Thu, Feb 25, 2021
کروناوائریس بیماری سے اپنے آپ کو کیسے بچائیں۔۔۔۔؟
مولانا محمد عبد الحمید السائح قاسمی
ناظم مدرسہ معاذ بن جبل بودھن

اس وقت پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں “کروناوائریس بیماری” کی وجہ سے بہت بڑی تباہی مچی ہوئی ہے۔ اس عَالَمی بیماری کو اپنے اِس محبوب ملک “ہندوستان” میں مرکزی و ریاستی حکومت کی جانب سے “قومی آفت” قرار دیا گیا ہے۔ اس بیماری سے  متعلق باقاعدہ حکومت کے قوانین اور ڈاکٹروں کے ہدایات بھی جاری ہوچکے ہیں۔ جس کی خلاف ورزی سنگین جرم قرار دی گئی ہے۔  پورے ملک میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری سے مُتأثِّر ہونے کی خبر ہے۔ جبکہ خود ہماری پیاری “ریاستِ تلنگانہ” میں پندرہ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور ڈھائی سو سے زیادہ لوگ اس وبائی مرض سے وفات پا چکے ہیں۔ خاص طور پر شہرِ حیدرآباد دکن میں یہ وباء بہت عام ہوچکی ہے۔ جہاں آج کل میں مکمل “لاک ڈاؤن” زیرِ غور ہے۔ بڑے بڑے دواخانے بھی  بیماروں سے بھرے پڑے ہیں۔اس بیماری  کے علاج کے لئے تلنگانہ حکومت بڑے پیمانے پر اچھے انتظامات کرچکی ہے۔ گھبرانے کی اور خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صرف احتیاط ہی کی ضرورت ہے۔   ایسے وقت کسی بھی طرح کی غفلت اور لاپرواہی بےانتہاء مصیبت کا سبب بنتی ہے ۔ معمولی بیماری کو بھی کمزور نہ سمجھیں، فوری علاج کرائیں، یا بیمار ہونے سے بچیں، پانی میں نہ بِھگیں، سردی کھانسی، بخار کے لئے گھریلو دواؤں کے نسخے؛ کلونجی، شہد، ادرک، اور کُنکُنا پانی وغیرہ استعمال کریں،۔البتہ اس کوویڈ(19) بیماری کا علاج، بِلاضرورت گھروں کے باہر نہیں نکلنا ہے، سفروں سے بچنا ہے، ہر ایک سے ہاتھ ملانے سے بھی پرہیز کرنا ہے اور “سماجی فاصلہ” برقرار رکھنا ہے۔ یعنی “جسمانی دوری” کے ذریعے اس بیماری سے بچا جاسکتا ہے۔ اس لئے بھیڑ جمع کرنے کی اور بھیڑ کی جگہ ٹھیرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ابھی تک تمام ہی تعلیمی ادارے،اسکول،کالج، دینی مدرسے اور فنکش ہال، اسی طرح سینما ہال، سب مکمل طور پر بند ہیں۔ کسی دعوت یا تقریب میں  حتّیٰ کہ شادی میں بھی چالیس پچاس سے زیادہ آدمی جمع ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔راجستھان کے ضلع کلکٹر نے پچاس سے زائد آدمیوں کو شادی میں کرنے پر،اور ماسک، و سماجی فاصلہ ملحوظ نہ رکھنے پر،چھ لاکھ روپے جرمانہ لگایا ہے۔ اگر کسی کو کروناپازیٹو آگیا تو پھر تمام “دعوتیوں” کو بھی کورینٹین ہونا پڑتا ہے۔ لھذا غیر ضروری کسی تقریب میں شرکت کرنے سے احتراز کرنے میں ہی عافیت ہے۔دعوت اور شادی میں بھی مناسب فاصلے کے ساتھ  دُور دُور کھڑے رہنے کا حُکم ہے۔ جلسہ اور اجتماع کو بھی کوئی پرمیشن نہیں ہے۔ اس بیماری سے حفاظت کے لئے  گھر سے باہر نکلتے وقت “ماسک” لگانا بھی ضروری ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں “نقد جُرمانہ ” ہے۔ اس بیماری سے احتیاط کے لئے کسی چیز کو “نہ چُھونا” بھی شامل ہے۔ کام کے وقت اور کوئی چیز تقسیم کرتے وقت ہاتھوں میں دستانے پہننے کی ہدایت ہے۔۔  مسجد میں نماز کے لئے بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی علماء کرام نے بار بار تاکید کی ہے۔ جماعت بناتے وقت، صف میں ہر آدمی کے درمیان فاصلہ رکھنا، فرض نماز مختصر پڑھانا،  گھر سے وضو کرکے آنا، سُنّت و نوافل بھی گھر پر ہی ادا کرنا۔ ٹوپی بھی گھر سے ہی پہن کر آنا۔ مسجد کی چیزیں، تُوال،ٹوپی، جائے نماز، طہارت خانے، بیت الخلاء، وضو خانہ، استعمال کرنا نہیں ہے۔ ضعیف العُمر، مریض حضرات ،اور چھوٹے بچّے بھی گھروں میں ہی نماز ادا کرنا ہے۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت فاصلے کا خاص خیال رکھنا،کہیں بھی داخل ہونے کے بعد “سینی ٹائزر” استعمال کرنا ہے۔  یا صابن وغیرہ سے ہاتوں کو اچھی طرح دھونا ہے۔ یہ تو بیماری سے بچنے کی “ظاہری صورتیں” ہوئی۔ اِن پر بھی عمل ضروری ہے۔  مگر بیماری سے بچنے کی حقیقی صورتوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی قوم میں “زناکاری، بدکاری، بےحیائی، اورفحّاشی “بڑھ جاتی ہے،تو اُس قوم میں عذاب کے طور پر بیماری کی وباء پھیل جاتی ہے۔ اس لئے ہر فَردِ بَشَر  اس بُرے عمل سے بچے، توبہ کرے، صدقہ نکالے، استغفار کرے، اور روزانہ دو رکعات نماز پڑھ کر اللہ سے دُعا مانگے، ختمِ خواجگان کا اہتمام کرے، بخاری شریف ختم کرے، آیتِ کریمہ پڑھے، بیماری سے حفاظت کے لئے مسنون دعائیں پڑھے۔ ہر روز صبح و شام  بیمار لوگ سورۂ فاتحہ اور “یَا سَلَامُ” کا وِرد کرکے اپنے اوپر دم کرلیں،
اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاں بیماری کی وباء عام ہوجائے وہاں سے نہ نکلیں، اور نہ باہر کے لوگ اس وباء کی جگہ میں داخل ہوں، لھذا تمام افراد اپنے اپنے مقام پر رہیں، خدانخواستہ اس وبائی  بیماری کی وجہ سے “موت” آ بھی جاتی ہے تو  “شہادت” کا ثواب ملتا ہے۔ ویسے بھی وباء  کی جگہ پر ہر ایک کو موت نہیں آتی ہے۔ موت و حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی کو موت نہیں آتی ہے۔ اور وقت سے پہلے بھی کسی کو موت نہیں آتی ہے۔ شفاء بھی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے ۔چنانچہ صحّت یابی کے واسطے بھی اللہ ہی دعا مانگنا چاہیے۔۔اللہ نے قرآن میں بھی شفاء رکھی ہے، قران بھی پابندی سے پڑھنا چاہیے۔   کروناوائریس بیماری میں بھی الحمدللہ  اکثر لوگوں کو شفاء نصیب ہوئی ہے۔ صحت یاب ہونے والوں کی شرح ساٹھ فی صد سے زیادہ ہے۔ جو خوش آئیند بات ہے۔ ان شاء اللہ ہاسپٹال میں زیرِ علاج بیمار لوگ بھی جلد شفاء یاب ہوجائیں گے۔لیکن اپنے آپ کو، اپنے گھروالوں کو اور سب لوگوں کو بیماری کی وباء سے بچانے کے لئے ظاہری تدابیر  اور باطنی اسباب، دونوں پر نہایت باریک بینی سے توجّہ دینا چاہیے۔  مَحکمئہ صحّت کی ہدایات اور حکومت کی جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری ایک کی غلطی کی وجہ سے پوری قوم کو سزا ملے۔ ورنہ پوری قوم کی تباہی اور بربادی کا وبال ہم پر نازل ہوگا۔۔۔ اللہ تعالی ہم سب کی اور پوری انسانیت کی اس بیماری سے حفاظت فرمائے  (آمین )