Sun, Feb 28, 2021

ایک ہمدردانہ پیغام طلبہ واساتذہ کےنام
مفتی صدیق احمد؛ جوگواڑ،نوساری، گجرات ـ
موبائل نمبر: 8000109710

تعلیم ایک ایسا عنصرہےجس کا حصول انسان کودیگر جانداروں سےممتازکرکےایک مہذب زندگی گزارنےکاسلیقہ سکھاتاہے؛ تعلیم کاانسانی زندگی کوسنوارنےاورقوموں کےمستقبل کو تعمیر کرنےمیں ایک اہم کرداررہاہے؛ چونکہ تعلیم کےذریعے کسی بھی قوم کا دل ودماغ بنایا اور اس کے اعمال و کردار کا قطب مینار تعمیر کیا جاتاہے، کامیابیوں اورعزت وسربلندی کاابتدائی زینہ تعلیم ہے ـ
جس طرح دنیامیں رہن سہن کےطوروطریق سیکھنےکےلیے تعلیم وتہذیب اور جنرل نالج کی ضرورت پڑتی ہے، اس سےکہیں زیادہ ضرورت دینی تعلیم کی پیش آتی ہے؛ کیونکہ جب انسان اپنے خالق حقیقی کو نہیں پہچانےگا، اپنے مالک کےاحکام نہیں سیکھےگاتوکیسےوہ اپنےپروردگار کی شکرگزاری کرسکے گا؟اورکیوں کر احکامات کو عملی جامہ پہناپائے گا؟
یادرہے! اگرکسی قوم میں تعلیم ہی نہ ہوتووہ قوم کبھی پروان نہیں چڑھ سکتی؛ نیز طریقئہ تعلیم اگرغلط ہوتوتعلیم کاپورااثرظاہرنہیں ہوسکتا؛ اوراگراستاذ قابل نہ ہو توقابلیت کادروازہ کھل ہی نہیں سکتا؛ اگرسب کچھ ہواورنظام تعلیم درست نہ ہو تو متوقع نتائج نہیں نکل سکتے ـ
پچھلے کافی لمبے عرصے سے لاک ڈاؤن کےمسلسل بڑھتے رہنے کی وجہ سےتعلیمی نظام متأثر ہی نہیں ہوا؛ بلکہ پورےطورپر تہس نہس ہوچکاہے ـ
خریدوفروخت اورلین دین ملک کےگوشے گوشے میں جاری ہے- الیکشن کی انتخابی ریلیاں، سیاسی جلوس اور جلسے بھی بڑے دھوم دھام سےچل رہے ہیں ـ دھاندلی، غنڈہ گردی، شدت پسندی، سیاست کاکھیل، بلاوجہ کےنئے نئے قوانین کابننابھی اب تک نہیں رُک سکا ہے؛ملک کاتقریبًاسارانظام چل رہاہےـ بس صرف تعلیم کانظام پورے طورپرروک دیاگیا ہے، کہیں باقی ہےتوبس برائے نام ہی باقی رہ گیاہےـ
ملک کےنواجوانوں کامستقبل بربادہورہاہے، ان کےاوقات یوں ہی ضائع ہورہے ہیں، اساتذہ کرام کاقیمتی وقت یاتودیگر مصروفیات کی نذر ہوچکاہے، یاتویوں ہی ضائع ہورہاہےـ پرائیویٹ اداروں میں جہاں تنخواہیں جاری ہیں وہاں قرضے پرقرضے چڑھتے جارہے ہیں؛ کہیں پرائیویٹ اساتذہ کوتنخواہیں نہیں مل پارہی ہےاورکہیں ائمہ مساجد اورمؤذنین کاگزارامشکل ہوا جارہا ہے ؛ روزانہ کام کرنے والے مزدوربھوک مری پرمجبورہیں، کمزورطبقے کےطلبہ خواہ دینی تعلیم سے وابستہ ہوں، یاعصری تعلیم سے اس وقت اپنے مستقبل کوبنانے کےبجائےمسلسل بلاانتظام کےنافذکیے ہوئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھرکاخرچ نکالنے کےلیےدووقت کی روٹی کے لیے کام کاج میں لگنے پر مجبور نظر آرہے ہیں ـ
