Tue, Mar 2, 2021
لاک ڈاؤن کے(55) فائدے۔
مولانا محمد عبد الحمید السائح قاسمی
ناظم: مدرسہ معاذ بن جبل بودھن،
(9441086528)
         ۔کروناوائریس بیماری کی وجہ سے پورے ملک میں  22،مارچ2020،بروز اتوار، سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا۔  مکمل تین مہینے ہوگئے۔ اس عرصے میں لاک ڈاؤن سے بہت سے فائدے بھی ہوئے۔  1)ملک کے شہریوں کی اس بیماری سے جان بچی۔   2)زندگی میں سب سے بڑی فرصت ملی۔  3)گھروں میں بیوی بچوں اور ماں باپ کے ساتھ وقت گزارنے کا لمباموقع ملا۔  4)گھروں کے پینڈنگ بہت سے کام انجام پاگئے۔  5)صبح جلدی اُٹھ کر کاروبار میں لگنے کی عادت پڑی۔  6)رات میں جلدی سونے کی سُنّت زندہ ہوئی۔  7)شادی سادی ہوگئی۔مسجد میں نکاح کی اہمیت بڑھ گئی۔   8)شادی میں فُضول خرچ کی جانے والی، اُمّتِ مسلمہ کی، لاکھوں روپے کی بہت بڑی رقم بچ گئی۔ 9)دعوتیں مَحدُود اور مُختصَر ہوگئی۔ وقت کی پابند ہوگئی۔ رات کی بربادی سے نجات ملی۔  10)غریب بچیوں کی شادی آسان ہوگئی۔ 11)عَقَد اور وَلیمہ میں بیانڈ نہیں، باجہ نہیں، ڈی جے نہیں، میوزک نہیں، لائیٹنگ نہیں، شادی خانے نہیں، پودینہ کا ہار نہیں، دس قسم کا کھانا نہیں، کئ قسم کا میٹھا نہیں، چکن کے مختلف قسم کے ڈِش نہیں، ہزاورں دعوتی نہیں، اِسٹیج کا ڈِکوریشن نہیں، استقبال کے لئے ننگے بدن کی کرائے کی لڑکیاں نہیں، کھانا پہنچانے والے ویٹرس نہیں،ویڈیو گرافی نہیں ۔    12)مسلمان کا ہر گھر مسجد بن گیا۔چنانچہ گھروں میں نماز کا، تراویح کا،ذکر کا،تلاوت کا،اور تعلیم کا ماحول بنا۔  13)حافظ عالم اور مُعلّم کی ضرورت محسوس ہوئی ۔  14)دینی مدارس کی قدر معلوم ہوئی ۔15)مساجد کی اہمیت سمجھ میں آئی۔ 16)جمعیۃ علماءِ ہند کی خدمات واضح ہوئیں۔  17)کُل جماعتی علماء کا اتحاد سامنے آیا۔تنظیموں اور فرقوں کا اختلاف کم ہوگیا۔   18)تبلیغی جماعت کے ساتھ ہر مسلک کی ہمدردی دیکھنے کو ملی۔ 19)مسلمانوں کی ،ملک کے تمام باشندوں کے ساتھ ریلیف کی خدمات نے اسلام کے انسانیت نواز پیغام کو عام کیا۔ 20)مُہاجِر مَزدوروں کے ساتھ روڑوں پر نوجوانوں کی  امداد سے داڑھی ٹوپی سے اپنائیت پیدا ہوگئی۔ سُلطان الھند حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی مقبولیت، دنیا کو معلوم ہوئی۔    21)دارالعلوم دیوبند کی عظمت  دنیا کے سامنے پیش ہوئی۔ 22)جامعہ اکل کوا نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ۔ 23)دارالعلوم ندوۃ العلماء کا پیامِ انسانیت کام آیا۔ 24)ڈاکٹروں کا کردار سب میں زیادہ قیمتی ثابت ہوا۔  25)پولیس نے بھی رات دن محنت کرکے قوم کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔ 26)ریاستی حکومت نے علاج کے لئے بہترین انتظامات کئے۔  27)تلنگانہ حکومت نے دو مہینے تک غریبوں کی پندرہ پندرہ سو روپے کی مدد کی۔ سفید راشن کارڈ پر  ہر آدمی کو بارہ بارہ کلو چاول، تین مہینے تک مفت دی۔ 28)مرکزی حکومت نے کسی کسی کے اکاؤنٹ میں پانچ پانچ سو روپے کی رقم جمع کی۔ 