Fri, Feb 26, 2021

’’ووٹ‘‘ امانت اور جمہوری طاقت
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

ریاستی الیکشن کمشنر نے تلنگانہ ریاست میں یکم ڈسمبر 2020 کو عظیم تر حیدرآباد کے بلدیاتی انتخابات کا دن مقرر کیا ہے ،اس دن جنہیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے وہ اپنے پسندیدہ امیدوار کے حق میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ،الیکشن کمشنر نے ایک سو پچاس وارڈوں کے امیدواروں کے لئے جی ایچ ایم سی میں 9238 پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ایک سو پچاس ممبران والی عظیم تر بلدیہ کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں ان کے علاوہ بعض امیدوار آزادانہ طور پر بھی کھڑے ہوئے ہیں ، جیسے جیسے حق رائے دہی کا دن قریب ہوتا جارہا ہے امیدواروں اور حلقوں کی عوام کے جوش وخروش میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ،جی ایچ ایم سی کے حدود میں ہر طرف گھما گھمی نظر آرہی ہے، جگہ جگہ جلسے اور جلوس منعقد کئے جارہے ہیں اور امید وار ریالیوں کی شکل میں اپنے حلقوں میں گھوم پھر کر ووٹروں سے ان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے نظر آرہے ہیں ، سیاسی جماعتوں نے انتخابی منشور جاری بھی جاری کئے ہیں اور اس کے ذریعہ ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کو شش میں لگے ہوئے ہیں اور کامیابی کے بعد اسے پورا کرنے کا وعدہ کرتے جارہے ہیں ، اس کے علاوہ ہرامید وار اپنے اپنے حلقہ کے ووٹروں سے دل وجان سے ان کی خدمت کرنے کا وعدہ کرتا نظر آرہا ہے اور نہایت لجاجت کے ساتھ ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کر رہا ہے، یہ بات سچ ہے کہ جمہوری ملک میں حقیقی بادشاہ ووٹر ہی ہوتے ہیں وہ جسے چاہتے ہیں کرسی پر بٹھاتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں کرسی سے اُتار دیتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ جمہوری ممالک میں ووٹ کو سب سے بڑی طاقت کہا جاتا ہے ،یہ الگ بات ہے کہ سیاسی بازی گروں ، شخصی مفاد پرستوں اور جمہوریت کے دشمنوں نے ووٹوں کے حصول کے لئے وہ طریقے استعمال کرتے جارہے ہیں جسے دیکھ کر جمہوریت بھی سرمشار ہو رہی ہے ،مثلا بھولے بھالے ووٹروں کو لبھا کر ووٹ حاصل کرنا ،مذ ہبیت کا سہارا لے کر ووٹ ڈلوانا ،ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا وغیرہ یہ وہ غیر جمہوری وغیر اخلاقی حرکتیں ہیں جس نے جمہوریت جیسے عظیم ستون کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ جمہوری ملک میں ووٹ کی کس قدر اہمیت ہوتی ہے ، کہنے والوں نے یہاں تک کہا ہے کہ جمہوری ممالک میں ووٹ کی طاقت نوٹ اور فوج سے بھی بڑی ہوتی ہے ، جس شہری کو رائے دہی کا حق حاصل ہوتا ہے گویا اس کے کندھے پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعہ ایسے شخص کا انتخاب کرے جو صاحب فہم ،انصاف پرور ، امانت دار ،دیانت دار،مخلص ، ہمدرد ،خیر خواہ اور ہمہ وقت عوام الناس کی خبر گیری رکھنے والا ہو ،کیونکہ ووٹ دینے والا اپنے ووٹ کے ذریعہ حکومت کی ذمہ داری اس شخص کے کندھوں پر ڈالتا ہے اور اس سے امانت داری کے ساتھ عوامی خدمت کی توقع رکھتا ہے ، جمہوری ممالک میں چونکہ عوام ووٹ کے ذریعہ اپنے قائد ین کا انتخاب کرتی ہے اور انہیں حکومت چلانے کی ذمہ داری دیتی ہے اس لئے نمائندہ کا انتخاب،حکومت کی تشکیل اور ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے عوامی ووٹ بڑی قدر وقیمت رکھتا ہے ،بسا اوقات ایک ووٹ ہی امیدوار کی قسمت بدلنے کے لئے کافی ہوجاتا ہے ، چونکہ ووٹ ہی کے ذریعہ حکمران منتخب ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر حکومت تشکیل پاتی ہے اور عہدے تقسیم کئے جاتے ہیں ،اس لئے ووٹ کے استعمال کو ملکی ،ملی اور قومی فریضہ کہا جاتا ہے بلکہ علماء کرام اور فقہائے عظام نے شریعت کی روشنی میں ووٹ کو ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے ، ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ سے آگے چل کر بہت سے نقصانات