Sun, Feb 28, 2021

زندگی آسان ہے مشکل نہیں !۔
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی

’’زندگی ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جو انسان کو بن مانگیں دی گئی ہے ، انسانی زندگی کئی دور سے ہوکر گزرتی ہے اور ان ادوار میں کئی حالات سے وہ گزرتا ہے ، انسانی زندگی موسموں سے مشابہت رکھتی ہے ،اسی وجہ سے بعض تجزیہ نگاروں نے اسے موسموں سے قریب بتا یاہے،موسموں کی شروعات سرما سے ہوتی ہے اور بارش پر جاکر اس کا اختتام ہوتا ہے ، اگر دیکھا جائے تو انسانی زندگی کی شروعات بھی کچھ اسی طرح سے ہوتی ہے بچپن ’’موسم سرما‘‘ سے مشابہ ہوتا ہے یعنی جس طرح موسم سرما میں ہر طرف ٹھنڈک ہی ٹھنڈک ہوتی ہے ، بڑا سکون ملتا ہے ،طرح طرح کی غذائیں کھاکر انسان اپنی صحت بناتا ہے،اسی طرح بچپن کی زندنی بھی سکون واطمینان اور ہر طرح کے تفکرات سے آزاد ی ہوتی ہے ، ضروریات اس کی ہوتی ہیں لیکن اس کی فکر ماں باپ کرتے ہیں اور اسے پورا کرنے کی خاطر دوڑ دھوپ کرتے ہیں ، ’’موسم گرما‘‘ یہ جوانی سے مشابہت رکھتا ہے ،یعنی جس طرح اس موسم میں انسان بے چین وبے قرار رہتا ہے ،اسے کسی ایک حالت میں قرار نہیں ہوتا ،وہ سورج کی شدت سے بچنے اور اس کی جھلسادینے والی گرمی سے حفاظت کے لئے طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتا ہے اور اسی جدجہد میں موسم گرما گزار دیتا ہے،ٹھیک اسی طرح جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی انسان شعور کو پہنچ جاتا ہے ،اس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ،اس میں ایک جوش وجذبہ ہوتا ہے ،وہ عموماً من کی سنتا ہے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے بے چین وبے قرار گھومتا رہتا ہے اور دوڑ دھوپ اور جہد مسلسل میں ایسا گم ہوجاتا ہے کہ اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کی جوانی نے کس وقت اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہے ،پھر بڑھاپا اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ،کہتے ہیں کہ شکاری جب جال میں دانہ ڈالتا ہے تو پرندہ مستقبل کے خطرات سے بے خبر بلکہ غافل ہوکر اس میں گھس جاتا ہے اور دانہ چگنے میں مصروف ہوجاتا ہے،جس وقت شکاری جال کھینچتا ہے تب جاکر اسے ہوش آتا ہے اور اس وقت پتہ چلتا کہ وہ اب قید ہو چکا ہے ، کچھ ایسا ہی بڑھاپا بھی کرتا ہے ،جوانی کے دن ختم ہوتے ہی بڑھاپا اسے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس وقت اس کے ہوش ٹھکانے آتے ہیں مگر ’’ اب پچھتائے ہوت،جب چڑیا چک گئی کھیت‘‘کے مصداق وہ صرف کف افسوس مل سکتا ہے اور کچھ نہیں ، انسانی زندگی کا یہ آخری دور’’ موسم بارش‘‘ سے مشابہ ہے ،جس طرح بادل گرجتے ہیں ، بجلیاں چمکتی ہیں، ہوائیں چلتی ہیں ،درخت اکھڑتے ہیں ، گھروں کی چھتیں اُڑھ جاتی ہیں ،کچی دیواریں منہدم ہوجاتی ہیں، جہاں بارش ہلکی ہوتی ہے تو فصلیں برباد ہوجاتی