Thu, Feb 25, 2021

اولاد کی تربیت – ایک اہم فریضہ
مفتی محمد عبداللہ قاسمی
استاد فقہ وادب دارالعلوم حیدرآباد
موبائل نمبر:8688514639

اولاد اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے، والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کے دل کا سرور ہیں، اولاد گلشن انسانی کے نودمیدہ پھول ہیں جو دلوں کی خزاں رسیدہ کھیتیوں کو ذوق نمو عطا کرتے ہیں، اور انسانی زندگی میں مسرت اور خوشیاں بکھیرتے ہیں، اولاد ہی سے والدین کی زندگی میں دلکشی و رعنائی ہے ،جاذبیت اور زیبائی ہے ،نیک اور صالح اولاد بڑھاپے میں والدین کے لئے مضبوط سہارا بنتے ہیں، اور مرنے کے بعد ان کے لئے صدقہ جاریہ ثابت ہوتے ہیں، اولاد کی اہمیت ان سے پوچھیے جنہیں اللہ تبارک و تعالی نے اس نعمت سے محروم رکھا ہے ،وہ اولاد کی نعمت سے مالا مال ہونے کے لئے کیسی کیسی کوششیں کرتے ہیں، اور کیسی کیسی تدابیر اختیار کرتے ہیں، بعض نادان اور جاہل قسم کے لوگ تو اس کے لئے مزاروں پر جاتے ہیں، مختلف عاملوں سے رجوع ہوتے ہیں اور طرح طرح کے شرکیہ اعمال میں وہ مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اولاد کی تربیت ایک کٹھن اور صبر آزما عمل
اولاد کی نعمت کی صحیح اور حقیقی قدردانی یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کی دینی تربیت کریں ،اور اسلامی مزاج ان کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں،واقعہ یہ ہے کہ اولاد کی تربیت ایک کٹھن اور صبر آزما عمل ہے،یہ ایک طرف مسلسل محنت اور جدوجہد کا متقاضی ہے تو دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ والدین اولاد کے طبائع اور اس کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہوں،تربیت کی خارزار وادی کو بحسن و خوبی قطع کرنے کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ والدین کی شخصیت دو متضاد عناصر کی سنگم ہو،اس کے اندر نرمی ہو تو گرمی بھی، جمال ہو تو جلال بھی، شبنم ہو تو شعلہ بھی،اولاد کی صحیح اور پختہ تربیت کے لیے ان امور کا ہونا بے حد ضروری ہے، ان کے بغیر اولاد کی دینی تربیت صحیح طور پر مشکل ہے۔
اولاد کی دینی تربیت سے غفلت اور لاپرواہی
آج کے دور میں اولاد کی دینی تربیت اور ان کے اندر صحیح اسلامی مزاج پیدا کرنے سے مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی برتی جارہی ہے،ان کے اخلاق اور رجحانات کو صحیح اور مثبت رخ دینے میں سستی اور سہل انگاری برتی جا رہی ہے،بعض والدین اپنے بچوں کے پیچھے صحیح طور پر وقت نہیں دیتے ہیں،ان کے شب و روز کے معمولات( rotation ) کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ صبح سویرے بیدار ہوتے ہیں، اور ناشتہ کر کے ملازمت( duty )پر چلے جاتے ہیں،پھر رات دیر گئے تھک ہار کرگھر واپس ہوتے ہیں ،اور کھانا کھا کر بستر پر دراز ہو جاتے ہیں،نہ بچوں کی تربیت کا خیال نہ ان کی شب وروز کی سرگرمیوں کی کوئی فکر،کبھی کسی وجہ سے گھر پر وقت بھی گزارتے ہیں تو دن کا بیشتر حصہ خود کو ٹیلیویژن پر مصروف رکھتے ہیں،اوربچوں کے شورشرابے سے بچنے کے لئے انہیں کارٹون یا ویڈیو گیمز میں مشغول کردیتے ہیں،اولاد کے حوالے سے ان کے اندر شفقت اور نرمی کا عنصر کچھ اتنا زیادہ غالب ہوتا ہے کہ ان کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، ان کی بڑی سے بڑی کوتاہیوں کو برداشت کرجاتے ہیں، ان کی ہر بجا وبے جا فرمائش کو پوری کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔
اولاد کی تربیت میں حد سے زیادہ غصہ اور سختی نقصان دہ
بعض والدین کو اپنی اولاد کی دینی تربیت کی فکر ہوتی ہے،اور وہ انہیں واقعی دینی سانچہ میں ڈھالنے کے لئے سنجیدہ ہوتے ہیں؛لیکن بچوں کی تربیت کرتے وقت گرمی اور جاہ وجلال کی لہر ان پر کچھ ایسی غالب ہوتی ہے کہ بچے نفسیاتی طور پر اپنے والد سے خائف رہتے ہیں،اور ان کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں،والد محترم گھر تشریف لے آئیں تو بچے گھر کے ایک گوشے میں پناہ لے لیتے ہیں، اور والد کی ڈانٹ ڈپٹ سننے اور ان کی داروگیر سے بچنے کے لئے گھر کے کسی ایک زاویہ میں رہنے ہی کو باعث اطمینان سمجھتے ہیں،والدین کا یہ طرز عمل بھی بچوں کی صحیح دینی تربیت میں مخل ثابت ہوتا ہے ، اور بسا اوقات اس سے سے نفع کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
اولاد کی گمراہی اور بے راہ روی کا المیہ
موجودہ دور چوں کہ سوشل میڈیا کا دور ہے،ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک میڈیا نے نے دنیا کے فاصلوں کو ختم کر دیا ہے،اور پورے عالم کو ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے،دوسری طرف یہ پلیٹ فارم آج کے دور میں محدود نہیں رہا ؛ بلکہ اس تک ہر کس و ناکس کی پہونچ ہو گئی ہے،کیا چھوٹا کیا بڑا ،کیا عالم کیا جاھل ،کیا مرد کیا عورت ہر کوئی اس کو استعمال کر رہا ہے،اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے سےدنیا بھر کی دینی و دنیاوی معلومات تک اس کی رسائی آزادانہ طور پر ہو رہی ہے،اور چوں کہ وہ پہلے سے خالی الذہن ہوتے ہیں،صحیح اور پختہ دینی تربیت سے وہ محروم ہوتے ہیں، اس لیے گمراہ کن افکار و خیالات جسے عمدہ اور خوشنما انداز میں پیش کیا گیا ہو بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں،اور ملحدانہ افکار و خیالات کو اپنا لیتے ہیں،اگر اللہ تبارک و تعالی نے زبان و بیان کا ملکہ عطا کیا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ وہ چرب زبان بھی ہو تو وہ ملحدانہ اور غیر دینی نظریات کا پرجوش حامی اور داعی بن جاتا ہے، اور بہت سے سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان و یقین پر ڈاکہ ڈالتا ہے،اور وہ بہت سے نت نئے فتنوں کے لئے راہ ہموار کرتا ہے،والدین اس خوش فہمی میں ہوتے ہیں کہ ہم نے انہیں دینی ماحول عطا کیا،صوم وصلاۃ اور قرآن کریم کی تلاوت کا پابند بنایا ،روزمرہ کی دعائیں اور احادیث یاد کرانے کا اہتمام کرایا،انہیں یہ زعم ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ میرا بچہ نیک اور صالح ہے، اور یہ میرے لئے آخرت میں سرمایہ ثابت ہو گا،لیکن چوں کہ وہ آزادانہ طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں،دوسری طرف وہ اپنے گھر میں میں سرپرستوں کی سختی اور تند مزاجی کی وجہ سے سے اظہار خیال کرنے سے کتراتے ہیں، اس لئے وہ ذہنی طور پر اغواء ہوجاتے ہیں ، کبھی مغربی تہذیب کی ظاہری چکا چوند سے مرعوب ہو جاتے ہیں تو کبھی ملحد و دین بیزارلوگوں کے وہ آلہ کار بن جاتے ہیں،اور ان کے والدین جو دینی مزاج کے حامل ہوتے ہیں ان کو اس کی کانوں خبر بھی نہیں ہوتی،اور جب انہیں اس کی خبر ہوتی ہے تو معاملہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے ،اور اولاد کی واپسی جادہ حق کی طرف مشکل ہو جاتی ہے،اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو صحیح اور پختہ دینی تربیت فراہم کریں،اور تربیت میں سختی اور گرم مزاجی کے ساتھ ساتھ نرمی اور شفقت و محبت کا بھی امتزاج رکھیں،بچوں کو بار بار ٹٹولیں، اور دینی افکار و نظریات کے حوالے سے ان سے تبادلہ خیال کریں۔
