Fri, Feb 26, 2021

میت کے لئے ایصال ثواباور غلط رسمیں

شمشیر عالم مظاہری۔ دربھنگوی۔

امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار

کسی کی موت کے بعد اس کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی سے اس کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے اور رحم و کرم کی بھیک مانگی جائے جیسا کہ نماز جنازہ کی خاص غرض و غایت بھی یہی ہے اور زیارت قبور کے سلسلے میں بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو تعلیم فرماتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو اہل قبور پر اس طرح پڑھیں اور ان کے لیے دعا کریں۔ السلام عليكم اہل الدیار من المؤمنین والمسلمین وانا انشاء اللّه بکم للاحقون نسئل اللہ لنا ولکم العافیۃ۔
ترجمہ۔
سلام ہو تم پر ان گھروں والوں مومنوں میں سے اور مسلموں میں سے اور انشاءاللہ ہم تم سے آملنے والے ہیں ہم اللہ سے دعا اور سوال کرتے ہیں اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت کا یعنی چین اور سکون کا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر مدینہ ہی میں چند قبروں پر ہوا رسول ﷺ نے ان کی طرف رخ کیا اور فرمایا السلام علیکم یا اہل القبور یغفر اللہ لنا ولکم انتم سلفنا ونحن بالاثر۔
ترجمہ۔
سلام ہو تم پر اے قبر والو۔ اللہ تعالی ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے آگے جانے والے ہو اور ہم پیچھے پیچھے آ رہے ہیں ۔
ان دونوں حدیثوں میں قبر والوں پر سلام و دعا کے جو کلمات وارد ہوئے ہیں جن میں صرف الفاظ کا معمولی سا فرق ہے ان میں ان کے واسطے بس سلام اور دعائے مغفرت ہے ان میں بھی اصحاب قبور کو سلام کے ساتھ ان کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی ہے دعائے خیر کے اس طریقہ کے علاوہ میت کی خدمت اور نفع رسانی کی ایک دوسری صورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتائی ہے کہ ان کی طرف سے صدقہ یا اسی طرح کا کوئی دوسرا عمل خیر کرکے اس کا ثواب ان کو ہدیہ کیا جائے۔
عبد اللہ بن عباس اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ کی والدہ کا انتقال ایسے وقت ہوا کہ خود سعد موجود نہیں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو رسول اللہﷺ کی خدمت میں انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ میری عدمِ موجودگی میں میری والدہ کا انتقال ہوگیا تو اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو ان کے لئے نفع مند ہو گا اور ان کو اس کا ثواب پہنچے گا رسول ﷺ نے فرمایا ہاں پہنچے گا انہوں نے عرض کیا تو میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ اپنا باغ۔ مخراف۔ میں نے اپنی والدہ کے لیے صدقہ کر دیا ۔