ہیں اور جہاں تیز ہوتی ہے تو فصلیں ڈوب جاتی ہیں اور بند ٹوٹ جاتے ہیں ، ہر طرف ایک عجیب منظر ہوتا ہے ،کہیں خوشیاں تو کہیں غم ،یہی کچھ حال بڑھاپے کا بھی ہے ،مزاج میں نمایاں تبدیلی واقع ہوتی ہے ،صحت اپنے اصول توڑ چکی ہوتی ہے ،نیند ختم ہوجاتی ہے،وہ بستر پر بے بس پڑا رہتا ہے ،سانس سے لے کر آنت تک کی تکلیفوں میں مبتلا ہوجاتا ہے،نقا ہت وکمزوری گویا ڈیرہ ڈال چکی ہوتی ہے ،بس اسی کشمکش میں وہ جئے جارہا ہوتا ہے اور یاد ماضی کو یاد کئے جاتا ہے کہ پھر اچانک ایک دن ملک الموت اسے ہمیشہ کی نیند سلاکر چلے جاتے ہیں ،اس طرح اس کی زندگی کے اوراق تمام ہوجاتے ہیں اور بعد میں وہ قصہ پارینہ بن کر رہ جاتا ہے ،کسی نے بچپن ،جوانی اور بڑھاپے کے متعلق کچھ اس طرح کہا ہے’’ لڑکپن کھیل میں کھویا،جوانی پیٹ بھر سویا،بڑھاپا دیکھ کر رویا ‘‘،اور حضرت مجذوب ؒ نے زندگی کی کچھ اس طرح سے منظر کشی ہے ،کہتے ہیں ؎

تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا
جوانی نے پھر تجھ کو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کردے گی بالکل صفایا
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

دنیا کی حقیقت ایک عجائب خانہ کی حیثیت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں،یہ نشیب وفراز سے بھر پور ہے ،یہاں کبھی خوشیوں کے پھول کھلتے ہیں تو کبھی غم کے بادل چھاجاتے ہیں،یہ مسافر خانہ اور سرائے ہے ،یہاں کا قیام عارضی ہے مستقل نہیں، کب تک ہے کسی کو معلوم نہیں،اس سے دل لگانے والا دلدل میں پھنستا ہے ،مصیبت میں گھر تا ہے ،خواہشات میں پڑتا ہے اور آگے چل کر اَوندھے منہ گرتا ہے اور جو اس سے جی چراتا ہے ،خود کو علاحدہ کرتا ہے جان پاتاہے، آزاد رہتا ہے سکون دل پاتا ہے اور حقیقی منز ل سے اس طرح جاکر ملتا ہے جیسے سمندر کی لہریں کنارے سے مل کر قرار پاتی ہیں ،اگر آپ اسلام کی حسین تعلیمات اور محسن انسانیت ؐ کی مبارک سیرت پر نظر ڈالیں گے اور اس کا بغور مطالعہ کریں گے تو آپ کو زندگی گزار نے کی وہ حسین تعلیمات اور بے مثال ہدایات ملیں گی جسے اپنا کر محدود زندگی اور اس کے قیمتی لمحات کو پر مسرت اور کامیاب بناسکتے ہیں ، بنیادی طور پر خوبصورت زندگی گزار نے کے تین اصول بتائے گئے ہیں (۱) دنیا عارضی اور میںانسانوں کا قیام بھی عارضی ،اسلام نے انسانوں کو یہ بات واضح کردی ہے کہ جس دنیا میں تم ہو وہ عارضی،مختصر اور ناپائدار ہے اور اس میں تمہارا قیام وقرار بھی بہت تھوڑا ہے ،اس کے مقابلہ میں ایک اور دنیا ہے جسے آخرت کہا جاتا ہے وہ پائدار ،نا ختم ہونے والی ہے اور وہاں کا قیام وقرار بھی طویل اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ،قرآن مجید میں ارشاد ہے : وَمَا ہٰذِہِ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا لَہْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْن( عنکبوت:۶۴)اور دنیا کی یہ زندگی تو محض (عارضی ،مختصر اور) کھیل تما شہ ہے،البتہ آخرت کے گھر کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے ،کاش یہ جانتے ہوتے‘‘ ،جب معلوم ہو گیا کہ دنیا عارضی اور یہاں کا قیام عارضی ہے اس کے باوجود مستقل اسی میں پڑجانا اور ساری جد جہد کو اسی میں لگادینا نادان بلکہ بے عقل ہونے کی علامت ہے ،زندگی کی حقیقت اور یہاں کا وقت قیام معلوم ہونے کے باوجود محض اس کی چمک دمک پر فریفتہ ہوکر اس میں دل لگا دینا نہایت نقصان کا باعث بلکہ خوشگوار زندگی کا گلا گھوٹنے کے مترادف ہے ، انسان کو خوب جانتا ہے کہ اسے موت آکر رہے گی اور پل بھر بھی اس کے خواہشات کا خاتمہ ہو جائے گا،دنیا چھوٹ جائے گی اور دنیا والے اس سے بچھڑ جائیں گے ،اس کی خواہشات اس کے ساتھ مٹی میں دفن ہو جائیں گی ، ان باتوں کو جانتے ہوئے بھی غیر ضروری کا موں میں الجھا ہوا ہے اور خود کو خود کشی کی طرف کھینچ کر لے جارہا ہے، وقت کو بے کار کاموں میں صرف کرنا ،ناپائدار چیزوں میں دل لگانا اور لمحات زندگی کا غلط استعمال خوش گوار زندگی کے لئے زہر قاتل ہے ،کاش انہیں یہ بات اس دن سے پہلے سمجھ آجائے جس دن سمجھ کر بھی کچھ نہ کر پائے گا ،انسانوں میں بے شمار انسان اسی روش کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور جان کر بھی انجان بنے ہیں ،مرنے والوں کو دیکھ رہے ہیں ،مردوں کو غسل دے رہے ہیں ،جنازوں کو کندھا دے رہے ہیں اور میت کو قبر میں دفن کر رہے ہیں تب بھی اس حقیقت سے غافل اور لاپرواہ ہو کر زندگی گزار رہے ہیں ،کامیاب زندگی کے لئے ضروری ہے کہ مختصر وقت کو کام میں لایا جائے اور پل پل اس کی حفاظت کی جائے ۔
(۲)آخرت ہمیش گی کی جگہ ہے اور وہاں کی زندگی دائمی ہے، انسان کو بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا گیا ہے کہ دنیا کی زندگی اور خود اس کی زندگی مختصر اور عارضی ہے ،اس کے مقابلہ میں آخرت اور اسکا قیام دائمی ہے تو ہوش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی پوری توجہ اور فکر اسی کی طرف منتقل کرے اور اس کے حصول کے لئے اس دنیوی زندگی کا استعمال کرے ،جس طرح تارکین وطن ہر پل وقت کی قدر کرتے ہوئے محنت مزدوری کے ذریعہ خوب کمائی کی فکر کرتے ہیں ، ان کی نظر فی الوقت پر نہیں بلکہ بعد کے وقت پر ہوتی ہے ، وہ بعد کی آسودگی کے لئے آج کی مشقت برداشت کرتے ہیں اور وطن میں سکون کے لئے یہاں کی تکلیف برداشت کرتے ہیں ،قرآن مجید میں آخرت کی دائمی زندگی کو واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کی فکر کرنے کی ترغیب دی ہے ،ارشاد ہے : بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا o وَالْآخِرَۃُ خَیْْرٌ وَّأَبْقٰی(اعلیٰ: ۱۶،۱۷)’’ (اے لوگو! کیا ہوگیا ہے تم کو موت کی حقیقت جاننے اور آنکھوں سے دوسروں کے مرنے کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ) لیکن (پھر بھی ) تم لوگ دنیوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو،حالانکہ آخرت کہیں زیادہ بہتر اور کہیں زیادہ پائدار ہے‘‘،اس زندگی کو کامیاب بنانے کا نسخہ خدا کی بندگی اور اس کی فرماں برداری ہے ،خدا کی بندگی سے جہاں دنیوی زندگی درست ہوتی ہے جس سے سکون اطمینان میسر ہوتا ہے وہیں آخرت کی کامیابی اور وہاں کی دائمی زندگی کی خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ،اور اس کا احساس یہاں کی زندگی میں تازگی اور مسرت پیدا کرتا ہے ،مگر بہت سے لوگ اب بھی آخرت سے غافل ہوکر دنیوی زندگی میں الجھے ہوئے ہیں اور حقیر دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ،قرآن مجید نے ان لوگوں کو جو آخرت سے غافل ہوکر دنیا سے چمٹ جاتے ہیں اور اپنی غفلت سے باخبر ہونا نہیں چاہتے ان پر افسوس ظاہر کیا ہے اور ان سے پوچھا ہے : أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ(التوبہ:۳۸)’’ کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیوی زندگی پر راضی ہو چکے ہو؟ (اگر ایسا ہے) تو (یاد رکھو کہ) دنیوی زندگی کا مزہ آخرت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ،مگر تھوڑا ہے ‘‘، عقلمند اصل کے لئے نقل کی پرواہ نہیں کرتے اور معمولی چیز کے لئے قیمتی بلکہ لاقیمت چیز کھویا نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے ذریعہ سکون وچین اور راحت واسودگی تلاش کرتے ہیں ،کامیابی اور سکون زندگانی آخرت کی دائمی زندگی کی فکر ہی میں پوشیدہ ہے ،وہاں کی کامیابی دراصل حقیقی کامیابی ہے اور اسی میں دونوں جہاں کی خوشیاں مضمر ہیں ۔
(۳) دنیوی زندگی کا قیام بہت تھوڑا اور مختصر ہے ، یہاں نہ تو ہر خواہش پوری ہوتی ہیں اور نہ ہی زندگی کا مکمل سکون حاصل ہوتا ہے ،بلکہ یہاں کی زندگی کا وہاں حساب دینا ہے ، ہر چھوٹی بڑی چیز کے متعلق پوچھا جائے گا ،جو جتنا سامان زندگی اکھٹا کرے گا اتنا ہی بوجھ اپنے سر پر لاد کر لے جائے گا اور جو جتنا کم سامان رکھے گا اتنے ہی کم سوالات اس سے کئے جائیں گے،دنیوی زندگی کی مثال مسافر کی سی ہے ، حالت سفر میں جو مسافر جتنا سامان زیادہ رکھے گا اتنا ہی زیادہ مشقت سے دوچار ہوگا ، عقلمند مسافر سامان سفر کم سے کم رکھتا ہے ، وہ منزل کو مد نظر رکھتا ہے ، محسن انسانیت ؐ نے تعلیم دی ہے کہ انسان زیادہ کی فکر نہ کرے بلکہ کم سے کم چیزوں پر قناعت کر ے کیونکہ دنیا اس کے لئے مسافر خانہ ہے اور مسافر صرف بقدر ضرورت سامان ہی ساتھ رکھتا ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن آپ ؐ نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا: کن فی الدنیا کانک غریب اوعابر سبیل( بخاری) ’’ دیکھو دنیا میں ایسے رہو گویا تم اجنبی ہو یا راستہ چلنے والے مسافر‘‘ ،مطلب یہ ہے کہ صاحب مال ہوجانا ،معیارات کے لحاظ سے بڑھ جانا یا ،یا پھرضرورریات سامان خوب اکھٹا کر لینا یہ اصل مقصود نہیں ہونا چاہئے بلکہ دنیا میں ایسے رہنا چاہئے جیسے ایک مسافر