غرض! اس وقت کی صورت حال کچھ اس طرح کی ہےکہ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں،تمام لوگ اپنی اپنی فکرمیں لگے ہوئے ہیں ـ ایسے میں علماء،فضلاء، ائمہ کرام اورمؤذنین کی قدرکےبجائے ان کی طرف سے پورے طورپرمنہ موڑلیاگیا ہے؛ بہت سی جگہوں پر ان کو بوجھ سمجھا جارہاہے، حالاں کہ یہی حضرات پیدائش سےلےکر جنازہ تک آپ کی رہنمائی کرتے اور آپ کےبچے کےدنیامیں آنے کےبعد سے لےکرجسم سےروح پروازکرجانے تک ان ہی کی ضرورت پڑتی ہے، بلاکسی معاوضہ کی ہرطرح کی رہبری و خدمت انجام دیتے ہیں، ہرطریقے سے آپ کےکام آتے ہیں، ان کی قدرکرنی چاہیے، ایسے مشکل حالات میں ان کاخیال رکھنا چاہیے ـ
ادھر حکومت یہ چاہتی ہے کہ نئی نسل تعلیم میں دینی اوردنیوی دونوں اعتبار سےبالکل کھوکھلی رہے، تاکہ انہیں اپنی من مانی طورپرغلام بنا کررکھاجاسکے، اورملک کےمسلمانوں پر اتناظلم وتشددکیاجائے کہ لوگ اسلامی تعلیمات سے دورہوکربرائے نام ہی مسلمان باقی رہ سکیں ، مسلمانوں کے وجود کواس دنیاسے ختم کردیاجائے ـ
ایسی صورت حال میں ہم پریہ فرض عائد ہوتاہے کہ ہم ظالمانہ حکومتی منصوبے کوخاک میں ملادیں اورلاک ڈاؤن کےباوجود علمی وعملی پختگی اورجدیدعلوم کےحصول میں لگ کر نئی نئی چیزوں کو سیکھ کر،ہرطرح کےدینی ودنیوی علوم کو حاصل کرکے حکومت کویہ بتادیں کہ دنیاکی کوئی بھی طاقت ہمارے شوق وجذبے کےآگے چٹان بن کر حائل نہیں ہوسکتی، جوبھی طاقت راستے کاروڑہ بن کررکاوٹ ڈالنےکی کوشش کرے گی وہ خودروئی کےگالوں کی طرح بکھرکر، ریزہ ریزہ ہوکرتند وتیزطوفان میں گم ہوجائے گی-
تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ جب بھی باطل طاقتوں نے سرابھاراہے، سازشیں رچی ہیں، ہرموڑ پر اللہ کےکچھ نیک بندوں نےمنظم منصوبہ بناکر ایسا مقابلہ کیا ہے کہ انکی طاقتیں نیست و نابود ہوگئیں اور ناپاک منصوبہ خاک میں مل گیا ـ بطور مثال ترکی کاایک سچا واقعہ ذیل میں درج کیاجارہاہےـ
1924ء میں ترکی میں خلافت کو باقاعدہ اسمبلی سے منسوخ کروادینے کےبعد 1926 ء میں فقہ اسلامی بھی بحیثیت قانون عدالتوں سے ختم کردی گئ تھی ـ
مصطفے کمال پاشا کازمانہ تھا، سرکاری انگریزی تعلیم کو لازم قراردیدیاگیاتھا؛ بڑے بڑےعلماء یاتوشہیدکردیے گئے تھے یانظربند(قید)کردیےگئے-
الغرض ! علمی سلسلہ جاری نہ رہنے کی وجہ سے “بلیک آؤٹ” جیسی صورت حال پیداہورہی تھی؛ اب خوف یہ تھاکہ صورت حال مزید کچھ دن ایسی رہی تودینی تعلیم کوپڑھنے پڑھانے والے بھی نہ مل پائیں گے ـ
شیخ محمود آفندی دامت برکاتہم کی توجہ اورمحنت سے ان کے مرید “موسی امجا” اپنے گھر کے تہہ خانےمیں مکتب کھولنےپرتیارہوگئےـ جوبعد میں مدرسہ کی شکل اختیار کرگیاـ