29)تلنگانہ سرکار کی ائمہ و موذنین کو دو مہینے کے اِعزازِیہ( پانچ پانچ ہزار روپے ) کی امداد ملی۔  30)بودھن میں یم ایل اے شکیل صاحب کی جانب سے تیرہ ہزار راشن کِٹ اور نَوْ لاکھ کھانے کے پاکٹوں کی تقسیم عمل میں آئی۔       31)دسویں جماعت کے  سوَّا لاکھ بچے بغیر امتحان کے کامیاب ہوگئے۔  32)صَوتی آلودگی کم ہوگئی ۔اور فضائی آلودگی بھی کم ہوگئی ۔33)جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔لڑائی جھگڑے کم ہوگئے۔    34)زمین خریدی کی حِرص ختم ہوگئی۔  35)دواخانوں، عدالتوں، پولیس اسٹیشنوں اور بس اسٹیشنوں پر بھیڑ کم ہوگئی۔  36)صاف ستھرا رہنے کی عادت عام ہوگئی۔  37)سیکولر غیر مسلم بھائیوں کی مسلمانوں کے ساتھ محبت  بہت زیادہ نظر آئی۔  38)ایک مدت تک شراب بند رہی۔39)شیطان کے اڈّے سینماہال بند ہوگئے۔ 40)کمپنیوں کو مُہاجر مزدوروں کی اہمیت معلوم ہوئی۔ اور مقامی مزدوروں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوگئے۔41)بےکارلوگوں کو پیسے کی قدر و قیمت سمجھ میں آئی ۔ عام دنوں میں محنت مزدوری سے آنگ چُراتے تھے۔   42)تنگ دستی کی وجہ سے غریبوں کو کام کی تلاش بڑھ گئی۔          43)مالداروں کو جان کی قیمت کا اندازہ ہوا۔  44)اکابر علماء کی آن لائن مجالس قائم ہوئی  ۔45)آن لائن عالمیت کی تعلیم کا سلسلہ چل پڑا۔  46)کئ لوگوں نے گھروں میں قرآن مکمل پڑھا۔ اور سنایا،   47)صاحبِ خیر لوگوں نے آن لائن دینی مدارس کی مدد کی۔    48)عورتوں نے بھی صدقہ خیرات میں خوب حصہ لیا۔ کھانا راشن بانٹا،لکھنؤ میں عُظمیٰ بہن نے ہر روز مسجد،مندر،گلی کوچوں میں سنٹیزرنگ کا کام کیا۔  49)پوری قوم بغیر شاپنگ کے سادگی کے ساتھ عید منا کر قربانی کی بہت بڑی مثال قائم کردی۔  50)اس بیماری سے لڑنے کے لئے ملک کے خزانے میں سب سے زیادہ مسلم مالداروں نے اپنی رقم جمع کرکے ملک سے سچیّ محبت کی اور انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی بہترین تاریخ بنائی۔ 51)گودی میڈیا کو زہر پیھلانے پر مُتَّحِدہ عرب امارات کی شہزادی نے سوشل میڈیا کے ذریعے مُنہ پہ طمانچہ مارا۔ 52) ملک کی تعلیم یافتہ غیر مسلم بیٹیوں نے فرقہ پرستی کی کُھل کر مخالفت کی۔ 53)ہوٹلوں کے کھانے سے حفاظت ہوئی۔54)مدرسہ معاذ بن جبل بودھن میں، مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے نام سے 4000،کتابوں کے “کُتُب خانۂ مدراسی ” کا کام ہوا، مدرسے کے مہمان خانہ کے لئے 600،فٹ کے ٹین شیڈ کا کام ہوا،طلبہ کے طعام خانہ کےلئے ایک ہزار اسکوائر فٹ کی بھرنتی اور فرشی کا کام ہوا۔ اور کلاس روموں کے دو بڑے کمروں کا تعمیراتی کام جاری ہے۔     54)اہلِ قلم علماء نے موقع کو غنیمت جان کر بہت بڑا تصنیفی کام کیا۔  حضرت مولانا سید احمد ومیض ندوی صاحب حیدرآباد خلیفہ پیرذوالفقار نقشبندی صاحب نے کروناوائریس بیماری اور اس کے علاج پر 318،صفحات کی کتاب لکھی۔۔     55)اِن کاموں سے یہ سبق ملا کہ ہم بھی ملک و ملت کےلئے کچھ کام آجائیں۔