Fri, Feb 26, 2021
آپ کے شرعی مسائل
مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی
2021.02.19
اگر وتر کی دوسری رکعت کے بارے میں شک ہوجائے؟
سوال:-  اگر وتر کی نماز میں شک ہوجائے کہ یہ دوسری رکعت ہے یا تیسری ؟ اور کسی ایک پہلو پر اطمینان نہ ہوپائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟ اسے کس طرح اپنی نماز پوری کرنی چاہئے ؟(سید حسنین، کریم نگر)
جواب :-  ایسی صورت میں کم تر عدد کا اعتبار کیا جائے گا ، یعنی اس کو دوسری رکعت تصور کرتے ہوئے مزید ایک رکعت ادا کرے ؛ البتہ چوںکہ وتر میں دُعائِ قنوت بھی ہے ؛ اس لئے وہ اس دوسری رکعت میں بھی دُعاء قنوت پڑھے گا اور قعدہ کرے گا ، پھر تیسری رکعت کے لئے اُٹھے گا تو اس میں بھی قنوت پڑھے گا اور قعدہ اخیرہ کرے گا :’’ لو شک فی الوتر وھو قائم أنھا ثانیۃ أو ثالثۃ یتم تلک الرکعۃ ویقنت فیھا ویقعد ثم یقوم فیصلی أخری ویقنت فیھا أیضا ھو المختار ‘‘ ( فتح القدیر : ۱؍۵۲۰) نیز اس کے ساتھ ساتھ اخیر میں سجدہ سہو کرنا بھی ضروری ہے ؛ کیوںکہ رکعت کی تعداد میں شک کی جو بھی صورت پیش آئے ، اس میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے : ’’ ومما لا ینبغی إغفالہ أنہ یجب سجود السھو فی جمیع صور الشک الخ ‘‘ ۔ (فتاویٰ ہندیہ : ۱؍۱۳۱)
کتنی مدت پر ناخن کاٹا جائے ؟
سوال:-  میرا ناخن بہت تیزی سے بڑھتا ہے ، کیا اس سلسلے میں کوئی رہنمائی ہے کہ کتنی مدت پر ناخن کاٹ لینا چاہئے ۔ (تنویر عالم، سنتوش نگر)
جواب :-  جب ناخن بڑے ہوجائیں تو ان کو کاٹ لینا چاہئے ؛ کیوںکہ اس میں گندگی جم جاتی ہے ؛ لیکن مختلف لوگوں میں جسمانی نموکی صلاحیت الگ الگ ہوتی ہے ؛ اس لئے اس کی کوئی ایک حتمی مدت مقرر نہیں کی جاسکتی ؛ البتہ شریعت کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے کہ بہتر ہے کہ ہر ہفتہ ناخن کاٹ لے ، مونچھیں تراش لے ، زیر ناف بالوں کی صفائی کرلے اور غسل واجب نہ ہو تب بھی صفائی ستھرائی کے لئے غسل کرلے ، یہ سب سے بہتر ہے ، اوسط درجہ یہ ہے کہ پندرہ دن میں ان کاموں کو انجام دے ، آخری حد چالیس دنوں کی ہے ، اس سے تاخیر مکروہ ہے : ’’الافضل ان یقلم أظفارہ ویقص شاربہ ویحلق عانتہ وینظف بدنہ بالاغتسال فی کل أسبوع وإلا ففی کل خمسۃ عشر یوماً ولا عذر فی ترکہ وراء الأربعین ویستحق الوعید فالأول أفضل والثانی الأوسط والأربعون الأبعد‘‘ ۔ (ردالمحتار : ۲؍۱۸۱)
وعظ کے درمیان سلام
سوال:-  اگر کوئی صاحب وعظ کہہ رہے ہوں اور درمیان میں کوئی شخص آئے تو اسے سلام کرنا چاہئے یا نہیں ، اور اگر سلام کردے تو کیا اس کے لئے جواب دینا واجب ہوگا ؟ (مجتبیٰ حسین، حمایت نگر)
جواب :-  آدمی جب کسی ایسے کام میں مشغول ہو کہ جس میں سلام کی وجہ سے خلل پیدا ہوسکتا ہوتو سلام نہیں کرنا چاہئے ، جیسے کوئی شخص قرآن کی تلاوت میں مشغول ہو ، علمی مذاکرہ میں مصروف ہو ، جس میں تقریر بھی شامل ہے ، یا اذان دے رہا ہو ، دُعا کررہا ہو تو ایسے شخص کو سلام نہیں کیا جائے — اور اگر سلام کردیا جائے تو جواب دینا واجب نہیں : ’’ ویکرہ السلام عند قرأۃ القرآن جھراً وکذا عند مذاکرۃ العلم وعند الآذان والإقامۃ والصحیح أنہ لا یرد فی ھذہ المواضع أیضاً‘‘ (الفتاویٰ الہندیہ : ۵؍۳۲۵) علامہ شامیؒ نے اس کی اور بھی صورتیں ذکر کی ہیں ، جن میں سلام کا جواب دینا ضروری نہیں ہے ، یا جواب دینا بہتر نہیں ہے ، ( دیکھئے : ردالمحتار : ۱؍۶۱۸) — لہٰذا جب کوئی شخص بیان کرتا رہے تو آنے والوں کو اس وقت سلام نہیں کرنا چاہئے ، ایک تو اس سے بیان کرنے والے کو خلل ہوتا ہے ، دوسرے سامعین کو بھی خلل پیدا ہوتا ہے ۔
اگر قرض دہندہ کا وارث نہ ہوتو کس طرح قرض ادا کریں گے ؟
سوال:-  زید کا بکر پر قرض باقی تھا ، زید کا انتقال ہوگیا ، زید کے ورثہ کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ، بکر چاہتا ہے کہ اس کا قرض ادا کردے ؛ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ وہ کس کو قرض ادا کرے ، ایسی صورت میں بکر کو کیا کرنا چاہئے ؟ (شارق احمد، کوتہ پیٹ)
جواب :-  اولاً تو بکر کو چاہئے کہ زید کے ورثہ کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کرے ، اور مل جائیں تو حصہ شرعی کے مطابق ان کو حوالہ کردے ، اور اگر باوجود تلاش کے ورثہ نہ مل سکیں ، تو پھر اس کو صدقہ کردے اوراگروہ مسلمان ہوتو نیت کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثو اب صاحب ِقرض کو پہنچادے : ’’علیہ دیون ومظالم وجھل أربابھا وألیس من علیہ ذلک من معرفتھم فعلیہ التصدق بقدرھا من مالہ ، وفی الشامیۃ ، قولہ : جھل اربابھا یشمل ورثتھم فلو علمھم لزمہ الدفع إلیھم لأن الدین صار حقھم‘‘ ۔ (درمختار ، کتاب اللقطۃ : ۴؍۲۸۳)
بچوں کے ہاتھ ڈالے ہوئے برتن سے وضو
سوال:-  بعض دفعہ بچے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں ، اور اطمینان نہیں ہوتا کہ شاید بچہ نے کسی ناپاک چیز کو ہاتھ سے چھوا ہو ، تو ایسے پانی کا کیا حکم ہے ، کیا اس پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے؟ (دلنشیں فاطمہ، کوکٹ پلی)
جواب :-  پاکی اور ناپاکی کے سلسلہ میں اُصول یہ ہے کہ پانی اصل میں پاک ہے ، جب تک ناپاکی کا یقین نہ ہوجائے ، جو چیز پہلے پاک تھی ، وہ پاک ہی سمجھی جائے گی ؛ اس لئے بچہ نے جس پانی میں ہاتھ ڈالا ہو ، وہ پانی پاک ہی سمجھا جائے گا ، جب تک کہ یقینی طورپر اس کے ہاتھ میں ناپاکی کے لگے ہونے کا یقین نہ ہوجائے ؛ البتہ چوںکہ بچوں کے ہاتھ میں ناپاکی کے لگے ہونے کا شبہ ہوتا ہے ؛ اس لئے بہتر ہے کہ  دوسرا پانی موجود ہو تو اس سے وضو کرلیا جائے ، تاہم اگر اسی پانی سے وضو کرلیا تو یہ بھی کافی ہوگا : ’’ إذا دخل الصبی یدہ فی کوز ماء أو رجلہ فإن علم أن یدہ طاھرۃ بیقین یجوز التوضوء بہ وإن کان لا یعلم أنھا طاھرۃ أو نجسۃ فالمستحب أن یتوضا بغیرہ ومع ھذا لو توضأ أجزأہ کذا فی المحیط‘‘ ۔ (فتاویٰ ہندیہ ، کتاب الطہارۃ : ۱؍۲۵)
جس حوض کے بارے میں گندگی کا شبہ ہو
سوال:-  بسا اوقات مسجد کا حوض احاطہ سے باہر ہوتا ہے ، اندیشہ ہوتا ہے کہ شاید اس میں گندگی ہو ، یاکتے نے اس میں منھ ڈالا ہو ؛ لیکن اس کا غالب گمان نہیں ہوتا ، کیا ایسے حوض سے وضو کیا جاسکتا ہے؟ (سمیع الدین، جل پلی)
