Tue, Mar 2, 2021

دینی خدمت گزار اور اس کے حقوق

افادات: حضرت مولانا مفتی محمد جمال الدین صاحب قاسمی

 نائب شیخ الحدیث و صدر مفتی جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد

ضبط و ترتیب: مفتی محمد عبداللہ قاسمی ا

استاذفقہ و ادب دارالعلوم حیدرآباد

موبائل نمبر :8688514639

علماء کرام انبیائے کرام کے وارث ہوتے ہیں، دین وشریعت کی سرحدوں کے محافظ اور اس کے نگہباں ہوتے ہیں، دین متین کی صحیح تعبیر و تشریح اور اسے بےغبار اور اصلی صورت میں امت تک پہنچانا حضرات علماء کا فریضہ ہوتا ہے ،فتنہ پرور لوگوں اور دین کے نام پر گمراہی پھیلانے والوں کا یہ علمی تعاقب کرتے ہیں ، اور باطل افکار و نظریات کی وہ پورے شدومد سے تردید کرتے ہیں، اس لیے حضرات علماء کا شریعت میں بڑا مقام اور بڑا رتبہ ہے، وہ معاشرے اور سماج میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے کے مستحق ہیں۔

تین قسم کے طبقے کا احترام

 خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےتین قسم کے لوگوں کا ادب اور احترام کرنے کا حکم دیا ہے ،اور ان کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرنے کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے، چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

ثلاثة لا يستخف بهم الا منافق: ذو الشيبة في الإسلام وذووالعلم والإمام المقسط.

 تین لوگوں کے ساتھ استخفاف اور تحقیرآمیز رویہ وہی اختیار کر سکتا ہے جو منافق ہو : ١- جس کے بال حالت اسلام میں سفید ہوئے ہوں۔ ٢- اہل علم -٣-  عادل اور انصاف پرور امام،اس حدیث شریف میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طبقے کے لوگوں کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی تاکید کی ہے، اور ان کی بے ادبی کرنے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے کو گناہ اور معصیت قرار دیا ہے ۔

بوڑھا مسلمان

 سب سے پہلا طبقہ جس کا ادب و احترام کرنے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تلقین کی ہے وہ بوڑھے مسلمانوں کا طبقہ ہے ،جو شخص مسلم گھرانے میں پیدا ہوا ،اسلامی ماحول میں پروان چڑھا، اور طاعت و بندگی کی زندگی بسر کرتا رہا ،اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں شب و روز لگا رہا اسی حال میں وہ بوڑھا ہوگیا اور عمر کی آخری دہلیز پر جاپہنچا ،ایسا شخص چوں کہ عمر کا ایک بڑا حصہ خدائے ذوالجلال سے مربوط رہا اور شریعت کے احکام سے وابستہ رہا ،فرماں برداری اور طاعت شعاری کے لیے کوشاں رہا اس لیے اس کا احترام کرنا اور اس کی عزت و توقیر کرنا ضروری ہے، اس کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آنا اور اس کی غلطیوں کو درگزر کر دینا ایمان کی علامت ہے ،یہاں یہ حقیقت ملحوظ رہنا چاہیے کہ آپ علیہ السلام نے امت کو یہ ترغیب عام بوڑھے مسلمانوں کے بارے میں دی ہے، اس حدیث کے اشارۃ النص سے والدین، دادا دادی، نانا نانی اور دیگر عمر دراز رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کا ادب و احترام کرنے کی بھی ترغیب معلوم ہوتی ہے،کیونکہ جب عام عمر دراز مسلمان کی عزت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ والدین تو بڑےمقام اور مرتبہ کے حامل ہوتے ہیں، اولاد کی پرورش اور ان کی دیکھ ریکھ میں یہ ناقابل برداشت تکالیف جھیلتے ہیں تو ان کی عزت کرنا اور ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت سے پیش آنا تو ہر حال میں ضروری ہے ،اور اگر یہ عمر دراز ہو جائیں تو پھر ان کا حق اور بھی بڑھ جاتا ہے، ان کا ادب و احترام، ان کی دلجوئی اور ان کی جسمانی و مالی خدمت کرنا اور بھی زیادہ ضروری ہے ،یہی حال دیگر عمردراز رشتہ داروں کا بھی ہے ،رشتہ دار کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے ساتھ بہتر رویہ برتنے کی باقاعدہ شریعتِ اسلامیہ میں بڑی سخت تاکید کی گئی ہے، اگر یہ عمر دراز ہو جائیں تو پھر ان کی تعظیم کرنا اور ان سے اچھائی سے پیش آنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔

