے، اگر مقصد اچھا ہو تو مقصود بھی اچھا ہوتا ہے اور مقصد خراب ہو تو مقصود میں بھی خرابی آہی جاتی ہے ، قدیم زمانے میں نیوز اور خبریں ریڈو کے ذریعہ سنائی جاتی تھیں ، اس کامقصد ملک اور بیرونی ملک کے احوال سے واقفیت حاصل کروانا ہوتا تھا اور اس کا اہم ترین مقاصد لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنا،دکھ درد باٹنا اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کے کام آنا ہوا کرتا تھا،لوگوں کے رگوں میں پیار ومحبت کا خون دوڑتا تھا ،وہ ایک دوسرے کی شکل وصورت کے آئینہ میں اپنی تصویر دیکھتے تھے ،خوشی اور غم دونوں ہی بانٹتے تھے جس کی وجہ سے خوشی اور درد کے لمحات مل جل کر گزارتے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے سائنسی ترقی نے آسمان کو چھو لیا،نت نئے ایجادات نے ہر طرف ڈیرے ڈالدئے ، ٹیلی ویژن نے ریڈیو کی جگہ لے لی ،پہلے خبریں سنائی دیتی تھیں اس کے بعد دکھائی بھی دینے لگی ،لوگ بڑے شوق سے اور غور سے دنیا بھر کی خبریں سننے اور دیکھنے لگے ، اچھی اطلاعات سے جہاں ان کے دل مسرور ہوتے تھے تو وہیں دکھی خبروں سے ان کا دل بیٹھ جاتا تھا ، لوگوں کی توجہ اور رغبت دیکھ کر خبروں کے ساتھ خبریں سنانے والوں میں بھی نمایاں تبدیلی آنے لگی ،روز بروزچینلوں میں اضافہ ہوتا گیا اور لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے انوکھے طریقے ایجاد کئے جانے لگے اور پھر یہ عوامی خدمت ایک پروفیشنل پیشے میں تبدیل ہو کر رہ گئی ،اس وقت دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی نیوز چینلوں پر مخصوص حالات اور کسی خاص عنوان کے تحت مباحثہ کروا ئے جاتے ہیں جس کے لئے مخصوص لوگوں کو باضابطہ مخصوص شرائط کے ساتھ ان میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے ،ایک حامی ہوتا ہے تو دوسرا مخالف ، ان دونوں سے اپنے اپنے خیالات اور نظریات اگلوانے والا اینکر ہوتا ہے بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ دونوں فریق کو بھڑکانے والا اینکر ہوتا ہے ، اس وقت مباحثۃ اور ڈیبیٹ مخصوص مقاصد کے لئے کروائے جارہے ہیں ، اس کے ذریعہ ایک خاص طبقہ کی باتوں کو اور ان کے نظریات کو مباحثہ کے ذریعہ درست ثابت کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ،اینکر دراصل انہی کا وکیل ہوتا ہے اور ان کے نظریات کو اپنے مخصوص لب ولہجہ اور زبان وبیان کے الٹ پھیر کے ذریعہ لوگوں کے سامنے رکھ کر اسے درست قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔
ملک میں زعفرانی پرچم تلے حکومت بننے کے بعد سے ہی قومی میڈیا اور چند مخصوص نیوز اینکرس کھلے طور پر جانبداری کا مظاہرہ کر نے لگے ہیں ،الفاظ تو ان کے ہوتے ہیں مگر مضمون کسی اور کا ہوتا ہے ، ان کی جانبداری ،طرفداری بلکہ غلامی کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ حکومت کے گود میں بیٹھ کر انہیں کے اشارں پر بات کر رہے ہیں ،حالانکہ صحافت اور میڈیا غیر جانبدار ہوتا ہے اور حق وصداقت اور غیر جانبداری ہی اس کا ایمان ہوتا ہے ، افسوس کہ ان لوگوں نے مالی منفعت کی خاطر اپنے صحافتی ایمان کا سودا کر دیا ہے ، انہوں نے صحافت جیسی عظیم، بے باک اور پاکیزہ خدمت کو داغ دار کر دیا ہے، یہ لوگ اہم اور حساس خبروں کو چھوڑ کر صبح سے لے کر شام تک اور شام سے رات تک اپنے آقاؤں جنہیں مذہب کے نام پرفرقہ پرستی کرنا خوب آتا ہے کے جھوٹے قصیدے عوام کو سنا نے میں لگے رہتے ہیں ،حکومت وقت کے