جواب :-  عام طورپر مسجدوں کے حوض بنانے میں خیال رکھا جاتا ہے کہ وہ سو مربع ہاتھ ہو ، اتنا بڑا حوض فقہ کی اصطلاح میں ’ آبِ کثیر ‘ ہے ، اگر اس میں نجاست گر بھی جائے ، یا اس میں کتا پانی پی لے ، تو جب تک رنگ ، بو یا مزے میں اس نجاست کا اثر ظاہر نہ ہو ، پانی ناپاک نہیں ہوگا ، اور اگر حوض اس سے چھوٹا ہو اور اس کے ناپاک ہونے پر کوئی واضح دلیل نہ ہو ، صرف ناپاکی کا شبہ ہو تب بھی وہ پانی پاک ہی سمجھا جائے گا ، اس سے وضو کرنا کرنا درست ہوگا اور لوگوں سے اس کے بارے میں تفتیش و تحقیق کی ضرورت نہ ہوگی ؛ کیوںکہ پانی اصل میں پاک ہے ، صرف شک کی وجہ سے اس کے ناپاک ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا : ’’ ویجوز للرجل أن یتوضأ من الحوض الذی یخاف أن یکون فیہ قذر ولا یتیقن بہ ولیس علیہ أن یسال عنہ ولا یدع التوضوء منہ حتی یتیقن أن فیہ قذر ا للأ ثر‘‘ ۔ (فتاویٰ ہندیہ ، کتاب الطہارۃ : ۱؍۲۵)
شرکت میں ایک ہی فریق پر نقصان کی ذمہ داری
سوال:-  دو دوستوں نے پارٹنرشپ کے طورپر کاروبار کیا اور یہ بات طے پائی کہ ایک فریق کو زیادہ نفع ملے گا ، مثلاً : ساٹھ یاستر فیصداور دوسرافریق تیس یا چالیس فیصد فع کا مستحق ہوگا ؛ لیکن جو فریق زیادہ نفع لے گا ، نقصان کی پوری ذمہ داری اسی پر ہوگی ، جس کے لئے کم نفع طے ہوا ہے ، نقصان کی ذمہ داری اس پر نہیں ہوگی ، کیا اس طرح معاملہ طے کرنا درست ہوگا ۔( اشفاق احمد، ممبئی)
جواب :-  اس طرح کے معاملات کو فقہ کی اصطلاح میں شرکت کہتے ہیں ، شرکت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ ایک فریق کا سرمایہ زیادہ ہو اور دوسرے کا کم ، اور یہ بات بھی درست ہے کہ کسی فریق کا نفع زیادہ رکھا جائے ؛ اگرچہ کہ اس کا سرمایہ کم ہو ، اور دوسرے فریق کا نفع کم رکھا جائے ؛ اگرچہ کہ اس کا سرمایہ زیادہ ہو ؛ لیکن نقصان کے سلسلہ میں یہ بات ضروری ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کریں ، کسی ایک فریق پر نقصان کی پوری ذمہ داری ڈال دینا جائز نہیں ، چاہے وہ خود اس کے لئے رضامند ہو ؛ کیوںکہ یہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے سود کے دائرہ میں آجاتا ہے : ’’ الربح علی ماشرطا ، والوضیعۃ علی قدر المالین‘‘ (فتح القدیر ، کتاب الشرکۃ : ۶؍۱۷۷) البتہ معاملہ میں ایسی شرط لگانے کی وجہ سے معاملہ فاسد نہیں ہوگا ، پارٹنرشپ درست قرار پائے گی ؛ لیکن یہ شرط معتبر نہیں ہوگی ، دونوں فریق پر اپنے اپنے سرمایہ کے اعتبار سے نقصان کی ذمہ داری ہوگی : ’’ … فشرط الوضیعۃ بصفۃ فاسد ، ولکن بھذا لا تبطل الشرکۃ‘‘ ۔ (فتاویٰ تاتار خانیہ ، کتاب الشرکۃ : ۵؍۶۵۵)
مسجد کے صحن میں بورویل
سوال:-  ایک عالم صاحب نے مسئلہ بتایا کہ مسجد کے صحن میں بورویل کرانا جائز نہیں ؛ کیوںکہ فقہاء نے مسجد میں کنواں کھدوانے سے منع کیا ہے ، اور کنویں اور بورویل کا ایک ہی مقصد ہے : پانی کا حاصل کرنا ؛ اس لئے بورویل کرانا بھی جائز نہیں ہوگا ۔ (نیاز احمد، تھانہ)