اہل علم

دوسرا طبقہ جس کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت اور نرمی سے پیش آنے کی تاکید کی ہے،اور ان کے ساتھ ادب و احترام کا برتاؤکرنے کا حکم دیا ہے وہ اہل علم کا طبقہ ہے،اس لیے کہ علماء خود کو دین کی نشرواشاعت کے لیے وقف کر دیتے ہیں،شریعت کے علوم کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پابہ زنجیر بنا تے ہیں،علماء اسلام کے ترجمان اور دین کے محافظ ہوتے ہیں ،وہ علوم اسلامی کے امین اور اسلامی اقدار و روایات کے پاس دار ہوتے ہیں،اس لیے ان سے محبت اور نرم خوئی سے پیش آنے اور ان کا ادب و احترام کرنے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم دی ہے۔

عادل اور انصاف پرور امام

تیسرا طبقہ جس کا ادب و احترام کرنے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تعلیم دی ہے وہ عادل اور انصاف پرور امام ہے،جو امیر المومنین معاشرے میں میں عدل اور انصاف کو فروغ دیتا ہو،اور ظلم و جبر کا خاتمہ کرنے کے لیے کوشاں ہوایسا امیر مسلمانوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے،اس کی تعظیم کرنے اور اس کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آنے کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو تلقین کی ہے۔

مختلف اور متنوع دینی تحریکات اور ملی تنظیموں کے سربراہ اور ذمہ دار بھی امام مقسط کے ذیل میں آتے ہیں،اس لیے کہ وہ بھی معاشرے میں اچھائی اور خیر کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہتے ہیں،اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے وہ ہمیشہ سرگرم اور متحرک رہتے ہیں،اس لئے ان کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا اور ان کے ساتھ خیر خواہانہ رویہ برتنا ہماری دینی ذمہ داری ہے،آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ دینی تحریکات اور دینی تنظیموں کے سربراہوں پر ہم بےجا تبصرہ کرتے رہتے ہیں،اپنی اپنی محفلوں میں ہم ان پر طعنے اور بھپتیاں کستے رہتے ہیں،ان کا تذکرہ کرتے ہوئے ہماری زبان تیرونشتر بن جاتی ہے،ظاہر ہے یہ صورت حال بڑی افسوسناک ہے، اور فوری طور پر قابل اصلاح ہے،ہمیں ان کے ساتھ ادب اور احترام سے پیش آنا چاہئے اور ان کے ساتھ خیرخواہانہ سلوک کرنا چاہیے،اور ان کے دست و بازو بن کر ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اہل علم کے حقوق

