Wed, Feb 24, 2021

زبانِ دل سے درودِ پاک ہو جائے
مفتی عبدالمنعم فاروقی قاسمی
muftifarooqui@gmail.com
9849270160

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ؐ کی ذات اقدس کو اپنا آخری پیغمبر بناکر دنیا میں مبعوث فرمایا ،آپ ؐ پوری کائنات کے لئے قیامت تک نبی اور رسول ہیں ،نبوت ورسالت کا مبارک سلسلہ آپ ؐ کی ذات اقدس پر ختم کر دیا گیا ،آپ کے سر مبارک پر ختم تاج نبوت رکھ دیا گیا اور آپ ؐ کو تمام انبیاء ورسل پر فضیلت وبرتری عطا کردی گئی ،آپ ؐ کی آمد وبعثت پوری کائنات کے لئے باعث رحمت و برکت بنادی گئی اور آپ کی تشریف آوری کو پوری انسانیت کے لئے عزت وشرف کا باعث بنادیا گیا ،آپ ؐ کی تشریف آوری دنیا کے لئے برکت کا سامان اور ظلمت کدہ میں مینار نور کی حیثیت رکھتی ہے،تڑپتی انسانیت کے لئے تسلی کا ذریعہ ، پژمردہ دلوں کے لئے حیات نو اور گمراہ لوگوں کے لئے ہدایت کا عظیم ذریعہ ہے ،آپ ؐ کی ذات اقدس جہاں عالمین کے لئے رحمت وبرکت ہے وہیں پوری انسانیت کی محسن اور عظیم خیر خواہ بھی ہے ، آپ ؐ کی ذات اقدس کا انسانیت پر بے پناہ احسان ہے اور انسانیت پر کیا گیا ایسا حسن سلوک کہ جس کا بدلہ پوری انسانیت مل کر بھی ادا نہیں کر سکتی ، اپنے محسن ومشفق کا احسان ماننا اور زبان حال وقال سے اس کے احسان مند ہونا انسانی اخلاق کا تقاضہ بلکہ اس کا اخلاقی فریضہ ہے ،دنیوی معمولی نفع پہنچانے والے کو لوگ اپنا محسن مانتے ہیں اور اس کے احسان کا موقع بموقع اظہار واقرار کرتے رہتے ہیں ،رسول اللہ ؐ کی ذات اقدس تو تمام محسنین میں سب سے بڑھ کر ہے بلکہ آپ کے انسانوں پر کئے گئے احسان وسلوک کو شمار کرنا چاہیں تو بھی شمار نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا اندازہ کر سکتے ہیںبلکہ حقیقت یہ ہے کہ ذات خداوندی کے بعد ذات نبوی انسانیت کی سب سے بڑی محسن ہے ،اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس محسن اعظم پر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اس کے احسان کو یاد کرتے رہیں اور اس سے اپنی محبت وچاہت اور غیر معمولی تعلق کا اظہار کرتے رہیں ،یقینا درود ِ پاک کا ورد اپنے محسن کے احسانوں کو یاد دلاتا رہتا ہے اور اس سے محبت کو بڑھاتا رہتا ہے نیز درود ِ پاک بجائے خود ایک عظیم عبادت ہے ۔
{درودِ پاک کی فضیلت }اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں درودِ پاک کی فضیلت و اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(احزاب:۵۶)’’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ؐ پر درود بھیجتے ہیں ،اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو ‘‘اس آیت مبارکہ سے رسول اللہ ؐ کے مقام ومرتبہ اور آپ کی شان وعظمت کا پتہ چلتا ہے ،جس کے ثناخواں خود اللہ تعالیٰ ہیں ، معصوم فرشتے جس کی تعریف کے گیت گارہے ہیں ، آسمان والے گویا زمین والوں سے کہہ رہے ہیں کہ جس کے ثنا خوان خود خالق رب دوجہاں اور اس کے معصوم فرشتے ہیں زمین والو ں کو چاہئے کہ وہ بھی درود وسلام کے ذریعہ ان پر رحمتوں اور برکتوں کی بارشیں برسا تے رہیں ۔ {درود کا ورد رحمتوں کا سبب} درودِ پاک نہ یہ کہ صرف عبادت ہے بلکہ رحمن کی جانب سے رحمتوں اور برکتوں کے نزول کا سبب وذریعہ بھی ہے ،جو شخص اپنے نبی ؐ پر ایک مرتبہ درودِ پاک کا تحفہ بھیجتا ہے تو اس کے بدلے میں رب العالمین اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ،ارشاد نبوی ؐ ہے : من صلی علی واحدۃ صلی اللہ علیہ عشرا ( مسلم: ۴۰۸) ’’ جو شخص آپ ؐ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے‘‘ بلکہ ایک حدیث میں آپ ؐ نے ایک مرتبہ درود ِ پاک پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتوں کے نزول ،دس گناہوں کی معافی اور دس درجات کی بلندی کی خوشخبری سنا ئی ہے ،ارشاد فرمایا: من صلی علی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشر صلوات وحطت عنہ عشر خطیئات ورفعت لہ عشر درجات( نسائی:۱۲۹۷ )’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں بھیجے گا ،اس کے دس گناہ معاف کرے گا اور دس درجات بلند کرے گا‘‘ بلکہ کنز العمال میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : من صلی علی فی یوم مائۃ مرۃ قضی اللہ لہ مائۃ حاجۃ سبعین منھا لآخرتہ وثلاثین منھا لدنیاہ(کنزالعمال: ۲۱۴۹)’’جس نے مجھ پر دن میں سو مرتبہ درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرمائیں گے ،ان میں سے ستر آخرت اور تیس دنیا سے متعلق ہوں گی ‘‘ ۔
{درودِ پاک فکر سے نجات اور گناہوں سے معافی کا ذریعہ}درودِ پاک ایسی مہتم بالشان عبادت اور بارگاہ رب العالمین میں ایسا محبوب عمل ہے کہ جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کے پڑھنے والے کے تمام گناہ معاف فرمادیتے ہیں اور اسے تمام غموں اور فکروں سے نجات عطا کر دیتے ہیں ،چنانچہ ایک موقع پر جلیل القدر صحابی حضرت ابی ابن کعب ؓ نے رسول اللہ ؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ : اے اللہ کے رسول ؐ ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں ، ( لیکن آپ بتائیں کہ ) اس کے لئے کتنا وقت مقرر کروں ؟ آپ ؐ نے فرمایا: جتنا چاہو! میں نے عرض کیا : اپنی عبادت کے وقت کا چوتھائی حصہ مقرر کر لوں ؟ آپ ؐ نے فرمایا: جتنا چاہو کر لو، لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو بہتر ہے! میں نے عرض کیا : آدھا؟ آپ ؐ نے فرمایا جتنا چاہو کر لو ،لیکن اس سے بھی زیادہ کرو تو بہتر ہے! میں نے عرض کیا : دو تہائی ؟ آپ ؐ نے فرمایا: جتنا چاہو کر لو لیکن اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو بہتر ہے! میں نے عرض کیا : تو پھر میں اپنے وظیفے کے پورے وقت میں آپ پر درود پڑھا کروں گا! اس پر آپ ؐ نے فرمایا : اذا تکفی ھمک ویغفرلک ذنبک ’’اس سے تمہاری تمام فکریں دور ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دئے جائیں گے‘‘( ترمذی: ۲۴۵۹)،اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ؐ نے درود پاک کو ساری مصیبتوں کا حل اور تمام فکروں سے نجات کا ذریعہ بتایا ہے ،اللہ تعالیٰ نے درود پاک میں ایک پوشیدہ نظام رکھا ہے جسے نظام رحمت اور محبت بھی کہا جا سکتا ہے ،جس وقت آدمی درود پاک پڑھتا ہے اور اس کے ذریعہ محبوب رب العالمین سے محبت اور تعلق کا اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت جو ش میں آتی ہے اور اس سے اس کے فکروں کو دور کر دیتی ہے ،اس سے غموں کا بوجھ ہٹا دیتی ہے اور اس کے گناہوں کو معاف کر دیتی ہے ، درود پاک محبت وتعلق کا ربانی اظہار اور ملائکہ کا طریقہ ہے، جب کوئی امتی اپنے نبی سے درود پاک پڑھ کر محبت کا اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب سے محبت کرنے والے کو محبوب رکھتا ہے اور اس کی اس محبت کے طفیل اسے دنیوی مصائب سے نجات اور گناہوں سے پاک صاف کرتے ہوئے اس کے حق میں آخرت کی نجات کا فیصلہ فرما دیتا ہے ،گویا درود پاک مصائب وآلام سے نکلنے ،پریشانیوں سے چھٹکارا پانے اور ناموافق حالات کو موافق بنانے کا موثر ذریعہ ہے ۔