اٹھا نا پڑتا ہے اور پوری عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور یہ سب ووٹ نہ ڈالنے کی وجہ سے ہوتا ہے اس لئے اس میں حصہ نہ لینے والے کو ایک طرح کا مجرم قرار دیا ہے،شریعت کی نظر میں ووٹ کی چار حیثیت ہیں ،(۱) شہادت(۲)امانت (۳)وکالت (۴) سفارش، امید وار کے حق میں ووٹر اپنا ووٹ دے کر گویا اس بات کی شہادت اور گواہی دیتا ہے کہ یہ اس کی نظر میں ذمہ داری اٹھانے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے ، اس لحاظ سے ووٹ شہادت اور گواہی بن جا تا ہے ،قرآن مجید میں سچی شہادت دینے کی تاکید کی گئی ہے اور جھوٹی گوہی دینے سے سختی سے منع کیا گیا ہے ،ارشاد خداوندی ہے ’’اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو،اللہ کے خاطر گواہی دینے والے،چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو،یا والدین اور قریبی رشتہ دار وں کے خلاف ،وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جارہا ہے ) چاہے امیر ہو غریب ،اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا(تم سے) زیادہ خیر خواہ ہے ،لہذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو،اور اگر تم توڑ مروڑ کروگے (یعنی غلط گواہی دوگے)یا(سچی گواہی دینے سے) پہلو بچاؤ گے تو(یاد رکھناکہ)اللہ تمہارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے‘‘ (انساء) اس آیت مبارکہ میں صاف اور کھلے طور سے بتایا گیا کہ جب گواہی دینے کا وقت آجائے تو محض اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضاجوئی کے لئے گواہی دینا ،شخصیتوں کو سامنے رکھ کر یا دنیوی مفادات کو پیش نظر رکھنا یاپھر کسی کے دباؤ میں آکر سچائی سے گریز کرنا بدترین قسم کا جرم اور گناہ ہے ۔
شریعت میں ووٹ کی ایک حیثیت امانت کی ہے اور امانت کا اس کے مالک تک پہنچانا ضروری اور لازمی ہے،امانت میں خیانت کرنا اور کوتاہی برتنا سخت قسم کی بد دیانتی اور بدترین قسم کا جرم ہے ،قرآن مجید میں امانت کو ان کے حق داروں تک پہنچانے تاکید کی گئی ہے ،ارشاد خداوندی ہے’’یقینا اللہ تم کو حکم دیتا ہے تم امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ‘‘(انساء: ۵۸) اس آیت میں امانت کو ان کے حقداروں تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے ،ایک دوسری آیت میں ٹھیک طرح سے امانت پہنچانے والوں کی تعریف کے ساتھ انہیں دائمی جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے ، نیز متعدد احادیث میں خیانت کرنے والوں کے لئے سخت جملے استعمال کئے گئے ہیں ،ایک حدیث میں آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ’’ جو امانت دار نہیں اس میں ایمان نہیں اور عہد کی پاسداری نہ کرتا ہو اس میں دین نہیں‘‘(مسند احمد)،ووٹ کو شریعت میں امانت کا درجہ حاصل ہے ،اب ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ حق دار تک اس مانت کو پہنچائے ،اس میں کوتاہی سے کام لیتے ہوئے خیانت کا مظاہرہ نہ کرے ،ووٹ کا استعمال بھی کرنا ہے اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ اسے حقدار تک پہنچانا بھی ہے ، اس میں کسی بھی طرح کی خیانت کا ارتکاب کرنا شریعت کی نظر میں ایک قسم کا بدترین جرم ہے۔
ووٹ کی تیسری حیثیت وکالت کی ہے ،ووٹر جس امید وار کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے گویا وہ اسے اپنی طرف سے ملک وقوم کے حقوق عامہ میں اپنا وکیل بناتا ہے ،ووٹر جسے ووٹ دے رہا ہے اسے اپنا وکیل بناکر اس کے اچھے ،فرض شناس اور قوم وملت کے لئے ہمدردر ہونے کا اظہار کررہا ہے ،امید وار کے کامیاب ہونے کے بعد اگر وہ اپنا فرض منصبی بخوبی نبھاتا ہے اور وکیل بنائے جانے کے فیصلہ کو اپنے فعل وکردار کے ذریعہ درست ثابت کراتا ہے تو یقینا مؤکل بھی اس کے عمل میں برابر کا شریک ہوکر اجر پاتا ہے اور اگر وکیل یعنی کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے فرض منصبی سے راہ فرار اختیار کرتا ہے اور اپنے منصب کا بے جا استعمال کرتا ہے تو وکیل کے ساتھ ساتھ مؤکل بھی وبال میں اس کے ساتھ شریک ہوتا ہے ، ووٹر کی حیثیت مؤکل کی ہے اس لئے اس کی ذمہ داری ہے کہ خوب غور فکر کرکے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے ،اس کا غیر ذمہ دارانہ عمل پوری قوم وملت کے لئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے اور اس کا صحیح فیصلہ پوری امت کے لئے باعث رحمت اور ملک کے لئے ترقی کا ضامن بن سکتا ہے۔