اہل علم اور دینی خدمت گزار کا طبقہ ہمارے لئے ایک قیمتی اور گراں مایہ سرمایہ ہے،ان کی قدر شناسی اور ان کی حوصلہ افزائی ملت کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے،انہیں کی شب و روز کوششوں اور بے مثال قربانیوں کی بدولت آج اس الحاد و بے دینی کے دور میں دین اپنی اصلی شکل و صورت میں موجود ہے،آج مسلم سماج میں جواسلامی تہذیب و ثقافت کی روشنی دکھائی دیتی ہے، اور مسلمانوں میں جو اسلامی غیرت و حمیت پائی جاتی ہے وہ یقینا علماء اور دینی خدمت گزاروں کے ہی مرہون منت ہے،عام مسلمانوں میں جو دین سے وابستگی اور دین وشریعت کی حفاظت کے حوالے سے ان کے دلوں میں جو جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے اس کا سہرا بھی علماء اور دینی خدمت گزاروں کے سر جاتا ہے،ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ذاتی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے لیے اس میدان کا انتخاب کیا ہے،اور ناگزیر حالات کی وجہ سے انہوں نے اپنی تمام تر کوششوں اور محنتوں کا محور دین کی خدمت کو بنایا ہے،بلکہ انہوں نے مکمل شعور اور پوری بصیرت و آگہی کے ساتھ خدمت دین کے شعبے میں قدم رکھا ہے،اور عواقب و نتائج سے باخبر ہو کر اس میدان عمل میں مستقل کام کرنے کو انہوں نے ترجیح دی ہے،ایسا نہیں ہے کہ وہ صلاحیت اور استعداد سے عاری ہوتے ہیں، وہ مہارت اور علمی لیاقت سے تہی دست ہوتے ہیں،بلکہ واقعہ یہ ہے کہ وہ ذہانت اور فطری ذکاوت سے معمور ہوتے ہیں،پختہ اور مضبوط استعداد و صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں،  اگر وہ اپنی کوششوں اور سرگرمیوں کا محور تجارت ، صنعت ، حرفت یا دنیا کے کسی اور شعبے کو بناتے تو وہ اس میدان میں بھی نمایاں ہوتے، اور اپنی خداداد مہارت اور تجربے کی بدولت اپنے معاصرین پر فوقیت لے جاتے؛ لیکن انہوں نے خود کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ،اور معاشی ترقی کے مواقع نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس شعبے کو ترجیح دیا ،اس لیے ہمیں ان کی توقیر کرنی چاہیے، ان سے ہمدردانہ اور خیرخواہانہ سلوک کرنا چاہئے، ان کے جو حقوق ہمارے ذمے ہیں ان کی ادائیگی کے لیے ہمیں فکر مند ہونا چاہیے ۔

اہل علم کے حقوق

 علماء اور دینی خدمت گزاروں کے ہمارے ذمے کیا حقوق ہیں ؟ان کے حوالے سے ہمارے اوپر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ ان کو سمجھنا اور ان پر عمل آوری کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے، علماء کی قدر کرنا اور ان کی خدمت کرنا ہمارے لئے دونوں جہانوں میں کامیابی کا ضامن ہے ،حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک موقع پر اہل علم کے حقوق قدرے تفصیل اور وضاحت سے بیان کیے ہیں،ذیل میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی زبانی اہل علم کے کچھ حقوق بیان کئے جاتے ہیں:

 اہل علم کی غیبت سے احتراز

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اہل علم کا ایک حق بیان کیا ہے :أن تحفظه شاهدا وغائبا ان کی پیٹھ پیچھے برائی بیان نہ کی جائے ،علماء کے سامنے جس طرح انسان بچھ جاتا ہے، ان کی تعظیم اور احترام کرتا ہے، محبت اور نرمی سے ان کے ساتھ پیش آتا ہے ،یہی جذبہ انسان کااس کے پیٹھ پیچھے بھی ہونا چاہیے، اس کے عیوب و نقائص کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، اسی طرح کوئی دوسرا شخص اگر ان کی غیبت کرے اور اس کے عیوب و نقائص کو اچھالے تو اہل علم کی طرف سے دفاع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اہل علم کی عیب جوئی سے پرہیز

داماد رسول حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اہل علم کا دوسرا حق بیان کیا ہے :وأن لا تطلب زلته تم اس کی لغزشوں کو تلاش نہ کرو ،علماء کے عیوب کو تلاش نہ کیا جائے، ان کی خامیوں کو نہ ٹٹولا جائے، ان کی کمزور پہلوؤں کی تحقیق اور جستجو نہ کی جائے ۔

 اہل علم کے رازوں کی حفاظت

 اہل علم بھی انسان ہوتے ہیں،وہ معصوم فرشتے نہیں ہوتے، انسان ہونے کے ناطے ہو سکتا ہے کہ ان سے کوئی کوتاہی ہوجائے، ان سے دانستہ یا نادانستہ کوئی غلطی ہو جائے ،ایسی صورت میں عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کریں، اس کے عیوب اور نقائص کو نظر انداز کریں، لوگوں میں اہل علم کی خامیوں اور کوتاہیوں کی تشہیر کرنا اور ان کی اہانت و تذلیل کرنا اہل علم کے ساتھ نا انصافی اور ان پر سراسر ظلم کے مترادف ہے، اہل علم اگر کچھ باتوں کو مخفی رکھناچاہتے ہوں، عوام الناس کے سامنے انہیں ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں، اس نوع کی کوئی بات ہمارے علم میں آجائے تو اس کو مخفی رکھنا اور اپنی ذات تک محدود رکھنا بھی ہمارا فرض بنتا ہے، اور یہ بھی اہل علم کا ہمارے اوپر ایک حق ہے۔