یہ حدیث جیسا کہ ظاہر ہے کہ ایصال ثواب کے مسئلہ میں بالکل واضح ہے قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت سے بھی مروی ہے اس میں حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کا نام نہیں ہے لیکن شارحین نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق بھی اسی واقعہ سے ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان کے دادا عاص بن وائل نے جن کو اسلام نصیب نہیں ہوا اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ ان کی طرف سے ایک سو غلام آزاد کیے جائیں اس وصیت کے مطابق ان کے ایک بیٹے ہشام بن العاص نے اپنے حصے کے پچاس غلام آزاد کردئے دوسرے بیٹے عمرو بن العاص نے بھی ارادہ کیا کہ وہ بھی اپنے حصے کے باقی پچاس آزاد کردیں لیکن انہوں نے طے کیا کہ رسول ﷺ سے دریافت کرکے ایسا کروں گا چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے والد نے غلام آزاد کرنے کی وصیت کی تھی اور میرے بھائی ہشام بن العاص نے پچاس اپنی طرف سے غلام آزاد کر دیۓ اور پچاس باقی ہیں تو کیا میں اپنے والد کی طرف سے وہ پچاس غلام آزاد کردوں رسول ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے والد اسلام و ایمان کے ساتھ دنیا سے گئے ہوتے پھر تم ان کی طرف سے غلام آزاد کرتے یا صدقہ کرتے یا حج کرتے تو ان اعمال کا ثواب ان کو پہنچ جاتا۔
یہ حدیث بھی مسئلہ ایصال ثواب کے بارے میں بالکل واضح ہے اس میں صدقے کے ذریعے ایصال ثواب کے علاوہ حج کا بھی ذکر ہے اور اسی حدیث کی مسند احمد کی روایت میں بجائے حج کے روزہ کا ذکر ہے بہرحال اس حدیث سے یہ بات اصول اور قاعدے کے طور پر معلوم ہوئی کہ میت کو ان سب اعمال خیر کا ثواب پہنچایا جا سکتا ہے لیکن ایمان و اسلام شرط ہے۔
والدین کی وفات کے بعد بھی معافی و اطاعت کی کوئی شکل موجود ہے؟
کیا ماں باپ کی وفات کے بعد بھی ان کی اطاعت اور فرماں برداری کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے؟
نیز اگر کسی نے والدین کی زندگی میں ان کی خوب نافرمانیاں کر رکھی ہیں اور اسی حالت میں ماں باپ دلبرداشتہ ہو کر دنیا سے گزر گئے اس کے بعد اس کو افسوس ہوا کہ میں نے اپنی زندگی خراب کردی اور یہ داعیہ پیدا ہوا کہ اب اگر ماں باپ زندہ ہوتے تو میں ان سے ضرور معافی مانگ لیتا پھر زندگی بھر ان کی خدمت کرتا تو ایسے لوگوں کے لئے بھی شریعت نے کوئی حل بتلایا ہے کہ جس سے اس کا نام نافرمانوں کی فہرست سے ختم ہو کر فرماں برداروں کی فہرست میں آ جائے۔ جی ہاں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک کوئی بندہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے ماں باپ دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک دنیا سے اس حال میں گزر جاتے ہیں کہ یہ اولاد ماں باپ کی نافرمان رہے اس کے بعد پھر یہ اولاد ماں باپ کے لیے مسلسل خیر و رحمت کی دعائے مغفرت اور بخشش کی استدعاء کرتی رہتی ہے حتیٰ کہ اللہ تعالی اس کو فرمانبردار قرار دیتا ہے ہے۔
والدین کی وفات کے بعد کیا حقوق؟
والدین کی وفات کے بعد اولاد کے اوپر کیا حق باقی رہتا ہے ؟

تو ماں باپ کی وفات کے بعد اولاد کے اوپر پانچ حقوق باقی رہتے ہیں ۔
1, ان کے لئے خیر و برکت کی دعا کرتے رہنا ۔
2, ان کے واسطے اللہ سے مغفرت اور بخشش مانگتے رہنا ۔
3, اگر ان کا کسی سے کوئی عہد و پیمان رہا ہے تو اس کو پورا کرنا ۔
4, ان کے توسط اور تعلق سے جو رشتے ہوں جن کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی میں صلہ رحمی کا معاملہ کیا تھا ان رشتہ داروں کے ساتھ ماں باپ کے لحاظ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرنا۔
5, والدین کے دوستوں کے ساتھ اعزاز و احترام کا معاملہ کرنا۔
حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک آپ صلی اللہﷺ کے پاس بنی سلمہ کا ایک شخص آیا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میرے والدین کے حسن سلوک میں کچھ باقی ہے جسے میں ان کی وفات کے بعد ان دونوں کے ساتھ کرسکوں حضور صلی اللہﷺ نے فرمایا جی ہاں ان کے لئے خیر و برکت کی دعا کرتے رہنا ان کے واسطے اللہ سے مغفرت اور بخشش مانگتے رہنا اگر ان کا کسی سے عہد و پیمان رہا ہے تو اس کو پورا کرنا ان کے توسط اور تعلق سے جو رشتے ہوں جن کے ساتھ انہوں نے اپنی زندگی میں صلہ رحمی کا معاملہ کیا ہے ان رشتہ داروں کے ساتھ ماں باپ کے لحاظ سے صلہ رحمی کا معاملہ کرنا والدین کے دوستوں کے ساتھ اعزاز و احترام کا معاملہ۔
مرحومین کے لئے ایصالِ ثواب کا طریقہ۔
مرحومین کو ایصال ثواب کے مسئلے میں چند امور پیش خدمت ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لیں۔
1, ایصالِ ثواب کی حقیقت یہ ہے کہ جو نیک عمل آپ کریں اس کے کرنے سے پہلے نیت کرلیں کہ اس کا ثواب جو حاصل ہو اللہ تعالیٰ میت کو عطا کرے اسی طرح کسی نیک عمل کرنے کے بعد بھی یہ نیت کی جا سکتی ہے اور اگر زبان سے بھی دعا کر لی جائے تو اچھا ہے۔
2, امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک میت کو صرف دعا اور صدقات کا ثواب پہنچتا ہے تلاوت قرآن اور دیگر بدنی عبادت کا ثواب نہیں پہنچتا لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ہر نفلی عبادت کا ثواب میت کو بخشا جا سکتا ہے مثلاً نماز روزہ صدقہ حج قربانی دعا و استغفار ذکر تسبیح درود شریف تلاوت قرآن وغیرہ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ شافعی مذہب کے محققین نے بھی اسی مسلک کو اختیار کیا ہے اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہر قسم کی عبادت کا ثواب مرحومین کو پہنچایا جاتا کار ہے مثلا قربانی کے دنوں میں اگر آپ کے پاس گنجائش ہو تو مرحوم والدین یا اپنے دوسرے بزرگوں کی طرف سے بھی قربانی کریں بہت سے اکابر کا معمول ہے کہ رسول اللہﷺ کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں اسی طرح نفل نماز روزے کا ثواب بھی پہنچانا چاہیے گنجائش ہو تو والدین اور دیگر بزرگوں کی طرف سے نفلی حج و عمرہ بھی کیا جائے ہم لوگ چند روز مردوں کو رو پیٹ کر ان کو بہت جلد بھول جاتے ہیں یہ بڑی بے مروتی کی بات ہے ایک حدیث میں ہے کہ قبر میں میت کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص دریا میں ڈوب رہا ہو وہ چاروں طرف دیکھتا ہے کہ کیا کوئی اس کی دستگیری کے لئے آتا ہے؟ اسی طرح قبر میں میت بھی زندوں کی طرف سے ایصال ثواب کی منتظر رہتی ہے اور جب اسے صدقہ و خیرات وغیرہ کا ثواب پہنچتا ہے تو اسے اتنی خوشی ہوتی ہے گویا اسے دنیا بھر کی دولت مل گئی۔
