Tue, Mar 2, 2021
کلمہ پڑھنے والوں کی تکفیر
افراط وتفریط کے درمیان کی ایک معتدل راہ
الیاس نعمانی
امت مسلمہ کی علمی و فکری روایت میں بہت سے مسائل نہایت نازک اور حساس رہے ہیں، ان پر اظہار خیال سے پہلے ان کی بابت موجود علمی ورثہ کا مطالعہ اور سنجیدہ غور و فکر بہت لازمی ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں کوئی بھی شخص ان مسائل/مباحث کی نزاکت وحساسیت کا خیال کیے بنا نہایت افراط وتفریط کی بدترین صورتوں میں مبتلا ہوسکتا ہے، ایسے ہی نازک وحساس مسائل میں سے ایک مسئلہ “کلمہ گویوں کی تکفیر” کا ہے، یعنی ایسے افراد یا گروہوں کی تکفیر جو عقائد اسلامی بالخصوص توحید، رسالت و آخرت پر ایمان رکھنے کے مدعی ہوں۔
اس مسئلۂ تکفیر میں بھی ہمارے یہاں بہت سے افراد افراط یا تفریط کے شکار ہوتے رہے ہیں، ایسا بالعموم اسی لیے ہوتا ہے کہ (بالخصوص ایسے نازک مسائل میں) کوئی نظریہ قائم کرنے سے پہلے جس درجہ کے علمی و فکری ریاض کی ضرورت ہوتی ہے اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، بالخصوص اس سوشل میڈیائی دور میں صحافیانہ عجلت پسندی نے کسی نازک سے نازک مسئلہ میں غور و فکر کی کسی ضرورت کا احساس ہمارے بہت سے برادران میں نہیں چھوڑا ہے۔
ایک جانب کلمہ گویوں کی تکفیر کے سلسلے میں یہ نہایت غلط روش عام ہے کہ ذرا سا نظریاتی اختلاف بھی برداشت نہیں کیا جاتا اور عقائد اسلامی پر مکمل ایمان کے باوجود فورا تکفیر کردی جاتی ہے، ساتھ میں تجدیدِ ایمان وتجدیدِ نکاح کے فتاوی بھی دے دیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ روش نہایت غلط، لائق تنقید، غیر اسلامی وخلافِ شریعت ہے۔
غالبا اسی غلط روش کے رد عمل میں ہمارے یہاں ایک دوسری غلط روش یہ پائی جاتی ہے کہ  نہایت محکم و مضبوط شرعی بنیادوں پر کی گئی تکفیر کو بھی بغیر غور و فکر مسترد کیا جانے لگتا ہے، اور یہ جاننے کی مطلق کوشش نہیں کی جاتی کہ یہ تکفیر کہیں صحیح شرعی بنیادوں پر تو نہیں کی گئی ہے، ظاہر ہے کہ یہ روش بھی پہلی روش کی ہی طرح غلط ہے، اسلام کی بنیادی درجہ کی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ اسلام اپنے عقائد کے سلسلہ میں نہایت حساس ہے، اس باب میں وہ معمولی درجہ کے حذف واضافہ یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں دیتا، ہندو مت میں تو ایسا ہوسکتا ہے کہ بت پرستی کرنے والے سناتن دھرمی اور اس کو نہایت بڑی گمراہی کہنے والے آریہ سماجی دونوں ہندو کہلائیں، لیکن یہ اسلام میں ممکن نہیں ہے، یہاں عقائد کے باب میں نہایت حساسیت اور صلابت ہے، لہذا اگر کوئی شخص یا گروہ عقائد اسلامی پر ایمان رکھنے کا تو مدعی ہو لیکن ساتھ ہی میں ان عقائد میں چند اضافے و ترمیمات بھی کرے تو اس کی تکفیر خالص شرعی بنیادوں پر کی گئی تکفیر ہے، اور اس کو غلط کہنا خود ایک غلطی ہے۔
مثلاً اگر کوئی شخص یا گروہ یہ کہے کہ حضرات انبیا (علیہم السلام) کی مانند چند “دوسری شخصیات” کو بھی معصوم جاننا، بلکہ ان پر ایمان رکھنا لازمی ہے، اور انبیا کی مانند ان کی اطاعت کرنا بھی فرض ہے، اور جو شخص ان شخصیات کے لیے دین میں یہ مقام نہ مانے وہ مومن نہیں ہے، تو کیا اس کے اس نظریہ کو عقائد کے باب میں اضافہ نہیں کہا جائے گا، اور عقائد میں اپنی جانب سے اضافہ کرنے کا حکم کیا ہے؟ کیا اس بنیاد پر تکفیر بھی غلط ہے؟
حاصلِ کلام یہ ہے کہ تکفیر بہت نازک کام ہے، جس کو کرتے ہوئے از حد احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ بنا حقیقی بنیاد کے کی گئی تکفیر نہایت سنگین و خطرناک غلطی ہے، لیکن دوسری جانب کفریہ عقائد پائے جانے پر یہ تکفیر نہایت لازمی کام بھی ہے، اگر نہ کی جائے تو دین کا صحیح حال میں بچنا بھی مشکل ہے۔