دورران سفر رہتا ہے یا اجنبی کی طرح رہنا چاہئے، کیونکہ دنیا کسی بھی انسان کا وطن نہیں ہے ،واقعہ بھی یہی ہے کہ جو جتنا ہلکا پھلکا رہتا ہے ذہنی اعتبار سے اتنا ہی پر سکون رہتا ہے اور جو دنیوی جھمیلوں میں پڑجاتا ہے ان کا سکون وچین برباد ہوجاتا ہے ،لوگ چاہیں اسے رشک کی نظر سے دیکھتے ہوں مگر وہ خود اپنی نظر میں قابل رحم ہوتا ہے ،مسرت وشادمانی کا راز خوب مال ودولت کا حاصل کر لینا نہیں ہے بلکہ اس سے کنارہ کش ہوکر زندگی گزار نا ہی دراصل سکون زندگی کا باعث ہے،بہت سے لوگ مال ودولت اور شہرت ومنزلت کی چکر میں پڑ کر اپنی مختصر سی زندگی کا سکون برباد کر لیتے ہیں ،نہ صرف یہاں کی بے سکونی انہیں گھیر لیتی ہے بلکہ آخرت میں بھی ان کے لئے بڑا خطرہ لگا رہتا ہے ۔
اس وقت کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ،اس کی دہشت سے پوری دنیا خوف زدہ ہے ،یہ خطرناک بیماری دنیا پر سایہ کی طرح منڈلا رہی ہے ،ہر ایک ڈر کے مارے اپنے اپنے گھروں میں بند ہے،بڑی بڑی طاقتیں اس وقت بے بس نظر آرہی ہیں ،سائنسی ایجادات نے گھٹنے ٹیک دئے ہیں ،بڑے زور وشور کے ساتھ دندناتے پھرنے والے گھروں میں دم روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ،بہت سے تو ڈر ڈر کر ہی مرے جارہے ہیں ، ایک دوسرے سے ملے بغیر جن کا کبھی گزارا مشکل تھا آج ان سے ملنا بھی گوارا نہیں ہے ، ملاقات بھی کر رہے ہیں تو دل میں ایک انجانا سا خوف طاری ہے، اکثر وبیشتر لوگ محدود بلکہ معمولی وسائل کے ساتھ زندگی جی رہے ہیں ، جو کبھی گھروں میں کم اور زیادہ تر باہر اپنا وقت گزارتے تھے ،اب باہر نکلنے سے گھبرانے لگے ہیں ،جنہیں روز انہ کے لئے بہت کچھ چاہئے ہوتا تھا وہ موجود چیزوں پر اکتفا کرکے خوش ہیں ، جن کے ہفتہ واری اخرجات ہزاروں ،لاکھوں میں تھے اب سینکڑوں بھی نہیں ہیں ، جو فضولیات کو ضروریات سمجھ بیٹھے تھے وہ جان چکے ہیں کہ اس کے بغیر بھی گزارا کیا جاسکتا ہے ، جو دوسروں پر طنز کے تیر برسایا کرتے تھے اور ان کی سادگی وقناعت پسندی کی تضحیک کرتے تھے آج انہی سے سبق سیکھ رہے ہیں ، جو کسی وقت موٹی اور کثیر رقم والی تنخواہ کو معمولی گردانتے تھے اور اخرجات کے ناکافی ہونے کا رونا روتے تھے آج سمجھ چکے ہیں کہ کم سے کم خرچ میں کیسے گھر چلایا جاسکتا ہے،جو بہانے بہانے سے دعوتوں اور پارٹیوں کے ذریعہ دولت کی نمائش اور پانی کی طرح پیسہ بہایا کرتے تھے وہ جان چکے ہیں کہ اس کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے ، جو دوسروں سے بے خبر ہو کر اپنی زندگی میں مگن تھے آج انہیں دوسروں کا احساس پیدا ہو چکا ہے ، اے، ٹی، یم بند ہونے کی وجہ سے اور بر وقت رقومات نہ نکالنے کی وجہ سے انہیں روپیوں کی قدر وقیمت کا اندازہ ہو چکا ہے ، وہ کسی دکاندارکے پاس جاتے ہیں اور اس سے سامان خرید نے کے بعد مطلوبہ رقم میں کمی کی درخواست کرتے ہیں اور جب وہ حقارت سے انہیں دیکھتا ہے تو اس وقت