Tue, Mar 2, 2021
آپ کے شرعی مسائل
 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
03.07.2020
الصلوٰۃ خیر من النوم
سوال: فجر کی اذان کا جواب دیتے ہوئے بعض لوگ ’’ الصلاۃ خیر من النوم ‘‘ کے جواب میں’’ صدقت وبررت‘‘ کہتے ہیں، کیا اس کلمہ کا اسی طرح جواب دینا چاہئے؟  (اشتیاق احمد، بنجارہ ہلز)
جواب:’’ صدقت وبررت‘‘ معنوی اعتبار سے ’’ الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کا جواب ہے، مؤذن کہتا ہے کہ نماز سونے سے بہتر عمل ہے، اور کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ وقت نیند کے غلبہ کا ہوتا ہے، اس کے جواب میں ’’ صَدّقتَ وَبَرَرتَ‘‘ کہنے والا کہتا ہے کہ تمہاری یہ بات سچی اور درست ہے؛ اس لئے فقہاء نے ’’ الصلوٰ ۃ خیر من النوم‘‘ کے جواب میں صدقت وبررت کہنے کا ذکر کیا ہے: وفی ’’ الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ فیقول: صدقت وبررت‘‘ ( درمختار، کتاب الصلوٰۃ ، باب الاذان:۲؍ ۶۷) اب سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ساتھ ساتھ اسے ’’ الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کو بھی جواب میں دہرانا چاہتے تو فقہاء کہتے ہیں کہ اس کلمہ کو نہیں دہرائے: ’’ إذا قال المؤذن : ’’ الصلوٰۃ ، فصل فیما یجب علی السامعین: ۱؍ ۶۶۵) لیکن حدیث میں چوں کہ کلمات اذان ہی کو موٹانے کی بات کہی گئی ہے؛ اس لئے یہ بات بہتر معلوم ہوتی ہے کہ کے جواب میں ’’ صدقت وبررت‘‘ بھی کہا جائے اور ’’ الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کا بھی اعادہ کر لیا جائے۔ واللہ اعلم
اذان میں’’ اشہد أن محمدا رسول اللہ‘‘ کا جواب
سوال: اذان میں جب اشہد أن محمدا رسول اللہ پڑھا جائے تو بعض لوگ اسی کلمہ کو دہرا دیتے ہیں، اور بعض حضرات جواب میں درود شریف پڑھتے ہیں، ان میں سے کون سا عمل درست ہے؟ (اشتیاق احمد، بنجارہ ہلز)
جواب:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے جواب میں کلمات اذان کو دہرانے کا حکم دیا ہے، اس لحاظ سے ان کلمات کو دہرانا چاہئے  (صحیح البخاری، حدیث نمبر: ۶۱۱) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس کے سامنے آپ کا مبارک ذکر آئے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے تو وہ بخیل ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۳۵۴۶) اس لئے بہتر صورت یہ ہے کہ پہلے جواب میں ’’ اشھد ان محمدا رسول اللہ‘‘ پڑھے، پھر جب اذان مکمل ہو جائے تو اس موقع کی دعاء پڑھے ، جس میں درود شامل ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعاء کی تاکید فرمائی ہے (مسلم، حدیث نمبر: ۳۸۴) اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں ہدایات پر عمل ہو جائے گا۔
بیت الخلاء میں موبائل پر گفتگو
سوال: آج کل لوگوں کی زندگی بہت مصروف ہو گئی ہے، مختلف موقعوں پر اس کا اثر ظاہر ہوتا رہتا ہے، اسی کا ایک اثر یہ ہے کہ بعض لوگ بیت الخلاء میں ہوتے ہیں اور ضرورت سے فارغ ہونے کے درمیان ہی موبائل پر بات بھی کرتے جاتے ہیں، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ ( محمد صدیق، گولکنڈہ) 
جواب:قضائے حاجت کے وقت گفتگو کرنا مکروہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المتغوطین أن  یتحدثا فان اللہ یمقت علی ذلک (المستدرک للحاکم، علی الصحیحین، کتاب الطہارۃ، باب نھی النبی صلی اللہ علیہ وسلم المتغوطین أن یتحدثا : ۳۸۱، ۵۷۴) عام گفتگو کی ممانعت تو ہے ہی ، سلام کرنا اور اگر کسی نے سلام کر دیا تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے؛ چنانچہ علامہ حصکفیؒ نے ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے جن کو سلام کرنا مکروہ ہے، فرماتے ہیں کہ جس آدمی کا ستر کھلا ہوا ہو تو اس کو سلام کرنا مکروہ ہے اور جو قضائے حاجت کی حالت میں ہو اس کو سلام کرنے کی کراہت اور بھی بڑھی ہوئی ہے……… ومکشوف عورۃ ومن ھو فی حال التغوط أشنع (الدر المختار مع الرد: ۲؍۳۷۴) 
