Sun, Feb 28, 2021
حضرت مولانا کلب صادق، جناب شکیل سید ایڈوکیٹ اور جناب احمد پٹیل کی وفات ملک وملت کے لئے بڑا نقصان
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا تعزیتی بیان
—————————————
ٍ گذشتہ ۲۴؍ گھنٹوں میں ہندوستان کی تین اہم قدآور مسلم شخصیتیں دنیا سے رخصت ہوگئیں، یہ یقیناََ ملک اور قوم کے لئے بہت بڑا نقصان ہے، ان میں پہلی شخصیت حضرت مولانا محمد کلب صادق نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہے، وہ شیعہ مسلک کے بڑے عالم اور مرجع تھے، ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ملی مسائل پر مسلک سے بالا تر ہو کر غور کرتے تھے، اور مشترکہ مسائل کے لئے تمام مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتے تھے، اہل سنت والجماعت کے حلقہ میں بھی ان کو بڑی عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، ان کا خطاب بہت سنجیدہ ، مدلل اور مؤثر ہوا کرتا تھا، اور لوگ گوش برآواز ہو کر ان کی باتیں سنتے تھے، تعلیم کے میدان میں بھی ان کی خدمات بہت نمایاں ہیں، بورڈ کے نائب صدر کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
دوسری اہم شخصیت مخلص اور فاضل قانون داں جناب شکیل سید صاحب کی ہے، وہ بہت منکسر المزاج ، بلند اخلاق اور دقیق النظر قانون داں تھے، جمعیۃ علماء ہند کے مقدمات کی پیروی  کرنے میں ان کا بنیادی رول ہوتا تھا، نیز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق سے متعلق مقدمہ اور بابری مسجد کے سلسلہ میں جو طویل قانونی جدوجہد کی اور اس کے لئے کئی وکلاء کی مدد حاصل کی گئی، یہ اس کاروان کے اہم فرد تھے، یقیناََ ان کی وفات نے ملی خدمت کے میدان میں ایک بڑا خلاء پیدا کر دیا ہے۔
تیسری شخصیت ملک کے معروف سیاسی رہنما اور کانگریس کے قدا ٓور لیڈر جناب احمد پٹیل کی ہے، وہ ایک زیرک، دانش مند، سیکولر مزاج، ہندو مسلم اتحاد کے داعی اور ایک طرح سے کانگریس پارٹی کا دماغ تھے، اور پورے ملک میں ان کو ایک با تدبیر سیاست داں کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کی خدمات کو قبول کرے، ان کو جنت الفردوس میں ٹھکانا عطا فرمائے، اور ملت کو ان کے بدل سے نوازے۔
۲۵؍نومبر ۲۰۲۰ءخالد سیف اللہ رحمانی