{درود سے غفلت بڑی محرومی کا سبب }درود پاک کا ورد جہاں باعث اجر وثواب ، ذریعہ رحمت وبرکت اور غموں سے نجات وگناہوں سے معافی دلاتا ہے وہیں اس سے غفلت ولاپرواہی بڑی محرومی ،بد نصیبی اور ذلت ورسوائی کا سبب ہے ،حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : ایما قوم جلسوا مجلسا ثم تفرقوا قبل ان یذکروا اللہ ویصلوا علی النبی ؐ کان علیھم من اللہ ترۃ ان شاء عذ بھم وان شاء غفر لہم(ترمذی:۳۱۶۲ ) ’’ جو لوگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوں ،پھر وہ اللہ کا ذکر اور رسول اللہ ؐ پر درود بھیجے بغیر جدا ہو جائیں تو یہ مجلس ان کے لئے عیب اور نقص کا باعث ہو گی ،اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا اور اگر چاہے گا تو انہیں معاف کر دے گا‘‘ ، ایک حدیث میں آپ ؐ نے ایسے شخص کو بڑا محروم بتایا ہے جس کے سامنے ذکر رسولؐ ہو اور وہ درود پاک نہ پڑھے ،ارشاد فرمایا: رغم انف رجل ذکرت عندہ فلم یصل علی ( ترمذی: ۳۵۴۵) ’’اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا‘‘ ،بلکہ ایک حدیث میں آپ ؐ نے اس شخص کو بخیل کہا ہے جس کے سامنے آپ ؐ کا نام نامی اسم گرامی آئے اور وہ دردو نہ بھیجے ،ارشاد فرمایا : البخیل الذی من ذکرت عندہ فلم یصل علی( ترمذی: ۳۵۴۶) ’’ بخیل وہ ہے جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ‘‘۔
{ درودِ پاک سے فرشتوں کی دعاؤں کا حصول}درود پاک سے رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے ،آفات کا خاتمہ ہوتا ہے ،گناہ معاف ہوتے ہیں نیزدرود پاک کا ورد کرنے والے کو فرشتوں کی دعائیں بھی حاصل ہوتی ہیں ،فرشتے اس شخص کے حق میں حق تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہیں اور جس کے حق میں فرشتے دعائیں کرتے ہیںتویقینا وہ شخص تو بڑا خوش نصیب ہے کیونکہ فرشتے گناہوںسے پاک ہوتے ہیں ان کی دعائیں قبولیت کی علامت ہوتی ہیں ،جب کوئی شخص درود پڑھتا ہے تو فرشتے اس وقت تک اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں جب تک وہ درود پڑھتا رہتا ہے ،رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: مامن مسلم یصلی علی الا صلت علیہ الملائکۃ ماصلی علی فلیقل العبد من ذلک او لیکثر ( ابن ماجہ: ۷۴۸) ’’ جو مسلمان بھی مجھ پر درود بھیجے فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے اب اسے اختیار ہے زیادہ درود بھیجے یا کم ‘‘ ، { درود شریف کے فوائد} درود پاک کے یوں تو بے شمار فوائد کتب احادیث میں بیان کئے گئے ہیں مگر ایک مقام پر علامہ ابن قیم ؒ نے اس کے ۳۹ فوائد بیان کئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں (۱) درودِ پاک پر رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے ( ۲) دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں ( ۳) دس گناہ معاف ہوتے ہیں(۴) دس درجات بلند ہوتے ہیں (۵) دعا سے پہلے پڑھنے سے قبولیت کا امکان زیادہ ہوتا ہے( ۶) رسول اللہ ؐ کی شفاعت نصیب ہوتی ہے( ۷) پریشانیاں ٹل جاتی ہیں (۸) جنت میں رسول اللہ ؐ کا قرب نصیب ہوتا ہے(۹) درود پاک سے مجلس بابر کت ہوتی ہے( ۱۰) درود پڑھنے والے کی عمر اور رزق میں برکت ہوتی ہے (۱۱) درود پاک سے دل کو تازگی ملتی ہے۔