اُس وقت مخصوص طریقے پرترکی کانورانی قاعدہ تیارکیاگیاتھا، جس کو پڑھ لینے کےبعد عربی زبان سیکھنے سکھانے کاسلسلہ شروع ہوتاتھا، جوطلبہ – نصر ينصر ـ کی گردان یادکرلیتے، ان سے فرماتے کہ تم والئ شہر سےافضل ہو،جوطالب علم حروف جر پڑھ لیتا، حضرت اس سےفرماتے کہ: تم اب جاکر کہیں پر یہی حروف جر پڑھاؤ، پھرتمہیں اگلاسبق دیں گے، وہ عرض کرتاحضرت کیاپڑھاؤں ؟اورکیسےپڑھاؤں؟ حضرت فرماتےکہ: ہمارےہاں علم اصل نہیں، عمل اورتبلیغ اصل ہے ـ تم انہیں تصوف پڑھاؤ اورتربیت کرو ـ یہ علم تو عوام کوآتاہے نہ علماء کو، تم نے جتنا تصوف سیکھ لیاہے اسے تھوڑے علم کےساتھ جوڑکر پڑھاؤگے تو مرجع خلائق بن جاؤگے ـ
حضرت کےایک شاگرد نےآٹھ سال کی عمر میں ان سے پڑھنا شروع کیاتھااورسولہ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہوئے ـ وہ بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں کتابیں تونہیں ہوتی تھیں ، جوکتاب تھی ان کا رسم الخط نئ نسل نہیں سمجھتی تھی ـ پولیس اورخفیہ ایجنسیاں چھاپے مارتی تھیں کہ بچہ اسکول جارہاہے یانہیں؟ اسلیے حضرت کی ایک تاکید تویہ تھی کہ جوبچہ ہمارے پاس شام کوپڑھے وہ فی الحال اسکول سےناغہ نہ کرے ـ دوسرے انہوں نے کم وقت میں آسان اورزیادہ مقدار میں تعلیم کےلیے دینی تعلیم کوآسان بنانے کےلیے جہاں تک ممکن ہو دینی شعائر وارکان کواشارےکےذریعے سمجھانے کی کوشش کی ـ اس زمانے میں علماء کرام نےبےشمار قربانیاں پیش کیں ـ
جوحضرات دیہات میں بچوں کوپڑھاتے تھے وہ کاشت کاری کالباس پہنتے اورکتاب کےساتھ کھیتی باڑی کےآلات تیار رکھتے ـ گاؤں سے باہراونچی جگہ درخت پردوبچوں کو بٹھا دیاجاتاتھا، جیسے ہی فوجی جیپ آتی تمام طلبہ کتابیں چھوڑ کرکھیت میں پہنچ جاتے اوردل جمعی سے قومی زرعی پیداوارکےاضافے میں جٹ جاتےـ
شہرکےاساتذہ کرام نے توعجیب ہی طریقہ اختیارکیاتھا، ترکی میں یورپ کی طرح ریل کاسفر سستا اورآرام دہ ہے، یہ حضرات سستی قیمت پر مستقل نشستیں لےلیتے ـ صبح صبح شاگردوں سمیت ریل گاڑی کاایک ڈبہ مخصوص کرکے سفر شروع کردیتے؛ سفر جاری رہتااورزمینی سفرکےساتھ علمی سفر بھی چلتارہتا، آخری منزل پراترنے کےبعد یہ لوگ کچھ دیر سستاتے اورپھراستاذ اورشاگردوں پر مشتمل یہ جماعت واپسی والی ریل پرسوار ہوجاتی اوروقفے کےبعد والے اسباق مکمل کرتے ہوئے شام کوبخیریت گھر پہنچ جاتے ـ
(ترک ناداں سےترک دانا تک )
دیکھیے! کس طریقے سے چند لوگ سرجوڑ کربیٹھے اورحل نکالنے کی کوشش کی تو اتنی خطرناک پابندی کےباوجود دین اسلام کوسیکھنے سکھانے کاسلسلہ مسلسل جاری رہا،اورنصرت خداوندی شامل حال رہی، آج بھی اگر ہم ایساطریقہ اختیار کریں کہ جس کےپاس جتنا علم ہےخواہ دینی ہو یادنیوی، وہ اپنے سے کم علم والے کےلیے کچھ وقت نکال کرسیکھے اور سکھائے، اس طرح ہراوپر والا نیچے والے کی فکر کرے، اورہرنیچے والے اپنے اوپر والے سے کچھ وقت لےکر حصول