اولاد کی تربیت کے لیے ایک رہنما اصول
ایک روایت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہلو کی جانب خاص طور پر توجہ دلائی ہے،چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:تم لوگ اولاد کی عزت کرو اور ان کو اسلامی آداب سے آراستہ کرو،(ابن ماجہ ، حدیث نمبر:3671) اس حدیث پاک میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جیسے اولاد پر والدین کا ادب و احترام اور ان کی عزت کرنا ضروری ہے ایسے ہی والدین کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو عزت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں ،خاص طور سے جب وہ بڑے ہو جائیں تو ان کے ساتھ کوئی ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جس سے ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتاہو ،اور وہ اسے اپنی تذلیل اور اہانت سمجھ بیٹھیں، یہ دوستانہ ماحول جب اولاد اور ماں باپ کے مابین پروان چڑھے گا تو آزادی کے ساتھ باہم تبادلہ خیال کی راہ بھی آسان ہوگی، اور ایک دوسرے کے افکار و نظریات سے واقف ہونے کا بھی موقع فراہم ہوگا، انہیں اندازہ ہوگا کہ ہمارا بچہ ملحدانہ افکار و نظریات کے خس و خاشاک میں بہہ تو نہیں گیا ؟ نگاہوں کو خیرہ کرنے والی مغربی تمدن سے کہیں وہ مرعوب تو نہیں ہوگیا؟کسی ملحد اور زندیق کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر اس کے غلط افکار و خیالات کو کہیں اس نے اپنا تو نہیں لیا؟جب ہم اولاد کو قریب کریں گے، محبت اور نرمی کے ساتھ ان سے پیش آئیں گے تو پھران کے ذہن و دماغ میں سر اٹھانے والے شبہات کی بھی بتدریج حکمت کے ساتھ اصلاح بھی آسان ہوگی۔
بچوں کے عقائد کی درستگی
والدین کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے افکار و خیالات کا زاویہ درست کریں، اسلامی عقائد کے حوالے سے پختہ اور غیر متزلزل یقین ان کے دلوں میں بٹھائیں ،حضرت لقمان جو بہت بڑے حکیم اور دانا تھے انہوں نے اپنے صاحبزادے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ،(لقمان:)توحید اور خدائے ذوالجلال کے یکتا ہونے کا عقیدہ تمام خوبیوں اور کمالات کی بنیاد ہے، اسی لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کے دل میں سب سے پہلے اللہ کے ایک ہونے کا یقین بٹھائیں، کائنات کے سارے پرزے اللہ ہی کے اشارے اور اسی کی مرضی سے کام کر رہے ہیں، اللہ کی مشیت کے بغیر ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، ہر طرح کے خیر و شراور نفع نقصان کا مالک وہ ایک ذات ہے، اس بات کو ان کے ذہن میں مستحضر کریں ،صحابہ کے ایمان افروز واقعات سنا کر ان کے دلوں میں ایمان ویقین کے ننھے پودے کی آبیاری کریں، اور ان کے اندر صحیح دینی شعور پیدا کریں ۔
بچوں کو روز مرہ کی دعائیں پڑھانے کا اہتمام
بچوں کو روزمرہ کی دعائیں اور احادیث جیسے ہم یاد کراتے ہیں ایسے ہی اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم ان کا مفہوم انہیں سمجھائیں ،نبوی دعاؤں کی حکمتوں اور مصلحتوں سے انہیں آگاہ کریں، اور اذکار وادعیہ کے فوائد اور ثمرات سے انہیں روشناس کرائیں، نیز اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ بچوں کا شعوری طور پر اذکار وادعیہ پڑھنے کا معمول ہے یا نہیں ،وقت پر دعاؤں کے پڑھنے کا اہتمام کرتے ہیں یا نہیں ،اگر اس میں کوئی کوتاہی دیکھیں تو محبت اور نرمی سے اصلاح کریں اور انہیں نبوی دعائیں پڑھنے کا خوگر بنا ئیں۔