{وہ مواقع جہاں درود پاک پڑھنا چاہئے } ویسے تو درود پاک کسی وقت یا موقع کی قید کے بغیر پڑھنا چاہیے مگر بعض مواقع ایسے ہیں جہاں اس کے پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے ان میں سے چند یہ ہیں( ۱)دعا سے پہلے (۲) اذان کے بعد (۳) جمعہ کے روز (۴) صبح وشام { وہ مقامات جہاں درود شریف پڑھنا مکروہ ہے } بعض مقامات ایسے ہیں کہ جہاں پر درود پاک پڑھنے کو فقہا کرام نے مکروہ لکھا ہے وہ سات ہیں (۱) بیوی کے ساتھ شب باشی کے وقت ( ۲)پیشاب پاخانہ کے وقت ( ۳)کسی چیز کے بیچنے کے ارادہ سے کسی چیز کو دکھاتے وقت(۴) ٹھو کر لگتے وقت(۵) تعجب کے وقت(۶) ذبح کے وقت(۷) چھینک آنے پر( رد المحتار : ۱؍ ۵۱۸)
موجودہ حالات میں مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کثرت سے دورد پاک کا اہتمام کریں ،ایک طرف دنیا کے حالات میں کافی تغیر ہوتا جارہا ہے ،دشمنان اسلام دین اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں لگے ہوئے ہیں ،ان کے اتحاد کو اپنے ناپاک اور عیارانہ سازشوں سے یا پھر اپنی ظاہری قوت وطاقت کے بل بوتے پر اسے توڑ نے کی فکر میں لگے ہیں ،اسلام اور پیغمبر اسلام اور شعائر اسلام کی توہین کرتے ہوئے انہیں بر انگیختہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،دوسری طرف ملکی حالات بھی ابتر ہوتے جارہے ہیں ، موجودہ حکومت طرح طرح کے قوانین نافذ کرتے ہوئے اور قانون میں من مانی تحریف ورد بدل کرتے ہوئے مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کی کوششیں کر رہی ہے اور ملک کو ایک مخصوص طبقہ کے فکر ومزاج کی طرف لے جانے کی کوشش مے ہے ،نیز عالمی وباء کی وجہ سے بھی نظام زندگی درھم برھم ہو چکاہے ،لوگوں وائرس کی وجہ سے ڈرے سہمے ہوئے ہیں ،وائرس کی وجہ سے معیشت پر زبردست اثر پڑا ہے ،زیادہ تر متوسط اور غریب لوگ پریشان ہیں ،ان حالات میں ظاہری اسباب کے اپنانے کے ساتھ دعاؤں اور درود پاک کے ورد کا اہتمام لازمی ہے ،مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان حالات میں کثرت سے دورد ِ پاک پڑھنے کا اہتمام کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائیں ،ان شاء اللہ درود پاک کی برکت سے رحمت الٰہی کا نزول ہوگا، تمام مسائل حل ہو ں گے ،مشکلیں آسان ہو ں گی ،بیماریاں دفع ہو ں گی اور خدا کی طرف سے مسلمانوں کے لئے غیبی مدد ونصرت آئے جس سے حالات بدلیں گے ، قلوب تسکین پائیں گے اور اسلام پر چلنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا آسان ہوگا ،یقینا مسلمانوں کی زندگیوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ اسلام پر عمل کریں اور دوسروں تک اسلام کی مبارک تعلیمات پہنچانے کی فکر کریں ؎
زبانِ دل سے درود پاک ہو جائے

سکونِ روح کا کچھ اہتمام ہو جائے
تمام عمر اسی فکر میں کٹے راغب

پیام شاہِ مدینہ کا عام ہو جائے