علم میں لگے، ان کےقیمتی اوقات کےبدلے معمولی معاوضہ دیدے، اوراسی طریقے سے علماء کرام بھی اپنے اپنے طور پر کوئی نظام بنائیں کہ جس سے اپنے محلےکےطلبہ ،یارشتہ دار، یامدرسے کےطلبہ ان سے کچھ نہ کچھ حاصل کرسکیں، عصری علوم کےطلبہ بھی اپنے ماسٹرز سے درخواست کریں کہ وہ کچھ معاوضہ لےکرہی ان کے لیے آن لائن یا آف لائن کچھ وقت نکالیں، اورحصول علم میں لگ جائیں، جس طرح بھی حصول علم ہو ،جیسابھی علم حاصل کرنے کا موقع ملے اسے ضائع نہ کرتے ہوئے اپنے اوقات کو کارآمد بناکرمشغول رہیں، تو ان شاءاللہ یہ لاک ڈاؤن کا عرصہ بجائے مضر ثابت ہونے کےمفید ترین ثابت ہوگاـ اور جوکچھ بھی لاک ڈاؤن کےعرصے میں طالب علم حاصل کرےاساتذہ کرام دیگر طلبہ کرام کوابھارنے اورشوق ورغبت دلانے اوران کی حوصلہ افزائ کےلیے مختصر سامضمون تیار کرکے اخبارات میں شائع کردیں ـ
آپ جانتے ہی ہیں کہ: ‏دار العلوم دیوبند کے قیام کا مقصد ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو رنگ و نسل کے لحاظ سے ہندوستانی ہوں لیکن دل و دماغ کے لحاظ سے اسلامی ہوں، جن میں اسلامی تہذیب و تمدن کے جذبات بیدار ہوں اور دین و سیاست کے لحاظ سے ان میں اسلامی شعور زندہ ہوـ (حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ)
اسلیے ضروری نہیں ہےکہ یہی طریقہ اختیار کیاجائے، بس اصل مقصد حکومت کےناپاک منصوبے کوناکام کرکے،دارالعلوم کےقیام کومقصد کولےکرآگے بڑھنا ہے اور اپنےبچوں، ساتھیوں ، دوستوں، شاگردوں کےمستقبل کوتابناک وروشن بنانے اوران کےاوقات کو ضائع ہونے سے بچانے کےلیے منظم منصوبہ بناکر جس علاقے میں جو طریقہ مفید ثابت ہواسے اختیار کیاچاناچاہیے؛ تبھی جاکر اس وقفے کی بھرپائ ہوسکتی ہے اورطلبہ وطالبات کا مستقبل سنورسکتاہے ؛ ورنہ بظاہراس وقت کےنوجوانوں کےمستقبل کی تابناکی بڑی مشکل نظرآرہی ہے ـ
اگر اس وقت کوئ منظم منصوبہ اورٹھوس لائحئہ عمل تیار نہیں کیاگیا تو پہلے سے ہی دینی تعلیم سےجڑے ہوئے لوگ فیصد کےاعتبار سےبہت کم ہیں اوراب تواس میں مزید کمی آتی جائے گی اوریوں علماء بتدریج ختم ہوتے جائیں گےاورمستقبل میں جاہلوں سےلوگ مسئلہ پوچھ کر خود بھی گمراہ ہوں گے اوردوسروں کوبھی گمراہ کریں گے ـ
دنیوی اعتبارسےبھی بہت کم تعدادہےان لوگوں کی جو پڑھائ میں دل چسپی لےکر مستقبل میں کچھ بنناچاہتے ہیں ، اگر صورت حال یہی رہی تو قوم ایسے لوگوں سے بھی ہاتھ دھوبیٹھےگی اورفقط وقت ضائع کرنے والے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے اوراس طرح قوم کامستقبل جوکہ نوجوان طبقہ ہے وہ یوں ہی ضائع ہوجائے گا ـ
امید ہے کہ ان گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے ان پر عمل پیرگی کی کوشش کی جائے گی ـ