ووٹ کی ایک حیثیت سفارش کی ہے،ووٹر جس شخص کے حق میں ووٹ کا استعمال کرتا ہے گویا اس کی سفارش کر رہا ہوتا ہے اور سفارش اسی آدمی کی کرنی چاہیے جس کے بارے میں یقین کامل ہوکے وہ قوم وملت کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے ،عہدہ پر فائز ہونے کے بعد اس کا درست استعمال کرتے ہوئے قوم وملت کو نفع پہنچائے گا اور خیر خواہی کے جذبہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے قوم کی ہر ضرورت میں پیش پیش رہے گا ،قرآن مجید میں سفارش کرنے والے کو توجہ دلاتے ہوئے کہا گیا ، ارشاد خداوندی ہے’’جو شخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے اور جو کوئی بُری کی سفارش کرتا ہے اسے اس بُرائی میں سے حصہ ملتا ہے اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے‘‘(انساء: ۸۵)،اس لئے ووٹ سفارش ہے اب ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ چاہے وہ اچھائی کا حقدار بنے یا بُرائی کو اپنے سر پر ڈال لے ،اپنے ووٹ کا استعمال انہی کے حق کرے جو اس کی نظر میں سچے ،امانت دار اور فرض شناس ہیں ۔
جن لوگوں کو ملک کے قانون کی رو سے ووٹ دینے کا حق حاصل ہے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوب غور فکر کے بعد اپنے ووٹ کا استعمال کریں ، اپنے ووٹ کے لئے ایسے امیدوار کا انتخاب کرے جو ملک کی ترقی کو عزیز رکھتا ہے ،اپنے اندر خدمت خلق کا بھر پور جذبہ رکھتا ہے اور پوری امانت ودیانتداری کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور شخصی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوامی اور ملکی مفادات کے لئے کام کرنا چاہتا ہے،ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے امیدوار کے حق میں ووٹ دیںجس کی شخصیت صاف ستھری ہو اور جس کا کردار سچا و عمدہ ہو ،اسی طرح ایسے امیدوار کا انتخاب کریں جو کرسی کی حرص وطمع نہ رکھتا ہو ، اس کا صحیح استعمال کر نا جانتا ہو اور ناجائز فائدہ حاصل کرنے سے ڈرتا ہو،نیز اس شخص کو اپنا ووٹ دیں جو بلا لحاظ مذہب وملت عوام کی خدمت کا جذبہ رکھتا ہے اور انسانی بنیادوں پر احترام کرنا جانتا ہے ،ملک کے موجودہ حالات میں ووٹروں کے کندھوں پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ فرقہ پرست اور سخت ذہنیت کے حامل لوگوں کو شکست دیں اور جمہوریت پسند اور سیکولر مزاج رکھنے والوں کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے ہوئے انہیں کامیاب کرنے کی کوشش کریں ، اپنی اجتماعی قوت کو مضبوط رکریں اور منتشر ہونے سے بچیں رہیں، ووٹ کی طاقت کو محسوس کرتے ہوئے عقلمندی اور ہوش مندی کے ساتھ ووٹ دیں ، بعض مخصوص ذہنیت کے لوگ انتخابات کے موقع پر اپنی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفادات اور جمہوریت سے ہٹ کر چند مخصوص مفادات کے حصول کے لئے ملک کی عوام کے درمیان نفرت کے بیچ بونے کا کام کر رہے ہیں اور کھلے عام فرقہ پرستی کا زہر اگل رہے ہیں ،یہ دراصل نفرتوں کے سوداگر اور مذہبی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے ہیں ،یہ ملک اور اس کی عوام کے خیر خواہ نہیں بلکہ شر خواہ ہیں ،انہیں شکست دینا ضروری ہے تاکہ ملک میں جمہوریت کی بالادستی رہے اور عوام سکون وچین کے ساتھ مل جل زندگی گزار سکے ،یہ فیصلہ ووٹروں کو کرنا ہے اور بڑا سوچ سمجھ کر کرنا ہے ،ووٹ کا صحیح استعمال اس وقت ہوگا جب امید وار کا درست انتخاب ہوگا ، ووٹ ایک امانت ہے اس کا صحیح استعمال ووٹر کا دینی ،اخلاقی اور جمہوری فریضہ بھی ہے ،یہی ایک ووٹ اچھے امیدوار کومنتخب کر سکتا ہے جس سے حکومت کا نظم عمدہ انداز میں چل سکتا ہے اور آگے چل کر یہ ملک ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔
٭٭