Thu, Feb 25, 2021

آئین کے مندر میں مذہبی روایت کا آغاز
سیماب اختر
9199112324

7 فروری 1921 کو بہار اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ صد سالہ تقریب کا آغاز 7 تاریخ کو ہوا۔ جس میں وزیر اعلی ، نائب وزیر اعلی ، اسپیکر اور سبھی منتخب نمائندگان نے آئین کے تحفظ کے عزم کو دہرایا اور اپنے آپ کو عوام کے لئے وقف رکھنے کا عزم مصم بھی لیا۔ بہار اسمبلی کے مرکزی ہال میں دونوں ایوانوں کے سابقہ اور موجودہ اراکین نے اس تاریخی تقریب میں شرکت کی۔ اسمبلی اجلاس کے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسمبلی کی موجودہ عمارت میں 7 فروری 1921 کو پہلا اجلاس ہوا۔ اس وقت بہار ، اڑیسہ قانون ساز کونسل کہلاتی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر اے ایم وڈ نے رومن ایمفی تھیٹر کے طرز پر کیا تھا۔ اسمبلی کی پہلی نشست سے گورنر لاڈ ستندر پرسن سنہا نے خطاب کیا تھا۔ اس وقت اس کے اسپیکر والٹر مانڈ تھے۔ شاید انہوں نے کبھی بھی مذہبی تقریب کو لے کر ذہن میں یہ خاکہ تو نہیں بنایا ہوگا کہ اسمبلی میں مذہبی تقریب یعنی پوجا پاٹھ کی جائے ، لیکن آج آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نو منتخب اسمبلی اسپیکر نے سرسوتی پوجا کا حوالہ دیتے ہوئے آئین کو مضبوط کرنے اور اپنے علم کے ساتھ ساتھ اراکین کے علم میں اضافے کی دلیل دیتے ہوئے سرسوتی ماں کے سامنے چراغاں کیا۔ اس دوران پنڈت موجود تھے۔ اسپیکر کا یہ قدم کتنا درست ہے یہ تو آئین کے جانکار کے ساتھ ساتھ عام ہندوستانی جسے امبیڈکر کے آئین کی تھوڑی بہت بھی جانکاری ہوگی تو وہ یہ سوال کھڑا کر سکتا ہے کہ جس منتخب نمائندے نے اسمبلی میں قدم رکھتے ہوئے یہ حلف لیا ہو کہ میں فلاں آئین پر حلف لیتا ہوں کہ آئین پر ہی چلوں گا وہ آئین جسے امبیڈکر نے دیا ، وہ آئین جو مذہبی منافرت کی جگہ مذہبی روا داری کی بات کرتا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے مذہبی بنیاد پر تعصب و نفرت پھیلانے کی مہم شروع سے رہی ہے۔ اپوزیشن بھلے ہی متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو لیکن آر ایس ایس کی جو آئیڈیالوجی ہے وہ مسلسل وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ہم سب متحد ہو کر مذہب کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں اس دور میں بھی بی جے پی کے لیڈران نفرت کا وائرس پھیلانے میں مصروف ہیں۔ جس سے ملک کی سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ رہا ہے اور شاید اس نقصان کی تلافی کے لئے ہمیں متحد ہو کر بڑی محنت کرنی ہوگی۔ بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیمیں اور بی جے پی ایک ہی سوچ کی حامل رہی ہیں۔ جو ان کے خلاف جاتا ہے انہیں غدار وطن اور مذہب سے نفرت کرنے والا بتا دیا جاتا ہے۔ یہ تفریق برت کر شاید وہ اپنے مشن میں کامیاب تو ہو جاتے ہیں لیکن آئین کے ساتھ بھدا مذاق ہو رہا ہے۔ بہار اسمبلی نے کئی تاریخ رقم کی ہے۔ جے پی سے لے کر لوہیا کے ساتھ ساتھ غلام سرور ، جابر حسین کے علاوہ اور بھی کئی معتمد لوگوں نے قانون سازیہ کے اجلاس یا اجلاس کے بعد کبھی بھی مذہبی تقریب منعقد نہیں کی۔ لیکن پہلی بار وجے سنہا نے سرسوتی پوجا کی شروعات کی ہے اور یہ تقریب بہار اسمبلی کے لائبریری میں منعقد کر دی گئی۔ جب ان سے میڈیا اہلکار نے سوال کیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے منہ چرانے کی کوشش کی کہ کبھی نہ کبھی تو اس طرح کی پوجا ہوئی ہوگی۔ یعنی ہو سکتا ہے سنگ بنیاد کے وقت پوجا ہوئی تو میں اس بنیاد کو پوجا کی بنیاد بنا کر سرسوتی کی پوجا شروع کی ہے۔ جمہوریت کے سب سے بڑے مند رمیں آئین کی دھجیاں اڑی ہیں یا نہیں یہ تو وہی بتائیں گے جو آئین پر حلف لیتے ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کا سب سے بڑا مندر بتاتے ہوئے کہا کہ بہار اسمبلی میں ماں سرسوتی سب کے لئے علم اور عقل میں اضافہ کریں گی اسی لئے ہم نے پوجا کی تقریب منعقد کی ہے۔ ہم لوگ بھول گئے تھے ، بھٹک گئے تھے لیکن اب پھر سے لوک تنتر کے سب سے بڑے مندر میں سب کے لئے عقل اور تعلیم کے غرض سے مذکورہ تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ 100 سال کی تاریخ میں پہلی بار وجے سنہا نے اس کی شروعات کی ہے۔ حالانکہ خود ان کی پارٹی کے یعنی اسپیکر بی جے پی سے ہیں اور بی جے پی سے ہی دو ڈپٹی سی ایم تارکیشور ، رینو دیوی ہیں لیکن ان دونوں نے بھی اس تقریب سے دوری بنا لی۔ وجے سنہا کے ساتھ صرف اور صرف ودھان سبھا کے ملازمین تھے۔ اپوزیشن کے کئی لیڈران سے اس مسئلے پر بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہمارا سماج کو جواب نہیں ملا۔ میرا ماننا ہے کہ بہار اسمبلی یا اس جیسی عمارت جہاں ہر شخص کا اپنا آئینی حق ہو اپنا آئینی دعوی ہو وہاں کسی بھی طرح کی مذہبی تقریب منعقد کرنا غلط ہے۔ آئین کے مندر میں مذہبی روایت کا آغاز کیا گیا ہے اور امید ہے کہ اس جمہوریت میں شاید اپنے سیاسی نفع نقصان کے مد نظر اپوزیشن لیڈر تو زبان بھی نہیں کھولیں گے۔ اس لئے کہ آئین سے زیادہ ووٹ بینک کی فکر رکھنے والے اپوزیشن پر حکومت یعنی بی جے پی کے ساتھ ساتھ آر ایس ایس کے لوگ پوری طرح حاوی ہیں۔ جمہوریت بھارت کا دستور اعلی ہے۔ اس ضخیم قانونی دستاویز میں جمہوریت کے بنیادی سیاسی نکات اور حکومتی اداروں کے ڈھانچہ ، طریقہ کار ، اختیارات ، ذمہ داریوں ، بنیادی حقوق ، رہنما اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ آئین ہند کے مطابق بھارت میں دستور کو پارلیمان پر فوقیت حاصل ہے لیکن آئین ہند کی تمہید پر بھی عمل در آمد نہیں ہو رہا ہے۔ ایک اسپیکر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جس آئین پر حلف دلاتا ہے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو اور اگر اسمبلی کی کارروائی میں آئین کے خلاف کوئی بھی منتخب لیڈر خواہ وہ وزیر ہو یا ایم ایل اے ہو اسے معطل کرنے کا اختیار تک رکھتا ہے۔ لیکن مذہبی معاملات انسان کا ذاتی معاملہ ہے اس لئے اسے عام مقامات یعنی جہاں وہ مامور ہو وہاں تو انہیں اور بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اگر کسی ایک مذہب کے ماننے والے نے اپنے آپ پر مذہبی ریتی رواج کو حاوی کیا تو کل کو کوئی اور اپنے مذہب کے مطابق پوجا ، عبادت کا آغاز کرے گا اور پھر ہم آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جذباتی طور پر فیصلہ لینے لگیں گے۔ جو شاید ملک کی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کے منافی ہے۔