 اہل علم کی خدمت

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اہل علم کا ایک حق  بیان فرمایا ہے: وإن كانت له حاجة سبقت القوم إلى خدمته اگر انہیں کوئی ضرورت اور حاجت پیش آجائے تو اس کو پورا کرنے کے لئے لوگوں کو ایک دوسرے پر فوقیت لے جانا چاہیے، اس کی کوئی بھی ضرورت ہو خواہ مالی ہو یا جسمانی یاکسی بھی قسم کی ضرورت ہو لوگوں کو اس کی تکمیل کرنی چاہیے ، اور اس کو اپنے لئے سعادت اور خوش قسمتی تصور کرنا چاہئیے۔

دینی خدمت گزاروں کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی جو دین کی خدمت کے شعبے سے جڑے ہوئے ہیں ، اور اس کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے  چار ضرورتیں بیان فرمائی ہیں،اور ان کو پورا کرنے کی عام لوگوں کو ترغیب دی ہے:

خورد و نوش کا انتظام

عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہل علم کے خوردونوش کا انتظام کریں، ان کی تنخواہیں اتنی ضرور مقرر کی جائیں کہ وہ بافراغت کھا پی سکیں،اور انہیں اس کے لیے کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

رہائش کا انتظام

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء اور دینی خدمت گزاروں کا ایک حق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ان کے  لیے رہائش اور مکان کا انتظام کیا جائے،ایسے مکان کا انتظام کیا جائے جو عصری سہولیات سے آراستہ ہو، جس میں وہ اپنے سر کو چھپا سکے اور سردی اور گرمی سے خود کی حفاظت کرسکے۔

شادی کا انتظام

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دینی خدمت گزاروں کا ایک حق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ وہ اپنی شادی کا انتظام کر سکے،پھر شادی کے بعد  اس کے سر پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یعنی بیوی بچوں کے خرچ کا انتظام ،وہ بیمار پڑ جائیں تو ان کے علاج ومعالجے کی سہولت، یہ ساری چیزیں فراہم کرنا عوام الناس کی ذمہ داری ہے،انہیں کم از کم اتنی تنخواہیں ضرور دینی چاہیے کہ وہ ان ضرورتوں کو باآسانی پورا کرسکیں اور اس سلسلے میں انہیں کسی قسم کی تنگی کا سامنا نہ ہو ۔

خادم کا انتظام

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء اور دینی خدمت گزاروں کا ایک حق یہ بیان کیا ہے کہ لوگ ان کے لئے خادم اور نوکر کا انتظام کریں ؛ تاکہ  اپنی علمی مصروفیات اور دینی خدمات کی وجہ سے جن کاموں کو وہ از خود انجام نہیں دے سکتے وہ خادم اور نوکر ان کے کاموں کو نمٹائیں، اور ان کی گھریلو ضروریات کو پوری کریں، پہلے زمانے میں غلام اور باندی ہوا کرتے تھے جو اپنے آقا کی خدمت کرتے تھے ،اور ان کا حکم بجا لاتے تھے،عہد حاضرمیں غلام اور باندی کا دستور ختم ہو چکا ہے؛اس لیے ان کا متبادل وہ مشینری اور آلات ہیں جو سائنس و ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز پیش رفت کی بدولت بازاروں اور مارکیٹوں میں دستیاب ہیں ،جیسے ایئرکنڈیشن، فریزر، کولر ،واشنگ مشین وغیرہ، اس لیے کہ ان نت نئے مشینوں اور برقی سامانوں کے ذریعے سے بہت سارے کام جو پہلے گھنٹوں میں پورے ہوا کرتے تھے آج سیکنڈوں اور منٹوں میں پورے ہو رہے ہیں، وہ بہت سے کام جنہیں پہلے نمٹانے میں لوگوں کو کافی مشکلات اور مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا سائنسی ایجادات کی وجہ سے آج بہت سہولت اور آرام سے یہ کام پورے ہو جاتے ہیں، اس لیے عوام الناس کے لئے ضروری ہے کہ وہ علماء کو اتنا ضرور مشاہرہ دیا کریں جن سے وہ برقی سامانوں کو بھی با آسانی خرید سکیں، اور اپنے گھریلو کام کاج کو سہولت اور اطمینان سے نمٹاسکیں۔