عوام مخالف فیصلوں ،قانون میں ترمیم اور مسلمانوں کے مذہبی قوانین میں مداخلت کے فیصلوں کو مباحثہ کے ذریعہ سچ ثابت کرنے کی مجرمانہ کوششیں کرتے رہتے ہیں ،بابری مسجد کا فیصلہ ہو یا طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ہو یا شہری قوانین کا متنازعہ معاملہ یا پھر کورونا وائرس کا عالمی مسئلہ، ان سب کو مباحثہ کے دائرہ میں لاتے ہوئے بڑے زور وشور کے ساتھ اور باآواز بلند حکومت کی تائید کرتے نظر آتے ہیں اور اپنی چرب زبانی ، سنگھی مزاجی، ، مذہبی علم سے ناواقفیت کے باوجود اسلام پر کیچڑ اچھال تے ہوئے ،اسے عدل وانصاف کے منافی اور ظلم سے تعبیر کرتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی مذموم حرکتیں کرتے رہتے ہیں اور مباحثہ میں شریک مہمانوں کو اکسا کر اور ابھار کر ان سے یا تو اپنی باتیں منواتے ہیں یا پھر بھڑکا کر اسے مذہب کے ساتھ جوڑ کر مذہب اسلام کو بدنام کرتے ہیں ، یہ اپنے مباحثہ میں کسی غیر معروف مسلم شخص کو مسلمانوں کی طرف سے نمائندہ بناکر مخصوص شرائط کی پابندی کے ساتھ کم علم ،شہرت پسند اور جذباتی شخص ہی کو دعوت دیتے ہیں، ان مباحثوں میں شرکت کرنے والے بیچارے چند ٹکے ،وقتی عزت اور سستی شہرت کی خاطر ان کی دعوت قبول کرتے ہوئے خود کو مسلمانوں کا نمائندہ سمجھتے ہوئے بڑی شان وشوکت سے ان میں شرکت کرتے ہیں اور کم علمی ،ناتجربہ کاری اور دباؤ میں آکر الٹی سیدھی گفتگو کرکے ان کے شاطرانہ جال میں پھنس جاتے ہیں ، یہ سنگھی مزاج ، بھگوا کارکن اور زعفرانی پارٹی کے آلہ کار اپنی شاطرانہ چالوں ، مسالہ دار گفتگو اور اینکرنگ کی صلاحیت سے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جس سے انہیں مالی منفعت بھی خوب حاصل ہوتا ہے اور بھڑکانے کا بھی ، پھر وہ اپنی جذ باتی باتوں سے سامنے والے کو طیش دلاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بوکھلا ہٹ کا شکار ہوجاتا ہے اس موقع کا فائدہ اٹھا تے ہوئے اس پر پے درپے سوالات کی بوچھار شروع کردیتے ہیں جس کی بناپر وہ سوالات کی وادیوں گم ہو کر رہ جاتا ہے ،اس کے پاس لاعلمی کی وجہ سے ویسے بھی تشفی بخش جواب نہیں ہوتا اور پھر غصہ اسے سب کچھ بھلادیتا ہے، اس کافائدہ اٹھا کر عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ مباحثہ میں شریک مسلم نمائندہ کو شکست فاش ہو گئی ہے اور اس کی شکست کو گویا پورے مسلمانوں کی شکست سے تعبیر کرتے ہوئے مسلمانوں کو بدنام کرتے ہیں ۔
تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان مباحثوں میں اکثر وبیشتر کسی مستند عالم ،مسلمانوں کی کسی بڑی جماعت کے قائد یا پھر سیاسی بصیرت رکھنے والے کسی مسلم رہنما کو بلایا نہیں جاتا بلکہ پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا پر دور بینی نظر رکھتے ہوئے ایسے شخصوں کو تلاش کیا جاتا ہے جو بلا کسی وجہ کے مسلمانوں کے رہنما ؤں اور ان کی تنظیموں پر تنقید کا مزاج رکھتے ہیں اور موقع بموقع اپنی تقریروں وتحیروں کے ذریعہ رقیق حملے کرتے ہوئے ان میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،دشمن جانتا ہے کہ ان کے من میں جاہ و شہرت کا شجر اگ چکا ہے ،وہ شہرت کی خاطر کچھ بھی کر سکتے ہیں ، چنانچہ ایسے لوگوں کو مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر مباحثہ میں بلا کر گندی ذہنیت استعمال کرتے ہوئے ،منظم پلان کے تحت آگے کا کھیل کھیلا جاتا ہے جس کا آئے دن مختلف نیوز چینلوں پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے، نیوز اینکر ان کی نادانیوں اور غلط حرکتوں کو خوب اچھالتے ہیں ، ان کامضحکہ اڑاتے ہیں ، اس کے ذریعہ مسلمانوں کا نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آقاؤں کو خوش کرتے ہوئے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتے ہیں ۔