اگرقرض دینے والے تک قرض پہنچانا ممکن نہ ہو
سوال: میں ایک زمانہ میں سعودی عرب میں کام کرتا تھا، میں جس کمپنی میں ملازم تھا، اس میں مصری ساتھی بھی کام کرتے تھے، میں نے ایک ساتھی سے قرض لیا اور ادا نہیں کر سکا، کہ میرا ہندوستان کا سفر ہوگیا، اس درمیان ان کا ویزا آگے نہیں بڑھ سکا، انہیں وطن واپس جانا پڑا اور اب میرا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے، ایسی صورت میں مجھے اس قرض کا کیا کرنا چاہئے؛ تاکہ میں اللہ کے یہاں جواب دہ نہ ہوں؟ ( عبدالسمیع، ملے پلی)
جواب:پہلے تو آپ ان کا پتہ معلوم کرنے کی پوری کوشش کیجئے، آج کل میل اور واٹس ایپ کے ذریعہ دور دراز کے لوگوں کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے، اور بینک کے ذریعہ بھی رقم ادا کرنے کی صورت ہوتی ہے؛ لیکن اگر صاحب قرض تک وہ رقم پہنچانے کی کوئی صورت نہیں نکل پائے تو اس نیت سے صدقہ کر دیجئے کہ اس شخص کو اس کا اجروثواب پہنچے، ان شاء اللہ آپ قرض ادا نہ کرنے کے گناہ سے بری ہو جائیں گے: وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین بری فی الآخرۃ (رد المحتار: ۶؍۴۴۳)؛ البتہ اگر صدقہ کرنے کے بعد کسی ذریعہ سے اس شخص کا پتہ چل جائے اور اس کو رقم پہنچانا ممکن ہو تو پھر اس کو قرض کی رقم واپس کر دینا واجب ہے۔
ٹڈی کو آلائش نکالے بغیر کھانا
سوال: آج کل ملک کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کا حملہ جاری ہے، بعض کسان اس کو پکڑ کر بیچ بھی رہے ہیں اور لوگ اسے خرید کر پوری ٹڈی کو تل کر کھا لیتے ہیں، کیا یہ صورت جائز ہوگی جب کہ اس کے اندرفضلہ بھی ہوگا؛ کیوں کہ ہر جاندار میں قدرت کا یہی نظام ہے؟ (محمد اختر، مہدی پٹنم)
جواب:دو جاندار ایسے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کئے بغیر ان کو حلال قرار دیا ہے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: ۳۲۱۸) اب رہ گئی یہ بات کہ اس میں نجاست بھی ہوتی ہے تو اگر وہ جانور اتنا چھوٹا ہے کہ اسے نکالنا اور الگ کرنا دشوار ہے تو اس پورے جاندار کو کچھ نکالے بغیر کھانا جائز ہے، فقہاء نے ایسی چھوٹی مچھلیاں —– جنہیں مسلّم تَل کر یا بھون کر کھایا جاتا ہے، جائز قرار دیا ہے: وفی السمک الصغار التی تقلی من غیر أن یشق جوفہ فقال أصحابہ ای الشافعیؒ لا یحل أکلہ؛ لان رجیعہ نجس ، وعند سائر الائمۃ یحل ( رد المحتار:۶؍۳۰۹) ہندوستان کے ارباب افتاء نے بھی اس کی اجازت دی ہے؛ چنانچہ مولانا ظفر احمد عثمانیؒ فرماتے ہیں: ’’ بہت چھوٹی مچھلی کا کھانا بدون چاک کئے اور آلائش صاف کئے بھی حلال ہے‘‘ (امدادالاحکام: ۴؍ ۳۱۳) جو حکم چھوٹی مچھلی کا ہے، وہی ٹڈی کا بھی ہے؛ کیوں کہ اس کی جسامت بھی کم وبیش چھوٹی مچھلی کے ہی برابر ہوتی ہے۔
کیا ماں کے زیر پرورش بچہ کو باپ دیکھ سکتا ہے؟
سوال: میرے خاندان میں طلاق کا ایک واقعہ پیش آگیا، ان کا بیٹا ابھی چھوٹا ہے؛ اس لئے ماں کے زیر پرورش ہے، باپ ویڈیو کال کے ذریعہ بیٹے سے بات کرنا اور کبھی اس کو لے کر کسی دوسری جگہ جانا چاہتا ہے؛ مگر بچہ کی ماں اس سے انکار کرتی ہے، اس سلسلے میں شرعی حکم کیا ہے؟ (محمد خورشید، بنگلور)
جواب:جب بچہ ماں کے زیر پرورش ہو تو باپ کو اسے دیکھنے یا اس سے بات کرنے کا حق حاصل ہے، اور جب باپ کے زیر پرورش ہو تو یہی حق ماں کو حاصل ہے، اور ویڈیو کال کی صورت بھی بچے کو دیکھنے اور اس سے بات کرنے کی ایک شکل ہے؛ اس لئے ماں کو اس سے روکنے کا حق نہیں ہے: ’’ الولد متی کان عند أحد الأبوین لا یمنع الآخر عن النظر إلیہ‘‘ (ہندیہ: ۱؍۵۴۳) البتہ جب تک ماں کی پرورش میں ہے تو باپ کو اس کا حق نہیںہے کہ اس کو دوسرے شہر لے جائے’’ یمنع الأب من إخراجہ من بلد أمہ بلا رضاھا ما بقیت حضانتھا‘‘ (در مختارمع ردالمحتار: ۳؍۵۷۱)
٭ ٭ ٭