دینی خدمت گزاروں کی خبرگیری

جن لوگوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ از خود اہل علم اور دینی خدمت گزاروں کی خبر گیری کریں ،اہل علم حضرات اور دینی شعبے سے مربوط افراد میں سے کوئی اگر پریشان حال ہے ،معاشی الجھنوں کا اسے سامنا ہے تو بڑھ چڑھ کر ان کا تعاون کریں، ان کی ڈھارس بندھائیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں، اور بحران سے نکلنے میں ان کی مدد کریں، اور اہل ثروت اور متمول طبقہ کو از خود اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے؛ کیونکہ بہت سے دینی خدمت گزار اور اہل علم حضرات ضرورت مند اور پریشان حال ہونے کے باوجود خود داری اور عزت نفس کی وجہ سے کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہیں پھیلاتے ،اور کھل کر کسی کے سامنے اپنی پریشانیوں کا اظہار نہیں کرتے ،وہ اس آیت کریمہ کے مصداق ہوتے ہیں:للفقراء الذين احصروا في سبيل الله لا يستطيعون ضربا في الارض يحسبهم الجاهل اغنياء من التعفف تعرفهم بسيماهم لا يسالون الناس الحافا(البقرۃ:٢٧٣)

مالی امداد کے بہ طور خاص مستحق وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ معاش کی تلاش کے لیے زمین میں چل پھر نہیں سکتے،چوں کہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ وہ کسی سے سوال نہیں کرتے اس لیے ناواقف آدمی انہیں مالدار سمجھتا ہے،تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان کی اندرونی حالت کو پہچان سکتے ہو؛ مگر وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔

 حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ ہمارے لئے مشعل راہ

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ اس حوالے سے ہمارے لئے مشعل راہ ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مصاحبین میں سے ایک شخص کو اداس اور غمگین دیکھا، اس کے خدوخال سے بے چینی اور اضطراب کے آثار نمایاں تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے انہیں تنہائی میں طلب کیا ،اور ان کی پریشانی کی بابت استفسار کیا،لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ،جب اصرار کے باوجود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو کوئی جواب نہیں ملا تو انہوں نے سامنے رکھا ہوا چراغ گل کر دیا،اور اپنے خادم کو باہر جانے کا حکم دیا،پھر ان سے حالات دریافت کیے ،انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے حالات سنائے اور اپنی پریشانی اور دکھ کا اظہار کیا، اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے افسوس کا اظہار کیا ،اور تاسف بھرے لہجے میں کہا کہ کاش یہ نوبت نہ آتی اور پہلے ہی ہم تمہاری خبر گیری کرتے اور تمہاری ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ، مذکورہ بالا واقعہ مالدار اور متمول طبقہ کے لئے لیے بڑا سبق آموز ہے،اور انہیں یہ دعوت فکروعمل دیتا ہے کہ وہ از خود آگے بڑھ کر کر دینی خدام کی مدد کریں، ان کی ہمیشہ خبر گیری کرتے رہیں، اگر وہ ضرورت مند ہوں تو ان کی ضرورتوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔

 موجودہ زمانے میں دینی خدمت گزاروں کی ناقدری

  عہد حاضر میں دینی خدمت گزاروں کی ناقدری اور ان کے حقوق سے مجرمانہ غفلت عام ہوگئی ہے ،ائمہ ومؤنین پر طعنے اور بھپتیاں کسنا اور ان کی شخصیت کو داغدار کرنا ایک عام سی بات ہے، مدارس کے اساتذہ و معلمین اور مساجد کے ائمہ و مؤذنین کو آج کیا تنخواہیں میسر ہیں ؟انہیں اتنی  قلیل اور حقیر تنخواہ دی جاتی ہے کہ اس آسمان چھوتی مہنگائی کے دور میں بمشکل ہی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں، اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کرنا ان کے لیے محض ایک خواب ہوتا ہے ،علاج و معالجہ کے کثیر اخراجات بسا اوقات وہ ازخود ادا کرنے کے متحمل نہیں ہوتے ، معاشی لحاظ سے انہیں مضبوط بنانا اور انہیں خود کفیل بنانا تو دور کی بات ہے ،اگر کوئی دینی خدمت گزار معاشی لحاظ سے مضبوط ہوتا ہے ، اور اپنا ذاتی مکان تعمیر کر لیتا ہے، اپنی ضرورت کے لحاظ سے کوئی مہنگی سواری خرید لیتا ہے  تو یہ بھی لوگوں کو ہضم نہیں ہو پاتا ،اور اس پر بے جا تبصرہ شروع ہو جاتا ہے کہ پہلے اس کو سر چھپانے کے لیے جھونپڑی تک میسر نہیں تھی آج یہ دیدہ زیب عمارت میں رہتا ہے، پہلے اس کے پاس سواری کے لئے سائیکل بھی نہیں تھی آج مہنگی کار اس کے قدموں میں ہے،ظاہر ہے کہ یہ صورت حال کافی افسوس ناک اور غم انگیز ہے، دینی خدمت گزاروں کی معاشی ترقی پرہمیں  خوش ہونا چاہیے ، اور ان کو فارغ البال اور خوش حال دیکھ کر ہمیں دلی مسرت ہونی چاہیے۔

 لاؤک ڈاؤن اور دینی خدمت گزاروں کی زبوں حالی

 آج جب کہ کرونا وائرس کی وجہ سے تمام لوگ بے چینی اور اضطراب کے شکار ہیں ،جہاں زندگی کے تمام شعبہ جات اس مہلک وبا کی وجہ سے حد درجہ متاثر ہوئے ہیں وہیں دینی مدارس اور دینی تحریکات سے مربوط افراد بھی متاثر  ہوئے ہیں،بہت سے مدارس بند ہو چکے ہیں ، سرمایہ کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے وہ اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں، بعض مدارس نے آن لائن تعلیم کا آغاز کر دیا ہے؛ لیکن مالی تنگی کی وجہ سے وہ اپنے معلمین اور ملازمین کو پوری تنخواہیں دینے کی موقف میں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ آدھی تنخواہ یا چوتھائی تنخواہ دینے پر مجبور ہیں،یہی کچھ حال مساجد کے آئمہ اور مؤذنین کا بھی ہے ، ایک تو دینی خدمت گزاروں کی قلیل اور حقیر تنخواہ ہوتی ہے، پھر انہیں آدھی یا چودائی تنخواہ دینے  سے دینی خدمت گزاروں کی جو صورت حال دگرگوں ہے وہ محتاج بیاں نہیں ؛ اس لئے اس نازک موقع پر ہمیں دینی خدمت گزاروں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے ،اور معاشی بحران سے نکلنے میں ان کی مدد کرنی چاہئے، آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے تقاریب میں لاکھوں روپے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں، جلسے جلوس کے نام پر ایک بڑا سرمایہ داؤ پر لگا دیتے ہیں، دیدہ زیب اور پرشکوہ مسجد کی تعمیر کے لیے ہم بڑی فیاضی اور دریا دلی سے کام لیتے ہیں،لیکن دینی خدمت گزاروں کے حوالے سے ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں، اور ہم بخل کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور جو حقیقی مستحقین ہیں ہم انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دینی خدمت گزاروں کی مدد کرنا اور ان پر خرچ کرنا دوہرے اجر و ثواب کا باعث ہے، اہل علم حضرات اور دینی شعبے سے مربوط افراد کا تعاون کرنے سے جہاں ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنے کا ثواب ملتا ہے وہیں دین کی نشرواشاعت کا بھی اجر ملتا ہے ۔اللہ ہمیں صحیح اور حق بات سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،آمین