Wed, Feb 24, 2021

علماء واکابرکی بکثرت رحلت ۔ لمحہ فکریہ
از قلم: عبد القوی ذکی حسامی
امام وخطیب مسجد لطف اللہ دھاتو نگر حیدرآباد
9951271316

علم اور جہل دو متضاد تصورات کا نام ہے، ان میں کا کوئی ایک اگر ہو تو لازما دوسرا معدوم رہتا ہے ، جہل فطرۃ ناکامی کی طرف لے جاتا ہے ، علم کامیابی کی سمت قدم بڑھاتا ہے ، جہل ایک ادھیرنگری ہے جس میں انسان بھٹکتے پھرتے ہیں ، علم روشنی ہے جس سے سمت منزل کی راہ دکھائی دیتی ہے ، جہل پستی کانام ہے علم بلندی کا، جہل کے خوگر سماج کے جس طبقہ میں ہو دردسر ہیں،علم کے پیکر صحرا وبیاباں میںبھی ہو تو آب حیات ہیں، جہل سے فطرۃ انسان کی طبعیت کا حصہ ہوتاہے ،قرآن پاک ارشاد باری ہے ھو الذی اخرجکم من بطون امھتکم لاتعلمون شیئا(پارہ۱۴)اور علم کو تگ ودو مطلوب ہے باوجود اپنا سب کچھ لٹانے کے وہ تھوڑاسا حصہ دیتا ہے وما آتیتم من العلم الا قلیلا(پارہ۱۵)۔انسان اپنے خدا کو علم صحیح سے ہی جان سکتا ہے اسی لئے وحی کا آغاز لفظ اقرء سے ہوا۔جس قوم کی ابتداء تعلیم وتعلم سے ہوئی اب اسی کی انتہاء جہل کے سایہ میں ہورہی ہے، قیامت کا قطعی علم تو اللہ ہی کو ہے تاہم قرب قیامت سے قبل بہت ساری باتیں وقوع پذیر ہوں گی جنکے متعلق صادق وامین حضرت محمد ﷺکے بیشمار ارشادات احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں اور انکا ظہور یقیناہوکر ہی رہے گا۔نبی اکرم ﷺنے بہت ساری علامات بتلائی ہیں ، جس سے اندازہ ہوتا ہے قیامت کاوقوع بالکل ہے۔ سب سے پہلی نشانی خود آپﷺ کا اس دنیا میں تشریف لاناہے۔ آپﷺ نے ارشادفرمایا بعثت انا والساعۃ کھاتین(صحیح بخاری) مجھے اور قیامت کوان دو انگلیوں کی طرح ہے بھیجا گیا ہے۔اس کے علاوہ بہت سی علامات بیان فرمائی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اہل اللہ بزرگان دین سے دنیا خالی ہوجائیگی اور صرف شریر لوگ باقی رہیں گے، علماء ربانیین انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کے وارث اور جانشین ہیںجو قوم کوخدا اور رسول ﷺکی تعلیمات سے آشنا کراتے ہیں ،صراط مستقیم والے راستے پر گامزن ہونے کی رہبری کرتے ہیں ایسے حضرات کا دنیا سے اس قدر تیزی سے رخصت ہونا بہت افسوس کی بات ہے اور یہ قیامت کی نشانی بتلائی گئی ہے ،روایت میں آتا ہے آپﷺ نے ارشاد فرمایا یذھب الصالحون الاول فالاول وتبقی حثا لۃ کحثا لۃالشعیر او التمر لایبالیھم اللہ بالۃ (رواہ البخاری )نیک لوگ یکے بعد دیگرے اٹھتے جائیں گے کھجور اور جو کی تلچھٹ کی طرح انسانیت باقی رہ جائیگی اللہ رب العزت کو ان کی کوئی فکر نہیں ہوگی ،موجوہ وقت میں اہل علم کی رحلت کو اس حدیث کا مصداق کہیں تو بالکل بے جانہ ہوگا،حدیث پاک کے الفاظ پر معمولی غور وفکر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نیک لوگ کی اہمیت کس قدرزیادہ ہے۔ انکے رخصت ہونے کے بعدجو لوگ دنیا میں رہیں گے انہیں تلچھٹ سے تشبیہ دی ہے ۔ تلچھٹ کسی بھی چیز کے بالکل آخری بچے ہوئے حصہ کو کہتے ہیں ،روایت میں مثال کے ذریعہ بتلایا گیا کھجور یا جو کی ردی جیسے لوگ باقی رہ جائیں گے ،آگے ارشاد فرمایا آپﷺ نے اللہ رب العزت کو ان کی کوئی فکر نہیں ہوگی ،حسی طور پر جیسے ہمیں ردی سامان کے کھونے کا غم نہیں ہوتا ایسے ہی اللہ کو ان لوگو ں کی کوئی فکر نہیں ہے جو اہل اللہ کے رخصت ہونے کے بعد رہیں گے۔