انہیں اپنی پچھلی زندگی یاد آجاتی ہے کہ کسی وقت وہ بھی مساکین اور ضرورت مندوں کو ایسی ہی نظروں سے دیکھا کرتے تھے اور بے چارہ سر جھکا کر انکھوں میں آنسو لئے نکل جاتا تھا ،رات کے وقت جب گھر میں کوئی چیز کی ضرورت پڑتی ہے تو اس وقت وہ مجبوری اور لاچاری کی مورت بن جاتے ہیں ، اس وقت انہیں غریبوں کی یاد آنے لگی ہے جن کے گھروں میں مہینوں غربت کا ڈیرہ پڑا رہتا ہے ،وہ بھوک پیاس سے مقابلہ کا تو حوصلہ تو رکھتے ہیں مگر عزت نفس سے شکست کھا نے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں ، بعض گھروں میں شادیوں کی تیاری پوری ہو چکی ہیں ،چھٹیوں پر ان کے متعلقین آئے ہوئے ہیں مگر ان حالات میں دھوم دھام سے اور پُر تکلف دعوت دینا ان کے لئے ممکن نہیں ہے ،ان حالات میں بلا شور وشرابہ ،مختصر افراد اور کم خرچ میں وہ شادی کر نے کے لئے تیار ہیں اور بہت سوں نے اس کا تجربہ بھی کیا ہے ،وہ جان چکے ہیں کہ اس طرح سے شادی بیاہ کی جاسکتی ہیں بلکہ اسی سادگی میں انہیں خیر وعافیت نظر آتی دکھائی دی ہے ،جس انہوں نے بر ملا اظہار بھی کیا ہے،ان سب چیزوں کو دیکھ کر و ہ زبان حال وقال سے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ زندگی بالکل بھی مشکل نہیں بلکہ نہایت آسان اور سہل ہے ۔
اگر انسان غور وفکر سے کام لے ، اسلامی اصولوں اور نبوی سیرت کے مطابق زندگی گزار نے لگے تو اسے قدم قدم پر محسوس ہوگا کہ زندگی کس قدر سہل اور آسان ہے ،سادگی میں عافیت ہے اور بے جا تکلفات میں تکلیف ہے ،انسان پر تکلیف آتی نہیں وہ خود لاتا ہے ،انسان چاہئے تو بہت کم خرچ میں اپنی ضروریات کی تکمیل کر سکتا ہے اور بقیہ کو دوسروں کی خدمت میں صرف کر سکتا ہے ، درحقیقت جینا اسی کا نام ہے کہ جو دوسروں کے لئے ہو،انسان چاہئے توجسمانی وذہنی تھکاوٹ اور دیگر پریشانیوں سے خود کو دور رکھ سکتا ہے مگر اس کے لئے اسے کفایت شعاری ،سادگی اور بقدر ضرورت پر عمل کرنا پڑے گا جیسا کہ اس وقت بہت سے لوگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ،موجودہ حالات نے ہمیں بہت کچھ سیکھا یا ہے ،بس ہمیں سمجھنے اور سیکھنے اور اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی ضرورت ہے ، اگر ہم زندگی میں سکون واطمینان چاہتے ہیں اور بقیہ زندگی کو پُر بہار بنا نے کا ارادہ رکھتے ہیں تو قرآنی ونبوی نسخہ پر عمل کرنا ہوگا، دنیا میں بقدر ضرورت ہی دل لگانا ہوگا ،اصلی گھر یعنی آخرت کی فکر وتیاری کرنا ہوگا اور اتنا ہی سامان رکھنا ہوگا جتنا کہ اٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں اور اس کا حساب دینے کے لئے تیار ہیں ،یقینا جو آخرت کی فکر کرتا ہے دنیا کے غم سے نجات پاجاتا ہے اور جو آخرت کی عظیم نعمتوں سے بہر ور ہونا چاہتا ہے وہ دنیا کے حقیر چیزوں میں الجھتا نہیں ، جس کے نتیجہ میں دنیا کے غم سے آزاد ہو کر زندگی گزار تا ہے اور کہتا ہے زندگی تو کتنی آسان ہے ۔
٭٭٭٭٭