سب جانتے ہیں کہ مباحثہ ہار جیت کا مقام نہیں بلکہ تبادلہ خیال کی جگہ ہوتی ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عموماً یہاں مسائل سلجھائے نہیں جاتے بلکہ الجھائے جاتے ہیں ، یہ بھی سب جانتے ہیں کہ یہاں رائی کو پہاڑ بنایا جاتا ہے اور اینکر اپنی سوچ اور لسانی طاقت کے ذریعہ کسی وقت بھی پہاڑ کو رائی اور رائی کوپہاڑ بناسکتا ہے اور یہ بھی سب جانتے ہیں ان مباحثوں کا حاصل اختلاف، انتشار اور منافرت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ،یہ دشمنوں کی ایک شاطرانہ چال اور گھناؤنی سازش ہے،ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے انتہائی خطرناک ہے ،جمہوریت کے لئے بد نماداغ اور سنگھی عزائم رکھنے والوں کا جدید ہتھیار ہے، بعض قومی نیوز چینلوں نے پچھلے دوتین سال میں جس نوعیت کے مباحثے کروا ئے ہیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ،ان کے ذریعہ لوگوں تک اپنے من کی بات بڑی قوت کے ساتھ اور نہایت مضبوط انداز سے پہنچانے میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے ،مگر ان کا نشانہ تو کچھ اور ہی ہے ،وہ ان کا سہارا لے کر مخصوص مذہبی طبقہ کو یک جٹ کرنے ،اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے ،طویل عرصہ تک سیاست کے افق پر چھائے رہنے اور اپنے عزائم کو پائے تکمیل تک پہنچانے کی فکر میں ہیں ،ایسے نازک ترین حالات سے ہم کو بھی سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،دشمنوں کی چالوں کو سمجھ کر متحدہ طور پر درست قدم اٹھانے کا وقت ہے، ملک میں اس وقت مسلمانوں کو کئی ایک چیالنجس کا سامنا ہے ،ان میں سے ایک گودی اور جھوٹی میڈیا کا چیلنج بھی ہے ،مسلمانوں کے علماء ،دینی تنظیموں کے رہبر اور سیاسی قائدین کو مل کر متحدہ طور پر نیوز چینل پر مباحثہ کا بائکاٹ کرنا ہوگا ،اگر کہیں سے مباحثہ کی دعوت دی جاتی ہے تو اس کا انتخاب مسلم تنظیموں کی جانب سے متحدہ پر کرنا ہوگا، اور اسے شخصیت کا انتخاب کرنا ہوگا جس میں صلاحیت ،سنجیدگی ،حالات سے واقفیت اور حاضر جوابی کا ہنر پایا جاتا ہو ، اس وقت امت مسلمہ کو متحدہ طور پر ،یک جان ہو کر کئی اہم فیصلوں کے علاوہ نیوز چینلوںکے متعلق ایک بڑا فیصلہ لینا ہوگا ، سب سے بہتر رائے وہی ہے جو غالباً دارالعلوم دیوبند اور صاحب بصیرت علماء نے دی تھی کہ نیوز چینل پر مباحثہ کا بائکاٹ کیا جائے،کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے جس سے ان کے ناپاک عزائم پر پانی پھیرا جاسکتا ہے اور ان کی زبان پر لگام کسی جاسکتی ہے ،اس سے ہٹ کر ان تمام نیوز چینلوں کا بائکاٹ کرنا ہوگا جو اپنی زبانوں سے زہر اگل کر صاف شفاف ماحول کو زہر آلود کر رہے ہیں ،نیز قومی اور علاقائی سطح پر متحدہ طور پر مختلف زبانوں میں چینلوں کو لانچ کرتے ہوئے اسلام کے پیغام انسانیت ،نبی رحمت ؐ کی تعلیمات رحمت اور مسلمانوں کے عدل وانصاف ، پیار ومحبت اور انسانیت پر مبنی کاموں سے دنیا کو واقف کرانا ہوگا، یقینا اسی کے ذریعہ ہم جھوٹی اور گودی میڈیا کو لگام دے سکتے ہیں اور اس کے عزائم کو خاک میں ملا سکتے ہیں ۔
٭٭٭