اسی طرح ایک دوسری روایت ہے جو اہل علم کے اٹھائے جانے کوقیامت کی نشانی بتلائی گئی ہے ان اللہ لایقبض العلم انتزاعاینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء من لم یبق عالما اتخذ الناس رووسا جھالا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا واضلوا (متفق علیہ ومشکاۃ)اللہ تعالی علم کو آخری زمانہ میں اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لو گوں کے دماغ سے نکال لے ، بلکہ علم اس طرح اٹھائے گا کہ علماء اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کے جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو مقتداء بنالیں گے ان سے مسئلہ پوچھیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروںکو بھی گمراہ کریں گے۔ اس اعتبارسے بھی یہ حدیث کا مصداق اگر اس زمانہ کو کہیں تو بے جا نہ ہوگا ،گذشتہ چند سالوں سے یکے بعد دیگرے علماء واکابر اس تیزی سے رحلت فرمارہے ہیں کہ جس تیزی کیساتھ موسم سرد میں درخت سے پتے گرتے ہیں ،جن علمائے کرام کا انتقال ہوا ہے وہ کوئی متوسط درجہ کے عالم نہ تھے بلکہ ان کا شمار چوٹی کے علماء میں ہوتا ہے ،وہ اپنی جگہ ایک انجمن تھے ،یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ موت سے کسی کو فرار نہیں ہے ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ارشاد باری ہے کل نفس ذائقۃ الموت (پارہ۴ )لیکن اس تیزی سے انتقال قرب قیامت کو بتلاتا ہے جسکی پیشن گوئی آپﷺنے دی ہے۔اب ذرا ہم اس حدیث کے الفاظ پر غور کریں آپﷺ نے فرمایا علم کو بشکل علماء اٹھالیا جائیگا لہذا جب علم اور علماء نہیں رہیں گے تو وہ لوگ مقتداء ہوں گے جنہوںنے علم کی خوشبو بھی نہ سونگھی ہوگی سو ایسے لوگ بغیر علم وتحقیق کے فتویٰ دیں گے جس سے گمراہی اور بے دینی کا پھیلناایسا یقینی امرہے جیسا دودھ کے سفید ہونے کاعلم ہے۔نااہل لوگ جب پیشواء ہوں گے تو سماج اور معاشرہ میں بد امنی اور بے چینی پھیلے گی، منکرات اختیار کئے جائیں گے معروفات متروک ہوں گے،غریبوں اور مسکینوں کا حق تلف کیا جائیگا ،مالداروں کانشہ بڑھتا جائیگاوغیرہ ۔الغرض وہ سب کام کئے جائیں گے جو خدا کے قہر کو دعوت دیں گے۔گذشتہ صرف دو ماہ کی مختصر مدت میں کتنے علماء واکابر اس دنیا سے رخصت ہوئے ذرا ہم اندازہ کریں ۔
۱۔معروف عالم دین اور عامل جامعہ اشرفیہ لاہور کے استاذ اور درجنوں کتابوں کے مصنف مولانا ارشد حسن ثاقب صاحب کا ۱۴ ؍اپریل ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۲۔اسی دن مشہور عالم دین پشتو اور اردو زبان کے قد آور خطیب مولانا سید شاہ عبد العزیز صاحب کا بھی انتقال ہوا۔
۳۔بنگلہ دیش کی مذہبی جماعت خلافت مجلس کے نائب سربراہ اور مشہور عالم دین زبیر احمد انصاری صاحب۱۸ ؍اپریل ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۴۔مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے رہنما جامعہ محمدیہ گوجرنوالہ کے شیخ الحدیث والتفسیر مفتی عبد الحمیدصاحب ہزاروی ۹؍مئی ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۵۔محبوب العلماء امام اہل سنت مفکر اسلام جسٹس علامہ ڈاکڑ خالد محمود صاحب۱۴؍مئی کو انتقال فرماگئے۔