بچوں کو دین و شریعت کامکمل پابند بنائیں
آپ اپنے بچوں کو اعلی سے اعلی تعلیم دلائیے،ڈاکٹر بنائیے، انجینئر بنائیے ،پروفیسر بنائیے، دنیاوی لحاظ سے بڑی سے بڑی ڈگری کا حامل بنائیے، لیکن سب سے پہلے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پورے طور پر دیندار بنائیں، شریعت کے احکام کا پابند بنائیں، اسلامی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے غیور بنائیں، اسلامی نظام ہی دنیا میں سب سے بہتر ین نظام ہے اور اسی کے زیر سایہ پوری انسانیت کو امن اور اطمینان نصیب ہو سکتا ہے ،اسلام کے علاوہ کوئی ایسا نظام زندگی پیش نہیں کیا جاسکتا جو انسانیت کو درپیش مسائل اور مشکلات کا صحیح اور متوازن حل پیش کر سکے،اس بات کا غیر متزلزل یقین ان کے دلوں میں پیدا کریں ، اور اپنی زندگی اورحیات ہی میں اس بات کا یقین کر لیں کہ میرے مرنے کے بعد میرے بچے عمل صالح پر جمے رہیں گے، دین و شریعت سے وابستگی ان کی قائم رہے گی ،اور صراط مستقیم سے وہ سرمو انحراف نہیں کریں گے، اس سلسلے میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا اسوہ ہمارے لئے مشعل راہ اور رفیق خضر ہے ،جب ان کے انتقال کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بعد تم کس چیز کی پرستش کرو گے ،تمام بیٹوں نے جواب دیا ہم ایک اللہ کی عبادت کریں گے جس کی عبادت آپ اور آپ کے آباء و اجداد حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کرتے تھے، بیٹوں کی طرف سے یہ اطمینان بخش جواب سننے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی روح پرواز کر گئی، مذکورہ بالا واقعہ جسے اللہ تبارک و تعالی نے خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اس میں ہمارے لئےعبرت اور نصیحت کا سامان ہے،اولاد کی دینی تربیت اور انہیں دینی سانچے میں ڈھالنے کی دعوت عمل موجود ہے ۔
بچوں کی تربیت کے حوالے سے ہمارا افسوسناک رویہ
ہمارے اسلاف اور اکابرین امت اپنی اولاد کی دینی تربیت کا خاص خیال رکھا کرتے تھے،اور اس کے لیے بہترین اور اعلی مربی کا انتظام کیا کرتے تھے،اس سلسلہ میں ان کی جو غیر معمولی دلچسپی تھی آج کے دور میں اس کا تصور بھی مشکل ہے ،آج ہم بھاری فیس دے کر اپنے بچوں کو اعلی سے اعلی تعلیم دلاتے ہیں ،بچہ بیمار پڑ جائے تو مہنگے سے مہنگے ہسپتال میں بچے کا علاج کرتے ہیں ،لیکن افسوس ہم بچوں کی دینی تربیت کا کوئی خاص انتظام نہیں کرتے، اور ہم اس سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں،ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اس کوتاہی پر قابو پانے کی کی کوشش کریں ،اور بچوں کی تربیت کے لئے مضبوط اور سنجیدہ لائحہ عمل بنائیں ۔
نیک صالح اولاد انسان کے لیے صدقہ جاریہ
نیک اولاد انسان کے لیے قیمتی اور گراں مایہ سرمایہ ہوتی ہے، مرنے کے بعد جب انسان کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ، اور اس وقت وہ چاہ کر کے بھی کوئی نیکی اور خیر کا کام انجام نہیں دے سکتا،ایسے وقت نیک اور صالح اولاد ہی انسان کے کام آتی ہے ،اور اسی کی وجہ سے والدین کو مرنے کے بعد بھی مسلسل ثواب پہنچتا رہتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے؛ لیکن تین چیزوں کا ثواب اس کو برابر پہنچتا رہتا ہے،صدقہ جاریہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، نیک صالح اولاد جواس کے لیے دعا کرے ۔(مسلم)