3، صدقات میں سب سے افضل صدقہ جس کا ثواب میت کو بخشا جائے صدقہ جاریہ ہے مثلا میت کے ایصال ثواب کے لئے کسی ضرورت کی جگہ کنواں کھدوا دیا کوئی مسجد بنوا دی کسی دینی مدرسہ میں تفسیر حدیث فقہ کی کتابیں وقف کر دیں قرآن کریم کے نسخے دے دیۓ جب تک ان چیزوں سے استفادہ ہوتا رہے گا میت کو اس کا برابر ثواب ملتا رہے گا۔ حدیث میں ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہﷺ میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے وہ مرنے سے پہلے وصیت نہیں کرسکیں میرا خیال ہے کہ اگر انہیں موقع ملتا تو ضرور وصیت کرتیں کیا اگر ان کی طرف سے صدقہ کردوں تو ان کو پہنچے گا رسول ﷺ نے فرمایا ضرور۔ اور ایک روایت میں ہے عرض کیا۔ کیا صدقہ کروں؟ رسول ﷺنے فرمایا پانی بہتر ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ سعد کی والدہ کے لئے ہے۔
4, ایصال ثواب کے سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ میت کو اسی چیز کا ثواب پہنچے گا جو خالصتاً لوجہ اللہ دی گئی ہے اس میں نمود و نمائش مقصود نہ ہو نہ اس کی اجرت اور معاوضہ لیا گیا ہو بہت سے لوگ ایصال ثواب کرتے ہیں مگر نمود و نمائش کی ملاوٹ کر دیتے ہیں مثلا مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے دیگ اتارتے ہیں اگر ان سے یہ کہا جائے کہ جتنا خرچ تم اس پر کر رہے ہو اسی قدر رقم یا غلہ کسی یتیم مسکین کو دے دو تو اس پر ان کا دل راضی نہیں ہوگا اس لئے کہ چپکے سے کسی یتیم مسکین کو دینے میں وہ نمائش نہیں ہوتی جو دیگ اتارنے میں ہوتی ہے اس کو عرض کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ کھانا کھلانا ایصال ثواب نہیں ہوسکتا بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو حضرات ایصال ثواب کے لئے کھانا کھلائیں وہ نمود و نمائش سے احتیاط کریں ورنہ ایصال ثواب کا مقصد انہیں حاصل نہیں ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ثواب اسی کھانے کا ملے گا جو کسی غریب مسکین نے کھایا ہو ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے کہ میت کے ایصال ثواب کے لئے جو کھانا پکایا جاتا ہے اس کو برادری کے لوگ کھا پی کر چلتے بنتے ہیں فقراء و مساکین کا حصہ اس میں بہت ہی کم لگتا ہے کھا تے پیتے لوگوں کو ایصال ثواب کے لیے دیا گیا کھانا نہیں کھانا چاہیے بعض علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص ایسے کھانے کا منتظر رہتا ہے اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے الغرض جو کھانا خود گھر میں کھا لیا گیا یا دوست احباب اور برادری کے لوگوں نے کھا لیا اس سے ایصال ثواب نہیں ہوتا مردوں کو ثواب اسی کھانے کا پہنچے گا جو فقراء و مساکین نے کھایا ہو اور جس پر خیرات کرنے والے نے کوئی معاوضہ وصول نہ کیا ہو نہ اس سے نمود و نمائش مطلوب ہو ۔
ایصالِ ثواب کے لئے ختم کے اجتماعات۔
قبرستان سے واپسی پر اسی دن یا دوسرے دن یا تیسرے دن جمع ہو کر قرآن کریم یا آیت کریمہ یا کلمہ طیبہ کا ختم ہوتا ہے جس کے لیے اب تو اخبارات وغیرہ میں بھی اشتہارات دیے جاتے ہیں پھر اجتماعی ایصالِ ثواب اور دعا کے بعد حاضرین کو کہیں کھانا کہیں نقد اور کہیں شیرینی وغیرہ تقسیم کی جاتی ہے
اول تو اس خاص طریقہ سے جمع ہوکر ختم اور ایصال ثواب کی رسم کا شریعت میں کہیں ثبوت نہیں اس لئے بدعت ہے دوسرے اس میں مزید خرابیاں یہ ہیں کہ دوست رشتہ دار تو عموماً