جواب :-  یہ درست ہے کہ فقہاء نے مسجد کے اندر کنواں کھدوانے کو منع کیا ہے ؛ لیکن اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ کنواں کھودنے کی وجہ سے مسجد کی حرمت متاثر ہوگی ، پانی لینے کے لئے عورتیں بھی آئیں گی ، وہ لوگ بھی آئیں گے ، جو ناپاک ہیں ، اور ان کو غسل کی ضرورت ہے ، اس سے مسجد کی بے احترامی ہوگی : ’’ ولا یتخذ فی المسجد بئرماء ؛ لأنہ یخل بحرمۃ المسجد ؛ فإنہ یدخلہ الجنب والحائض ، وإن حفر فھو ضامن بما حفر ، إلا أن ماکان قدیما فیترک کبئر زمزم فی المسجد الحرام ‘‘ (البحرالرائق ، کتاب الصلاۃ ، فصل کرہ استقبال القبلۃ : ۲؍۶۲، نیزدیکھئے : فتح القدیر ، کتاب الصلاۃ : ۱؍۴۲۱) بورویل کی صورت حال یہ نہیں ہے ، بورویل کی جگہ بہت محدود ہوتی ہے اور پائپ کے ذریعہ اس کا پانی اپنی جگہ سے دُور دُور تک پہنچایا جاسکتا ہے اور پہنچایا جاتا ہے ، اور بعض دفعہ اسی جگہ بور کرانا اس لئے ضروری ہوجاتا ہے کہ زمین میں پانی اسی جگہ دستیاب ہوتا ہے ، جو مسجد میں شامل ہے ، ایسی صورت میں وضوء و استنجاء وغیرہ کی ضروریات — جو مصلیوں اور معتکفینکو درپیش ہوتی ہیں — اسی طرح پوری کی جاسکتی ہیں کہ جہاں پانی دستیاب ہو ، وہیں بور کیا جائے ؛ اس لئے مسجد میں بور کرانے میں حرج نہیں۔
مختلف گاہکوں سے الگ الگ قیمتوں پر سامان فروخت کرنا
سوال:-  میں تجارت کے پیشہ سے تعلق رکھتا ہوں ، گاہک کی صلاحیت اور اس کی گنجائش کے    لحاظ سے سامان بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے ، کسی سے زیادہ قیمت پر بات ہوجاتی ہے اور کسی سے کم پر، توکیا یہ بات جائز ہے کہ ایک ہی سامان کو کسی سے زائد قیمت پر اور کسی سے کم قیمت پر بیچا جائے؟(عبدالجلیل قاسمی، میسور)
جواب :-  اگرسونے کی سونے سے،چاندی کی چاندی سے یاایک ہی کرنسی کی اسی کرنسی سے خریدوفروخت نہ ہوتوشریعت میں سامان بیچنے اور خریدنے کے لئے قیمت کی کوئی شرح متعین نہیں ہے ؛ البتہ کسی کی سادہ لوحی یا مجبوری کو دیکھتے ہوئے اتنی قیمت لگادینا کہ وہ مارکٹ میں اس شئے کی مروجہ زیادہ سے زیادہ قیمت سے بھی بڑھ جائے ، مکروہ ہے ، اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’ غبن فاحش ‘ کہتے ہیں ؛ لیکن فروخت کرنے والا اس بات کا پابند نہیں ہے کہ وہ ایک گاہک سے جو قیمت لے ،دوسرے سے بھی وہی قیمت لے ، وہ کسی سے زیادہ اور کسی سے کم قیمت بھی لے سکتا ہے ، بس یہ ضروری ہے کہ آپسی رضامندی سے قیمت طئے پائے ، جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ إِلاَّ ٓأَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ‘‘ ۔ (النساء : ۲۹)
قبضہ سے پہلے فلیٹ فروخت کرنا
سوال:-  زید نے ایک فلیٹ خریدا ہے ، خرید و فروخت کا معاملہ طے ہوگیا ہے اور فلیٹ بھی بن چکا ہے ؛ لیکن ابھی بلڈر نے اس کے حوالہ نہیں کیا ہے ، زید اب اسے دوسرے کو فروخت کرنا چاہتا ہے ، کیا وہ ایسا کرسکتا ہے ؟ (محمد کوثر، چارمینار)
جواب :-  جو چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہیں ، جیسے : کپڑا ، اناج ، فرنیچر اور دوسری اشیاء ، ان کو اس وقت تک بیچنا جائز نہیں ہے، جب تک قبضہ میں نہ آجائے ؛ لیکن جو چیزیں اس نوعیت کی نہیں ہیں اور وہ ایک ہی جگہ برقرار رہتی ہیں ، جیسے زمین اور مکان ، ان کو قبضہ سے پہلے بھی بیچنا درست ہے ، فلیٹ ایسی ہی چیزوں میں ہے ؛ اس لئے زید اسے قبضہ حاصل ہونے سے پہلے بھی فروخت کرسکتا ہے :’’ ولا تجوز بیع مالم یقبض من الأشیاء المبیعۃ إلا العقار‘‘ ۔ (شرح مختصر الطحاوی : ۳؍۱۱۰)
٭٭٭