۶۔ دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث وصدر المدرسین اور ناظم ختم نبوت شارح حجۃ اللہ البالغہ مفتی سعید احمدصاحب پالنپوری ۱۹؍ مئی ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۷۔داعی توحید وسنت حضرت عبید الرحمن ضیا ء صاحب ۲۷؍ مئی ۲۰۲۰؁ ء کو انتقال فرماگئے۔
۸۔تنظیم المدارس کے چیرمین علامہ غلام محمدصاحب سیالوی ۲۹؍مئی ۲۰۲۰؁ ء کو انتقال فرما گئے۔
۹۔متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے ممبر پروفیسر عبد الرحمن صاحب لدھیانوی ۳؍جون۲۰۲۰؁ ء کو انتقال فر ماگئے۔
۱۰۔شیخ الحدیث جامعہ سلفیہ ناظم اعلی وفاق المدارس مولانا یونس بٹ صاحب ۵؍جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۱۔ممتاز روحانی شخصیت خانقاہ امدادیہ اشرفیہ مہتمم وسرپرست ڈاکٹر عبد المقیم صاحب ۵؍ جون ۲۰۲۰؁ ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۲۔جماعت اسلامی ہند کے سینیر رہنما مولانارفیق احمدصاحب قاسمی ۶؍ جون۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۳۔الحاج صغیر احمدصاحب خلیفہ شیخ زکریا کاندھلویؒ ۸؍ جون ۲۰۲۰؁؁؁ء کو انتقال فرما گئے۔
۱۴۔بزرگ عالم دین مجاھد ختم نبوت وکیل ناموس صحابہ پیر سید کبیر علی شاہ صاحب۱۳ ؍ جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۴۔قاری تصور الحق صاحب مدنی سیکریٹری جمیعت علماء برطانیہ ۱۸؍ جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۵۔ جامعہ اشرف العلوم کے مہتمم مولانا خواجہ عبد العزیز صاحب بہلوی ۲۰؍جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۶۔جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی نعیم صاحب ۲۰ ؍ جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۷۔دار العلوم زکریا پاکستان مولانا عزیز الرحمن ہزاروی صاحب ۲۳؍ جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۱۸۔امام وخطیب مسجد قادریہ عید گاہ قدوسیہ مولانا لطف اللہ مظہر رشادی صاحب ۲۴؍جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فر ماگئے۔
۱۹۔حیدرآبادکے معروف عالم دین ناظم وحد ت اسلامی مولانا نصیر الدین صاحب ۲۷؍ جون ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرماگئے۔
۲۰۔استاذ العلماء شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان مولانا منظور احمد صاحب کا ۳؍جولائی ۲۰۲۰؁ء کو انتقال فرما گئے۔
اناللہ وناالیہ راجعون ۔اللھم اغفرلھم وارحمھم ایک طرف ہم کو اس بات کا نہایت افسوس ہیکہ ایسے کبار علماء کی سرپرستی اور انکے فیض سے محروم ہوگئے۔تو دوسری طرف ہمیں اللہ کی رحمت واسعہ سے ناامید نہیں ہونا ہے۔ وہ ضرور ہماری دستگیری فرمائے گا،تاہم امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ موجودہ علماء کو غنیمت اور نعمت سمجھ کر ان سے بھر پور استفادہ کرنے کی کوشش کرے ۔لیکن ہمارا حال کچھ اس طرح ہے ۔
تروعنا الجنائز مقبلات
فنلھو حین تذھب مدبرات
(پے در پے آتے ہوئے جنازے ہمیں خوف وہراس میں مبتلا کردیتے ہیں مگر جب جنازے چلے جاتے ہیں تو ہم لہو لعب میں پڑجاتے ہیں۔)
اللہ جملہ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے۔