شکایت سے بچنے کے لیے آتے ہیں ایصال ثواب ہرگز مقصود نہیں ہوتا حتیٰ کہ اگر کوئی عزیز اپنے گھر بیٹھ کر پورا قرآن پڑھ کر بخش دے تو اہل میت ہرگز راضی نہیں ہوتے اور نہ آنے کی شکایت باقی رہتی ہے اور یہاں آکر یوں ہی تھوڑی دیر بیٹھ کر اور کوئی بہانہ کر کے چلا جائے تو شکایت سے بچ جاتا ہے جو عمل ایسے باطل مقاصد کے لیے ہو اس کا کچھ ثواب نہیں ملتا جب پڑھنے والے ہی کو ثواب نہ ملا تو مردے کو کیا بخشے گا رہ گئے فقراء و مساکین تو ان کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ وہاں جا کر صرف پڑھنا پڑے گا ملے گا کچھ نہیں تو ہرگز ایک بھی نہ آئے گا معلوم ہوا کہ ان کا آنا محض اس توقع سے ہوتا ہے کہ کچھ ملے گا جب ان کا پڑھنا دنیاوی غرض سے ہوا تو اس کا ثواب بھی نہ ملے گا پھر میت کو کیا بخشے گا؟ پھر قرآن خوانی کو ان لوگوں نے جاہ و مال کا ذریعہ بنایا اس کا گناہ سر پر الگ رہا اور جس طرح لینا جائز نہیں اسی طرح دینا بھی جائز نہیں ایصالِ ثواب اور دعا بہت اچھا کام ہے مگر اس کے لیے اجتماع یا کسی خاص دن یا تاریخ یا وقت کی کوئی قید شریعت نہیں لگائی ہر شخص جب اور جہاں چاہے کسی بھی عبادت کا ثواب میت کو پہنچا سکتا ہے اور دعا کرسکتا ہے اپنی طرف سے نت نئی قیدیں شرطیں اور پابندیاں بڑھانا بدعت اور ناجائز ہے۔
اہل میت کی طرف سے دعوتِ طعام۔
ایک رسم یہ کی جاتی ہے کہ دفن کے بعد میت کے گھر والے برادری وغیرہ کو دعوت دیتے ہیں کہ فلاں روز آکر کھانا تناول فرمائیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دعوت اور اس کا قبول کرنا دونوں ممنوع ہے ہر گز جائز نہیں اس قبیح رسم سے اجتناب لازم ہے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے اس دعوت کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں اور علاوہ حنفی مذہب کے دیگر فقہی مذاہب مثلاً شافعیہ وغیرہ کا بھی اس کے ناجائز ہونے پر اتفاق بیان کیا ہے اور مسند احمد، ابن ماجہ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام کے زمانہ میں بھی اس دعوت کو نا جائز سمجھا جاتا تھا۔
میت کے کپڑے جوڑے خیرات کرنا۔
ایک رسم یہ بھی ہے کہ میت کے انتقال کے بعد اس کے کپڑے اور جوڑے خاص کر استعمالی کپڑے خیرات کر دیتے ہیں حالانکہ کے ورثاء میں اکثر نابالغ ورثاء بھی ہوتے ہیں یاد رکھیے میت کے تمام کپڑے اور ہر چھوٹی بڑی چیز اس کا ترکہ ہے جس کو شرع کے مطابق تقسیم کرنا واجب ہے اس سے پہلے کوئی چیز خیرات نہ کی جائے البتہ اگر سب وارث بالغ ہوں وہاں موجود ہوں اور خوش دلی سے سب متفق ہو کر دے دیں تو یہ خیرات کرنا جائز ہے لیکن اسے واجب یا ضروری سمجھنا پھر بھی بدعت ہے۔
میت کے گھر عورتوں کا اجتماع۔
میت کے گھر عورتیں بھی کئی مرتبہ جمع ہوتی ہیں حالانکہ ایک بار تعزیت کر لینے کے بعد دوبارہ تعزیت کے لیے جانا مکروہ ہے بظاہر ان کا آنا صبر و تسلی کے لئے ہوتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ اہل میت کو صبر دلانے دل تھامنے اور تسلی دینے کی بات نہیں الٹا ان کو غم یاد دلاکر رونا پیٹنا شروع کر دیتی ہیں یا وہاں بیٹھ کر دنیا جہاں کی باتیں کرتی ہیں اور اہل میت کو زیر بار کرتی ہیں اور کپڑے اتنے بھڑک دار پہن کر آتی ہیں جیسے کسی کی شادی میں شریک ہو رہی ہوں علاوہ ان کے اور بھی منکرات و مفاسد ہوتے ہیں جن سے اجتناب لازم ہے۔
شعبان کی چودھویں تاریخ کو عید منانا۔
بعض جگہ لوگ شعبان کی چودھویں تاریخ کو مردہ کی عید مناتے ہیں اور قسم قسم کے کھانے حلوے مشروبات فروٹ وغیرہ تیار کرا کر ایصال ثواب کی غرض سے کسی غریب کو دیتے ہیں ایصال ثواب پسندیدہ اور ثواب کا کام ہے جس کے لیے شرع نے دن تاریخ اور کھانوں کی کوئی پابندی نہیں رکھی لہذا لوگوں کا اپنی طرف سے یہ پابندیاں بڑھانا بھی بدعت ہے اور مردہ کی عید منانا بالکل خلاف اصل اور ناجائز ہے۔
اہلِ میت کے یہاں کھانا بھجوا نے کی غلط رسمیںں۔
بعض جگہ میت کے رشتہ داروں کے یہاں سے ان کے لئے کھانا آتا ہے یہ بہت اچھی بات ہے بلکہ مسنون ہے لیکن بعض لوگ اس میں بھی طرح طرح کی خرابیوں میں مبتلا ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے مثلا بعض جگہ بدلہ کا خیال رکھا جاتا ہے اور کھانا تک دیکھا جاتا ہے کہ جیسا ہم نے دیا تھا ویسا ہی ہے یا کم درجہ کا قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں اگر دور کا رشتے دار بھیجنا چاہے تو اسے معیوب سمجھا جاتا ہے اور قریبی رشتہ دار اگرچہ تنگ دست ہوں بدنامی کے خوف سے پرتکلف اور بڑھیا کھانا بھیجنا ضروری سمجھتے ہیں اگرچہ اس کے لئے قرض کرنا پڑے یہ سب رسمیں خلاف شریعت ہیں کھانا بھیجنے میں بے تکلفی اور سادگی سے کام لینا چاہیے جس عزیز کو توفیق ہو وہ کھانا بھیج دے نہ اس میں بدلے کا خیال کرنا چاہیے نہ اس کا قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کا رشتہ دار کیسے بھیج دے؟ بعض لوگ دور کے رشتے دار کو ہرگز بھیجنے نہیں دیتے یہ سب امور قابلِ اصلاح ہیں۔
تیجہ، دسواں، اور چالیسواں کرنا۔
میت کے انتقال کے بعد تیجہ کرنا دسواں بیسواں اور چالیسواں کرنا برسی کرنا یہ کام سنت سے ثابت نہیں ہیں ہرگز نہ کریں البتہ صدقہ خیرات بلا تعیین اوقات میت کی طرف سے کرسکتے ہیں ضرور ثواب پہنچتا ہے مسجد میں خرچ کریں کسی غریب تنگدست کو محلہ میں دو چار بوری گندم لے دیں کسی کا قرض اتر وادیں سردیوں میں غریبوں کو لحاف یا گرم کپڑے بنوا دیں کسی ضرورت کی جگہ پر کو کنواں یا نل لگوا دیں یا رفاہ عامہ کا کام کر دیں کسی صحیح یتیم خانہ میں ضرورت ہو وہ پوری کردیں ایصالِ ثواب یہ سب صورتیں درست ہیں۔ تیجہ دسواں چالیسواں کا قرآن حدیث اور فقہ میں نام و نشان نہیں یہ رسم ہندوانہ رسمیںں ہیں ان سے بال بال بچیں ان سے نیکی برباد گناہ لازم آتا ہے یاد رکھیں صرف اسی کام سے ثواب کی امید رکھی جاسکتی ہے یا ثواب ملتا ہے جس کام پر سنت یا حدیث کی مہر ہو بس جو کام بغیر سند حدیث و سنت کے اپنی مرضی سے رسم یا رواج سمجھ کر کریں گے صرف ثواب سے ہی محروم نہ رہیں گے بلکہ خدا تعالی کی ناراضگی مول لیں گے کیوں کہ ہم نے دین کے اندر اپنی طرف سے ثواب کے کام جاری کیے ہیں کیا معاذ اللہ حضرت رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم یہ نیک اور ثواب کے کام امت کو بتانا بھول گئے تھے مولویو۔ اللہ سے ڈر جاؤ اور لوگوں کو صرف اپنے کھانے پینے کے لئے غیر اسلامی رسموں اور بدعتوں پر نہ چلاؤ اخباروں میں بڑے بڑے اہتمام سے رسم قل رسم دسواں کے اشتہار چھپتے ہیں اور ان رسموں کے انعقاد کا سہرا مولویو ں کے سر ہوتا ہے کس ٹھاٹھ سے خانہ ساز ختم پڑھتے ہیں اور ماکولات و مشروبات اور ملبوسات سے لدے پھندے گھر آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